پاکستانی خلا باز چاند کی طرف روانگی کے قریب، تاریخی خلائی منصوبے کا آغاز

پاکستانی خلا باز چاند کی طرف روانگی کے قریب، تاریخی خلائی منصوبے کا آغاز

پاکستان نے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت کی ہے۔ پاکستانی خلا بازوں نے چاند پر چہل قدمی کی تیاری شروع کر دی ہے، جو پاکستان اور چین کے تعاون سے ممکن بنائی جا رہی ہے۔ پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر کمیشن کے مطابق سال 2026 میں پاکستان کا پہلا خلا باز چین کے خلائی اسٹیشن پر بھیجا جائے گا، جہاں وہ مختلف سائنسی تجربات میں حصہ لے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک تاریخی قدم ہوگا اور پاکستان مستقبل میں چاند تک رسائی کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ چین کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت پاکستانی خلا بازوں کو جدید تربیت دی جا رہی ہے۔ جنوری 2025 میں پاکستان کا پہلا الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ خلا میں بھیجا گیا، جبکہ جولائی 2025 میں ایک جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ لانچ کیا گیا، جس سے زمینی مشاہدے اور قدرتی وسائل کی نگرانی میں مدد ملی۔ پاکستان نے چاند پر پہنچنے کے لیے روور پروگرام بھی شروع کر دیا ہے اور پاکستان میں تیار کیا گیا روور 2028 میں چین کے تعاون سے چاند پر اتارا جائے گا۔ اکتوبر 2025 میں پاکستان کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ خلا میں بھیجا گیا، جس کے بعد پاکستان کے فعال سیٹلائٹس کی تعداد سات ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ منصوبے پاکستان کو جدید خلائی ممالک کی صف میں شامل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔

پاکستانی خلا باز چاند کی طرف روانگی کے قریب، تاریخی خلائی منصوبے کا آغاز

رپورٹ: اقصی بلوچ

پاکستان نے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت کی ہے۔ پاکستانی خلا بازوں نے چاند پر چہل قدمی کی تیاری شروع کر دی ہے، جو پاکستان اور چین کے تعاون سے ممکن بنائی جا رہی ہے۔

پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر کمیشن کے مطابق سال 2026 میں پاکستان کا پہلا خلا باز چین کے خلائی اسٹیشن پر بھیجا جائے گا، جہاں وہ مختلف سائنسی تجربات میں حصہ لے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک تاریخی قدم ہوگا اور پاکستان مستقبل میں چاند تک رسائی کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ چین کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت پاکستانی خلا بازوں کو جدید تربیت دی جا رہی ہے۔

جنوری 2025 میں پاکستان کا پہلا الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ خلا میں بھیجا گیا، جبکہ جولائی 2025 میں ایک جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ لانچ کیا گیا، جس سے زمینی مشاہدے اور قدرتی وسائل کی نگرانی میں مدد ملی۔

پاکستان نے چاند پر پہنچنے کے لیے روور پروگرام بھی شروع کر دیا ہے اور پاکستان میں تیار کیا گیا روور 2028 میں چین کے تعاون سے چاند پر اتارا جائے گا۔ اکتوبر 2025 میں پاکستان کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ خلا میں بھیجا گیا، جس کے بعد پاکستان کے فعال سیٹلائٹس کی تعداد سات ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ منصوبے پاکستان کو جدید خلائی ممالک کی صف میں شامل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔


Related News

New Research Explores Link Between Tourism and Health
New Research Explores Link Between Tourism and Health
Octopuses Show Mirror-Based Hunting Skills, New Study Reveals Signs of Advanced Intelligence
Octopuses Show Mirror-Based Hunting Skills, New Study Reveals Signs of Advanced Intelligence
UNICEF and EPI Balochistan Organize Training Workshop on Misinformation Management and Routine Immunization for Journalists
UNICEF and EPI Balochistan Organize Training Workshop on Misinformation Management and Routine Immunization for Journalists
A Unique Highlight of Artemis II Mission: “Rise” the Small Plush Toy Heads to Space
A Unique Highlight of Artemis II Mission: “Rise” the Small Plush Toy Heads to Space
aroba article
aroba article
China Develops Microwave Weapon to Destroy Drones from 3 km Away
China Develops Microwave Weapon to Destroy Drones from 3 km Away