زمین پر درخت کہکشاں کے ستاروں سے زیادہ: ایک حیران کن سائنسی انکشاف
سائنسی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 3 کھرب درخت موجود ہیں، جو کہکشاں Milky Way کے اندازاً ستاروں سے بھی زیادہ ہیں۔ ماہرین نے یہ تخمینہ سیٹلائٹ ڈیٹا اور زمینی سروے کی مدد سے لگایا۔ تاہم ہر سال انسانی سرگرمیوں کے باعث تقریباً 15 ارب درخت ختم ہو رہے ہیں، جو ماحولیاتی توازن اور موسمیاتی نظام کے لیے خطرہ ہے۔ ماہرین جنگلات کے تحفظ اور شجرکاری کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہیں۔
زمین پر درخت، کہکشاں کے ستاروں سے زیادہ: ایک حیران کن سائنسی انکشاف
تحریر : عروبہ شہزاد
زمین پر درختوں کی تعداد سے متعلق ایک چونکا دینے والا سائنسی انکشاف ماحولیاتی مباحث میں نئی جہت لے آیا ہے۔ عالمی سائنسی جریدے Nature میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 3 کھرب (ٹریلین) درخت موجود ہیں، جو ہماری کہکشاں Milky Way میں موجود اندازاً 100 سے 400 ارب ستاروں سے کہیں زیادہ ہیں۔ ماہرین نے یہ تخمینہ سیٹلائٹ تصاویر، زمینی سروے، جنگلاتی ڈیٹا اور جدید شماریاتی ماڈلز کی مدد سے مرتب کیا، جس نے پہلے کے اندازوں کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا۔
تحقیق کے مطابق دنیا کے بوریل جنگلات خصوصاً روس، اسکنڈے نیویا اور شمالی امریکا کے سرد خطے درختوں کی بڑی تعداد کا مسکن ہیں، جبکہ اشنکٹبندیی علاقوں میں درختوں کی کثافت زیادہ پائی جاتی ہے۔ یہ حقیقت بظاہر حیران کن محسوس ہوتی ہے کیونکہ رات کے آسمان پر بکھرے لاتعداد ستارے انسانی آنکھ کو کائنات کی لامحدود وسعت کا احساس دلاتے ہیں، مگر زمینی حقیقت اس سے بھی زیادہ شاندار ہے کہ ہمارا اپنا سیارہ سبز زندگی سے اس قدر مالا مال ہے۔
ماہرین کے مطابق ایک تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے باعث ہر سال تقریباً 15 ارب درخت ختم ہو رہے ہیں۔ زرعی توسیع، غیر قانونی کٹائی، جنگلاتی آگ اور تیز رفتار شہری پھیلاؤ اس کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔ صنعتی دور کے آغاز سے اب تک دنیا بھر میں درختوں کی مجموعی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جا چکی ہے، جو ماحولیاتی توازن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
درخت محض قدرتی حسن کی علامت نہیں بلکہ زمین کے موسمیاتی نظام کا بنیادی ستون ہیں۔ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے عالمی حدت میں کمی لاتے ہیں، آکسیجن پیدا کرتے ہیں، بارشوں کے نظام کو متوازن رکھتے ہیں اور بے شمار اقسام کی جنگلی حیات کو پناہ دیتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر جنگلات کے تحفظ اور شجرکاری کے عالمی اقدامات میں سنجیدگی نہ دکھائی گئی تو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔یہ سائنسی حقیقت انسان کو قدرت کی وسعت کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داری کا بھی شعور دیتی ہے۔ زمین کا یہ سبز سرمایہ نہ صرف ہماری موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کی بقا اور خوشحالی سے بھی جڑا ہوا ہے۔