آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کا نفاذ

آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کا نفاذ

آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگا کر دنیا کا پہلا ملک بننے کی تیاری کرلی ہے۔ اس پابندی کے تحت انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت 10 بڑے پلیٹ فارمز پر کم عمر صارفین کے ایک ملین سے زائد اکاؤنٹس بند کیے جائیں گے۔ رپورٹس کے مطابق اگر کوئی پلیٹ فارم اس قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے 33 ملین امریکی ڈالر تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ والدین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس اقدام کو سراہا ہے، جبکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور آزادی اظہار کے حامیوں نے تنقید کی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس پابندی کے اثرات کو سٹینفورڈ یونیورسٹی اور دیگر 11 ماہرین کی مدد سے دو سال تک جائزہ لیا جائے گا۔ ابتدا میں 10 پلیٹ فارمز شامل ہیں، تاہم فہرست مستقبل میں حالات کے مطابق بدلی جا سکتی ہے۔ کم عمر صارفین کی تصدیق شناختی دستاویزات، بینک اکاؤنٹس یا عمر کا اندازہ لگانے والی ٹیکنالوجی کے ذریعے کی جائے گی۔ البتہ ایلون مسک کے پلیٹ فارم X نے اس پالیسی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انٹرنیٹ تک رسائی کنٹرول کرنے کا طریقہ ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں آسٹریلیا کے اس فیصلے کو غور سے دیکھ رہی ہیں اور اسے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے ایک ممکنہ عالمی ماڈل سمجھا جا رہا ہے۔

آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کا نفاذ

رپورٹ : اقصی بلوچ

آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگا کر دنیا کا پہلا ملک بننے کی تیاری کرلی ہے۔ اس پابندی کے تحت انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت 10 بڑے پلیٹ فارمز پر کم عمر صارفین کے ایک ملین سے زائد اکاؤنٹس بند کیے جائیں گے۔
رپورٹس کے مطابق اگر کوئی پلیٹ فارم اس قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے 33 ملین امریکی ڈالر تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ والدین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس اقدام کو سراہا ہے، جبکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور آزادی اظہار کے حامیوں نے تنقید کی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس پابندی کے اثرات کو سٹینفورڈ یونیورسٹی اور دیگر 11 ماہرین کی مدد سے دو سال تک جائزہ لیا جائے گا۔ ابتدا میں 10 پلیٹ فارمز شامل ہیں، تاہم فہرست مستقبل میں حالات کے مطابق بدلی جا سکتی ہے۔
کم عمر صارفین کی تصدیق شناختی دستاویزات، بینک اکاؤنٹس یا عمر کا اندازہ لگانے والی ٹیکنالوجی کے ذریعے کی جائے گی۔ البتہ ایلون مسک کے پلیٹ فارم X نے اس پالیسی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انٹرنیٹ تک رسائی کنٹرول کرنے کا طریقہ ہے۔
دنیا بھر کی حکومتیں آسٹریلیا کے اس فیصلے کو غور سے دیکھ رہی ہیں اور اسے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے ایک ممکنہ عالمی ماڈل سمجھا جا رہا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 


Related News

New Research Explores Link Between Tourism and Health
New Research Explores Link Between Tourism and Health
Octopuses Show Mirror-Based Hunting Skills, New Study Reveals Signs of Advanced Intelligence
Octopuses Show Mirror-Based Hunting Skills, New Study Reveals Signs of Advanced Intelligence
UNICEF and EPI Balochistan Organize Training Workshop on Misinformation Management and Routine Immunization for Journalists
UNICEF and EPI Balochistan Organize Training Workshop on Misinformation Management and Routine Immunization for Journalists
A Unique Highlight of Artemis II Mission: “Rise” the Small Plush Toy Heads to Space
A Unique Highlight of Artemis II Mission: “Rise” the Small Plush Toy Heads to Space
aroba article
aroba article
China Develops Microwave Weapon to Destroy Drones from 3 km Away
China Develops Microwave Weapon to Destroy Drones from 3 km Away