قومی ترانے کے شاعر حفیظ جالندھری کی آج 43ویں برسی

قومی ترانے کے شاعر حفیظ جالندھری کی آج 43ویں برسی

آج اردو زبان کے مشہور شاعر، افسانہ نگار اور قومی ترانے کے خالق  حفیظ جالندھری  کی 43ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ حفیظ جالندھری کا اصل نام محمد حفیظ  اور کنیت ابوالاثر  تھی، لیکن وہ اپنے قلمی نام حفیظ جالندھری  سے مشہور ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد 47 سال کی عمر میں حفیظ جالندھری لاہور آ بسے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں متعدد اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں، جن میں پاک فوج میں ڈی جی مورال، صدر پاکستان کے چیف ایڈوائزر  اور  رائٹرز گلڈ  کے ڈائریکٹر کے منصب شامل ہیں۔ حفیظ جالندھری کا سب سے بڑا کارنامہ ’شاہنامہ اسلام  اور  پاکستان کا قومی ترانہ  تخلیق کرنا ہے۔ وہ خود کو غزل گو کہلوانا پسند کرتے تھے، لیکن انہوں نے سادہ اور دل کو چھو لینے والی زبان میں ایسے گیت تخلیق کیے جو آج بھی لوگوں کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ ان کی مشہور تخلیقات میں شعری مجموعے  جیسے نغمہ زار، تلخابہ شیریں اور سوزو ساز،  افسانوں کا مجموعہ  ہفت پیکر، اور  گیتوں کے مجموعے  ہندوستان ہمارا اور پھول مالی شامل ہیں۔ بچوں کے لیے بھی انہوں نے کئی نظمیں اور منفرد کتاب  چیونٹی نامہ تخلیق کی۔ حفیظ جالندھری 21 دسمبر 1982ء کو وفات پا گئے اور وہ  منٹو پارک لاہور  میں مینارِ پاکستان کے سائے تلے  آسودہ خاک ہیں۔ ان کی شاعری، ادبی تخلیقات اور پیغام آج بھی پاکستان اور اردو ادب کے لیے مشعل راہ ہیں۔

قومی ترانے کے شاعر حفیظ جالندھری کی آج 43ویں برسی

رپورٹ : اقصی بلوچ
آج اردو زبان کے مشہور شاعر، افسانہ نگار اور قومی ترانے کے خالق  حفیظ جالندھری  کی 43ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ حفیظ جالندھری کا اصل نام محمد حفیظ  اور کنیت ابوالاثر  تھی، لیکن وہ اپنے قلمی نام حفیظ جالندھری  سے مشہور ہوئے۔
قیام پاکستان کے بعد 47 سال کی عمر میں حفیظ جالندھری لاہور آ بسے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں متعدد اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں، جن میں پاک فوج میں ڈی جی مورال، صدر پاکستان کے چیف ایڈوائزر  اور  رائٹرز گلڈ  کے ڈائریکٹر کے منصب شامل ہیں۔

حفیظ جالندھری کا سب سے بڑا کارنامہ شاہنامہ اسلام  اور  پاکستان کا قومی ترانہ  تخلیق کرنا ہے۔ وہ خود کو غزل گو کہلوانا پسند کرتے تھے، لیکن انہوں نے سادہ اور دل کو چھو لینے والی زبان میں ایسے گیت تخلیق کیے جو آج بھی لوگوں کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔
ان کی مشہور تخلیقات میں شعری مجموعے  جیسے نغمہ زار، تلخابہ شیریں اور سوزو ساز،  افسانوں کا مجموعہ  ہفت پیکر، اور  گیتوں کے مجموعے  ہندوستان ہمارا اور پھول مالی شامل ہیں۔ بچوں کے لیے بھی انہوں نے کئی نظمیں اور منفرد کتاب  چیونٹی نامہ تخلیق کی۔
حفیظ جالندھری 21 دسمبر 1982ء کو وفات پا گئے اور وہ  منٹو پارک لاہور  میں مینارِ پاکستان کے سائے تلے  آسودہ خاک ہیں۔ ان کی شاعری، ادبی تخلیقات اور پیغام آج بھی پاکستان اور اردو ادب کے لیے مشعل راہ ہیں۔


Related News

Funeral Prayers Offered for Ziarat Attack Martyrs, Policemen Laid to Rest with State Honours
Funeral Prayers Offered for Ziarat Attack Martyrs, Policemen Laid to Rest with State Honours
Balochistan Delegation Visits Sukkur Barrage to Secure Province's Water Share
Balochistan Delegation Visits Sukkur Barrage to Secure Province's Water Share
Two Health Facilities in Ziarat to Be Renamed After Martyred Police Personnel
Two Health Facilities in Ziarat to Be Renamed After Martyred Police Personnel
Koila Phatak Chowk Renamed as Shuhada-e-Ziarat Chowk in Tribute to Ziarat Police Martyrs
Koila Phatak Chowk Renamed as Shuhada-e-Ziarat Chowk in Tribute to Ziarat Police Martyrs
PDMA Issues Flash Flood Alert for Balochistan Until July 23
PDMA Issues Flash Flood Alert for Balochistan Until July 23
Balochistan Government, Dharna Committee Reach Agreement on Ziarat Martyrs' Demands
Balochistan Government, Dharna Committee Reach Agreement on Ziarat Martyrs' Demands