چاند پر رہائش کے لیے بننے والے گھر کیسے ہوں گے؟

چاند پر رہائش کے لیے بننے والے گھر کیسے ہوں گے؟

مستقبل میں چاند اور مریخ پر جانے والے انسانوں کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ سے بننے والے گھروں کے نئے ڈیزائن سامنے آ گئے ہیں۔ یہ ڈیزائن ماہر انجینئرز اور ڈیزائنرز نے ناسا کے ایک خصوصی منصوبے کے تحت تیار کیے ہیں۔ ناسا کے سینٹینیل چیلنج کے تحت ماہرین کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ گہری خلائی مہمات کے لیے ایسے رہائشی ڈھانچے بنائیں جو تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تیار کیے جا سکیں۔ یہ چیلنج چار سال تک جاری رہا۔ مقابلے میں پیش کیے گئے گھروں کے ڈیزائن اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ مستقبل میں خلا میں جانے والے انسان کن حالات میں رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔ ان گھروں کی خاص بات یہ ہے کہ انہیں بہت کم انسانی مدد کے ساتھ خودکار طریقے سے بنایا جا سکے گا۔ ناسا کے مطابق ان گھروں کی تعمیر کے لیے زیادہ تر مقامی وسائل استعمال کیے جائیں گے، جیسے چاند یا مریخ کی مٹی، تاکہ زمین سے سامان لے جانے کی ضرورت کم ہو جائے۔ ناسا کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق خلا میں انسانی موجودگی کے لیے محفوظ رہائش انتہائی ضروری ہے، لیکن خلائی جہازوں میں وزن اور جگہ محدود ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ایسی ٹیکنالوجی پر کام کیا جا رہا ہے جس میں ساتھ لائے گئے مواد کو وہاں موجود وسائل کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جا سکے۔

چاند پر رہائش کے لیے بننے والے گھر کیسے ہوں گے؟

پورٹ: اقصی بلوچ

مستقبل میں چاند اور مریخ پر جانے والے انسانوں کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ سے بننے والے گھروں کے نئے ڈیزائن سامنے آ گئے ہیں۔ یہ ڈیزائن ماہر انجینئرز اور ڈیزائنرز نے ناسا کے ایک خصوصی منصوبے کے تحت تیار کیے ہیں۔

ناسا کے سینٹینیل چیلنج کے تحت ماہرین کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ گہری خلائی مہمات کے لیے ایسے رہائشی ڈھانچے بنائیں جو تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تیار کیے جا سکیں۔ یہ چیلنج چار سال تک جاری رہا۔

مقابلے میں پیش کیے گئے گھروں کے ڈیزائن اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ مستقبل میں خلا میں جانے والے انسان کن حالات میں رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔ ان گھروں کی خاص بات یہ ہے کہ انہیں بہت کم انسانی مدد کے ساتھ خودکار طریقے سے بنایا جا سکے گا۔

ناسا کے مطابق ان گھروں کی تعمیر کے لیے زیادہ تر مقامی وسائل استعمال کیے جائیں گے، جیسے چاند یا مریخ کی مٹی، تاکہ زمین سے سامان لے جانے کی ضرورت کم ہو جائے۔

ناسا کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق خلا میں انسانی موجودگی کے لیے محفوظ رہائش انتہائی ضروری ہے، لیکن خلائی جہازوں میں وزن اور جگہ محدود ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ایسی ٹیکنالوجی پر کام کیا جا رہا ہے جس میں ساتھ لائے گئے مواد کو وہاں موجود وسائل کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جا سکے۔

 


Related News

New Research Explores Link Between Tourism and Health
New Research Explores Link Between Tourism and Health
Octopuses Show Mirror-Based Hunting Skills, New Study Reveals Signs of Advanced Intelligence
Octopuses Show Mirror-Based Hunting Skills, New Study Reveals Signs of Advanced Intelligence
UNICEF and EPI Balochistan Organize Training Workshop on Misinformation Management and Routine Immunization for Journalists
UNICEF and EPI Balochistan Organize Training Workshop on Misinformation Management and Routine Immunization for Journalists
A Unique Highlight of Artemis II Mission: “Rise” the Small Plush Toy Heads to Space
A Unique Highlight of Artemis II Mission: “Rise” the Small Plush Toy Heads to Space
aroba article
aroba article
China Develops Microwave Weapon to Destroy Drones from 3 km Away
China Develops Microwave Weapon to Destroy Drones from 3 km Away