مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی: پاکستان کی تشویش، تمام فریقین پر تحمل اور مذاکرات پر زور
پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر فوری طور پر تحمل، کشیدگی میں کمی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی اپیل کی ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کرکے مذاکرات اور سفارت کاری کو خطے میں پائیدار امن و استحکام کا واحد مؤثر راستہ قرار دیا۔
اسلام آباد: پاکستان نے اتوار کے روز مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، فوری طور پر کشیدگی میں کمی کے لیے اقدامات کریں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد ایم او یو) کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ حملوں کا تبادلہ ہوا ہے جبکہ خلیجی ممالک بھی اس تنازع کی زد میں آ گئے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔
دفتر خارجہ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اطلاعات کے مطابق امریکہ نے ایران پر تازہ حملے کیے، جبکہ ایران نے ایک کنٹینر جہاز کو نشانہ بنانے کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کیا اور خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات پر حملوں میں بھی شدت لائی۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اردن میں امریکی اتحادی کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور ڈرون ہینگرز، کویت میں امریکی ریڈار سائٹ، عمان میں امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے کی معاون اور ایندھن فراہم کرنے والی تنصیبات، جبکہ قطر میں جنگی طیاروں کی دیکھ بھال کے مرکز اور کمانڈ سہولت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
دریں اثنا، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا، جس میں خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق کشیدگی میں کمی لانے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی راہ اختیار کریں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے حل اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کے قیام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔ اسحاق ڈار نے علاقائی امن اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
.jpeg)
Keywords : Middle East Tensions, Pakistan Foreign office, Iran-US Conflict, Islamabad MoU