آئینے کی مدد سے شکار کا سراغ لگانے کی صلاحیت، آکٹوپس کی ذہانت کا نیا ثبوت
امریکہ کی ڈارٹماؤتھ یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آکٹوپس آئینے کی مدد سے پوشیدہ شکار کا سراغ لگا سکتے ہیں اور اپنے ماحول کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ یہ نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آکٹوپس میں پیچیدہ ذہنی صلاحیتیں موجود ہیں جو پہلے صرف پرندوں اور ممالیہ جانوروں میں دیکھی جاتی تھیں۔
سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ آکٹوپس نہ صرف غیر معمولی ذہانت رکھتے ہیں بلکہ وہ آئینے کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھنے اور پوشیدہ شکار کا پتہ لگانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
امریکہ کی ڈارٹماؤتھ یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کیے گئے مطالعے میں معلوم ہوا کہ آکٹوپس آئینے میں نظر آنے والی شبیہہ کی مدد سے ایسی خوراک کی جگہ کا تعین کر سکتے ہیں جو براہِ راست ان کی نظروں سے اوجھل ہو۔ ماہرین کے مطابق یہ صلاحیت پہلے صرف بعض ممالیہ جانوروں اور پرندوں میں دیکھی گئی تھی۔
تحقیق کے دوران کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی آکٹوپس کی ایک قسم پر تجربات کیے گئے۔ ابتدا میں انہیں آئینے سے مانوس کیا گیا، جس کے بعد انہیں یہ سمجھنے کی تربیت دی گئی کہ عکس اور حقیقی دنیا کے درمیان کیا تعلق ہوتا ہے۔
بعد ازاں آزمائشی مرحلے میں آکٹوپس کو ایک ایسی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا جہاں انہیں آئینے میں دکھائی دینے والی شبیہہ کی بنیاد پر خوراک کی اصل جگہ کا اندازہ لگانا تھا۔ محققین نے اس مقصد کے لیے حقیقی شکار کے بجائے ایک ورچوئل کیکڑے کی تصویر استعمال کی تاکہ نتائج پر سونگھنے یا چکھنے کی حس اثر انداز نہ ہو۔
تجربات کے دوران آکٹوپس تقریباً 73 فیصد مواقع پر درست سمت کا انتخاب کرنے میں کامیاب رہے۔ مزید یہ کہ وقت گزرنے کے ساتھ وہ مطلوبہ مقام تک زیادہ تیزی سے پہنچنے لگے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے آئینے سے حاصل ہونے والی معلومات کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا سیکھ لیا تھا۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت ذہانت کے ارتقا کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ انسانوں اور آکٹوپس کا مشترکہ ارتقائی آباؤ اجداد کروڑوں سال پہلے موجود تھا، اس کے باوجود دونوں میں بعض پیچیدہ ادراکی صلاحیتوں کا پایا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مختلف جاندار یکساں مسائل کے حل کے لیے ملتی جلتی ذہنی صلاحیتیں پیدا کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آکٹوپس پیچیدہ سمندری ماحول میں شکار کرتے ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش کا ایک ذہنی نقشہ تشکیل دیتے ہوں، جس کی مدد سے وہ شکار اور نقل و حرکت کے فیصلے کرتے ہیں۔ تاہم اس پہلو کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
اس نئی تحقیق نے آکٹوپس کی ذہانت سے متعلق سائنسی شواہد میں ایک اور دلچسپ اضافہ کر دیا ہے اور ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ یہ سمندری مخلوق غیر معمولی ذہنی صلاحیتوں کی حامل ہے۔

Keywords : Octopus Intelligence, Mirror recognition, Animal Cogniton, Scientific Research