زبان و ادب کی خدمت، خاران میں چار تصانیف کی بیک وقت رونمائی

زبان و ادب کی خدمت، خاران میں چار تصانیف کی بیک وقت رونمائی

خاران :  نصیر کبدانی لبزانکی دیوان کے زیر اہتمام چار اہم کتابوں کی تقریبِ رونمائی گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج خاران کے ہال میں منعقد ہوئی۔ رونمائی کی گئی کتابوں میں تین بلوچی زبان جبکہ ایک کتاب اردو زبان میں تحریر کی گئی ہے۔ تقریب میں خاران کی پہلی خاتون مصنفہ سمیرہ بلوچ کی کتاب "بندہ واب خدا آگاہ"بھی شامل تھی، جس پر معروف قلمکار مسرور شاد نے جامع ادبی و تنقیدی جائزہ پیش کیا۔ دوسری کتاب جلال فراق کا افسانوی مجموعہ "سیدھا موڑ" تھا، جس پر سفر خان راسکوئی اور شازیہ لکی نے تفصیلی ادبی و تنقیدی گفتگو کی۔ تیسری کتاب زبیر شاد کی بلوچی تصنیف "سینگ ھلکے آبادیں" تھی، جس پر احمد مہر نے مدلل اور جامع تبصرہ پیش کیا، جبکہ چوتھی کتاب نورالحق شاہ کی "بام سنج شامل" تھی، جس پر شاہ جی شمیم نے اپنے خیالات اور تنقیدی آرا سے سامعین کو آگاہ کیا۔ تقریب کے مقررین نے کہا کہ نصیر کبدانی لبزانکی دیوان خاران کی جانب سے کتابوں کی رونمائی کے انعقاد کا بنیادی مقصد ادب، زبان اور مقامی تخلیقی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات نہ صرف خاران میں زبان و ادب کے فروغ کی خوبصورت مثال ہیں بلکہ مقامی تخلیق کاروں کی حوصلہ افزائی اور ادبی روایت کو آگے بڑھانے کی ایک مضبوط کوشش بھی ثابت ہوں گی۔

 

زبان و ادب کی خدمت، خاران میں چار تصانیف کی بیک وقت رونمائی



خاران :  نصیر کبدانی لبزانکی دیوان کے زیر اہتمام چار اہم کتابوں کی تقریبِ رونمائی گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج خاران کے ہال میں منعقد ہوئی۔ رونمائی کی گئی کتابوں میں تین بلوچی زبان جبکہ ایک کتاب اردو زبان میں تحریر کی گئی ہے۔

تقریب میں خاران کی پہلی خاتون مصنفہ سمیرہ بلوچ کی کتاب "بندہ واب خدا آگاہ"بھی شامل تھی، جس پر معروف قلمکار مسرور شاد نے جامع ادبی و تنقیدی جائزہ پیش کیا۔ دوسری کتاب جلال فراق کا افسانوی مجموعہ "سیدھا موڑ" تھا، جس پر سفر خان راسکوئی اور شازیہ لکی نے تفصیلی ادبی و تنقیدی گفتگو کی۔

تیسری کتاب زبیر شاد کی بلوچی تصنیف "سینگ ھلکے آبادیں" تھی، جس پر احمد مہر نے مدلل اور جامع تبصرہ پیش کیا، جبکہ چوتھی کتاب نورالحق شاہ کی "بام سنج شامل" تھی، جس پر شاہ جی شمیم نے اپنے خیالات اور تنقیدی آرا سے سامعین کو آگاہ کیا۔

تقریب کے مقررین نے کہا کہ نصیر کبدانی لبزانکی دیوان خاران کی جانب سے کتابوں کی رونمائی کے انعقاد کا بنیادی مقصد ادب، زبان اور مقامی تخلیقی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات نہ صرف خاران میں زبان و ادب کے فروغ کی خوبصورت مثال ہیں بلکہ مقامی تخلیق کاروں کی حوصلہ افزائی اور ادبی روایت کو آگے بڑھانے کی ایک مضبوط کوشش بھی ثابت ہوں گی۔

 

 


Related News

مغلیہ دہلی کے کھانے اور ثقافتی روایات کی جھلک
مغلیہ دہلی کے کھانے اور ثقافتی روایات کی جھلک
مغلیہ دور میں دہلی کے باسی اپنی زبان، طرزِ گفتار اور ثقافت میں دیگر شہروں سے منفرد تھے۔ نہ صرف ان کی نشست و بر...
ادب
ادب
ادب کسی بھی معاشرے کی تہذیب، سوچ اور احساسات کا آئینہ ہوتا ہے۔ یہ انسان کے جذبات، تجربات اور زندگی کے مختلف پہ...