وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کا اسلام آباد میں خطاب: موسمیاتی چیلنجز اور حکومتی اقدامات

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کا اسلام آباد میں خطاب: موسمیاتی چیلنجز اور حکومتی اقدامات

اسلام آباد میں موسمیاتی لچک سے متعلق تقریب میں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی صوبے کے لیے دہشت گردی سے بھی بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ حکومت ٹرانسپورٹ، زراعت اور توانائی کے شعبوں میں اصلاحات کے ساتھ کلائمیٹ فنڈ، الیکٹرانک بس سروس اور پانی کے مؤثر استعمال جیسے اقدامات پر کام کر رہی ہے۔ تقریب میں وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر رومینہ خورشید عالم نے بھی کہا کہ بلوچستان کی ماحولیاتی لچک پاکستان کی معیشت کے لیے ضروری ہے، اسی لیے وفاق اور صوبہ مل کر جامع حکمت عملی بنا رہے ہیں۔

رپورٹ: سیدہ نتاشا

اسلام آباد میں موسمیاتی تبدیلی کے خلاف لچک پیدا کرنے سے متعلق منعقدہ تقریب میں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے خطاب میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی بلوچستان کے لیے دہشت گردی سے بھی بڑا مسئلہ بن چکی ہے، کیونکہ بلوچستان اُن خطوں میں شامل ہے جو اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت موسمیاتی تبدیلی کے لیے جامع اور مؤثر پالیسی تشکیل دے رہی ہے تاکہ سیلاب، خشک سالی اور غیر معمولی موسمی اثرات سے نمٹنے کے لیے مضبوط نظام تشکیل دیا جا سکے۔


ان کے مطابق ٹرانسپورٹ، زراعت اور توانائی کے شعبوں میں اصلاحات پر تیزی سے کام جاری ہے، جبکہ صوبے میں الیکٹرانک بس سروس کے فروغ، پانی کے مؤثر استعمال اور کاربن مارکیٹ فریم ورک کی تیاری جیسے اقدامات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں ایک طرف خشک سالی ہے تو دوسری طرف تباہ کن سیلاب آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے کلائمیٹ فنڈ قائم کیا ہے جسے مختلف ادارے اور اسٹیک ہولڈرز قبول کر رہے ہیں۔
انہوں نے سیکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں امن قائم رکھنا مسلسل چیلنج ہے ، اس کے باوجود حکومت ایک ایک انچ کو محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
تقریب سے وزیرِ اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کی معیشت پر گہرا اثر ڈال رہی ہے جبکہ بلوچستان ملک کی معاشی ترقی کا دروازہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بلوچستان موسمیاتی دباؤ کا شکار رہے گا تو پاکستان کی مجموعی اقتصادی رفتار بھی متاثر ہوگی، اس لیے بلوچستان میں ماحولیاتی لچک پیدا کرنا قومی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
رومینہ خورشید عالم نے مزید کہا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر مربوط حکمت عملی کے بغیر موسمیاتی چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹا نہیں جا سکتا۔
وزیرِ اعلیٰ اور وفاقی نمائندوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے مشترکہ اور پائیدار اقدامات جاری رہیں گے۔


Related News

Funeral Prayers Offered for Ziarat Attack Martyrs, Policemen Laid to Rest with State Honours
Funeral Prayers Offered for Ziarat Attack Martyrs, Policemen Laid to Rest with State Honours
Balochistan Delegation Visits Sukkur Barrage to Secure Province's Water Share
Balochistan Delegation Visits Sukkur Barrage to Secure Province's Water Share
Two Health Facilities in Ziarat to Be Renamed After Martyred Police Personnel
Two Health Facilities in Ziarat to Be Renamed After Martyred Police Personnel
Koila Phatak Chowk Renamed as Shuhada-e-Ziarat Chowk in Tribute to Ziarat Police Martyrs
Koila Phatak Chowk Renamed as Shuhada-e-Ziarat Chowk in Tribute to Ziarat Police Martyrs
PDMA Issues Flash Flood Alert for Balochistan Until July 23
PDMA Issues Flash Flood Alert for Balochistan Until July 23
Balochistan Government, Dharna Committee Reach Agreement on Ziarat Martyrs' Demands
Balochistan Government, Dharna Committee Reach Agreement on Ziarat Martyrs' Demands