ایمرجنسی ریسپانس سروس 1122 بلوچستان نے سال 2025 کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے، جو صوبے بھر میں ریسکیو سروسز کی مؤثر اور بروقت خدمات کا واضح ثبوت ہے۔
رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے اکتیس دسمبر دو ہزار پچیس تک 1122 بلوچستان نے قومی اور بین الصوبائی شاہراہوں پر پچیس ہزار سے زائد حادثات اور طبی ایمرجنسیز پر فوری رسپانس فراہم کیا، جبکہ تیس ہزار سے زائد زخمیوں کو بروقت طبی امداد دے کر قیمتی جانیں بچائی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان بھر میں قائم 1122 مراکز نے مجموعی طور پر 25 ہزار 484 حادثات پر ریسپانس دیا، جن میں 33 ہزار 972 زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ ان حادثات کے نتیجے میں 430 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 3 ہزار 259 مریضوں کو او پی ڈی سہولیات فراہم کی گئیں۔ ریسکیو ٹیموں نے جدید سہولیات اور تربیت یافتہ عملے کے ساتھ صوبے کے دور دراز علاقوں تک اپنی خدمات جاری رکھیں۔ خضدار اور ژوب کے ٹراما سینٹرز سمیت مختلف مراکز میں ہزاروں زخمیوں کو فوری طبی سہولت فراہم کی گئی، جس سے اموات کی شرح میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔ قومی شاہراہ این 25، این 50، این 65، این 85 اور این 10 پر قائم ریسکیو مراکز نے دن رات خدمات انجام دیں، جبکہ مکران ڈویژن کے علاقوں میں بھی ریسکیو ٹیموں نے کم وسائل کے باوجود مؤثر کارکردگی دکھائی۔حکام کے مطابق بروقت رسپانس، بہتر کوآرڈینیشن اور پیشہ ورانہ مہارت کے باعث ہزاروں قیمتی جانیں محفوظ بنائی جا سکیں۔ حکام نے مزید بتایا کہ صوبے بھر میں قومی شاہراہوں پر ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں، جن کی تکمیل کے بعد ٹریفک حادثات میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے، اور مستقبل میں ریسکیو نظام کو مزید مضبوط بنانے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
ایمرجنسی ریسپانس سروس 1122 بلوچستان نے سال 2025 کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے، جو صوبے بھر میں ریسکیو سروسز کی مؤثر اور بروقت خدمات کا واضح ثبوت ہے۔
رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے اکتیس دسمبر دو ہزار پچیس تک 1122 بلوچستان نے قومی اور بین الصوبائی شاہراہوں پر پچیس ہزار سے زائد حادثات اور طبی ایمرجنسیز پر فوری رسپانس فراہم کیا، جبکہ تیس ہزار سے زائد زخمیوں کو بروقت طبی امداد دے کر قیمتی جانیں بچائی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان بھر میں قائم 1122 مراکز نے مجموعی طور پر 25 ہزار 484 حادثات پر ریسپانس دیا، جن میں 33 ہزار 972 زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ ان حادثات کے نتیجے میں 430 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 3 ہزار 259 مریضوں کو او پی ڈی سہولیات فراہم کی گئیں۔
ریسکیو ٹیموں نے جدید سہولیات اور تربیت یافتہ عملے کے ساتھ صوبے کے دور دراز علاقوں تک اپنی خدمات جاری رکھیں۔ خضدار اور ژوب کے ٹراما سینٹرز سمیت مختلف مراکز میں ہزاروں زخمیوں کو فوری طبی سہولت فراہم کی گئی، جس سے اموات کی شرح میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔
قومی شاہراہ این 25، این 50، این 65، این 85 اور این 10 پر قائم ریسکیو مراکز نے دن رات خدمات انجام دیں، جبکہ مکران ڈویژن کے علاقوں میں بھی ریسکیو ٹیموں نے کم وسائل کے باوجود مؤثر کارکردگی دکھائی۔حکام کے مطابق بروقت رسپانس، بہتر کوآرڈینیشن اور پیشہ ورانہ مہارت کے باعث ہزاروں قیمتی جانیں محفوظ بنائی جا سکیں۔
حکام نے مزید بتایا کہ صوبے بھر میں قومی شاہراہوں پر ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں، جن کی تکمیل کے بعد ٹریفک حادثات میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے، اور مستقبل میں ریسکیو نظام کو مزید مضبوط بنانے کا عزم بھی ظاہر کیا گیا ہے۔