موسمی بیماریوں میں اضافہ: سائنسی وجوہات اور احتیاطی تدابیر

 موسمی بیماریوں میں اضافہ: سائنسی وجوہات اور احتیاطی تدابیر

ماہرینِ صحت کے مطابق موسم کی تبدیلی کے دوران موسمی بیماریوں میں اضافہ ایک سائنسی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب درجۂ حرارت اور نمی (humidity) میں اچانک تبدیلی آتی ہے تو انسانی جسم کا مدافعتی نظام (immune system) کمزور ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے وائرس اور بیکٹیریا آسانی سے جسم پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ سائنسی تحقیق کے مطابق سرد اور مرطوب موسم میں وائرس زیادہ دیر تک ہوا میں زندہ رہ سکتے ہیں، خاص طور پر نزلہ، زکام اور فلو کے وائرس۔ اس کے علاوہ موسم کی تبدیلی سے ناک اور گلے کی جھلیاں (mucous membranes) خشک یا حساس ہو جاتی ہیں، جس سے جراثیم کے داخل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودگی اور گرد و غبار بھی الرجی اور سانس کی بیماریوں کو بڑھاتا ہے، کیونکہ یہ ذرات پھیپھڑوں میں جا کر سوزش (inflammation) پیدا کرتے ہیں۔ بچوں اور بزرگوں میں چونکہ مدافعتی نظام نسبتاً کمزور ہوتا ہے، اس لیے وہ زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق متوازن غذا، وٹامن سی اور ڈی کا مناسب استعمال، صاف پانی، مناسب نیند اور ہاتھوں کی صفائی جیسے اقدامات مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بیمار افراد سے فاصلہ رکھنا اور علامات ظاہر ہونے پر بروقت علاج نہایت ضروری ہے۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اگر احتیاطی تدابیر کو سائنسی بنیادوں پر اپنایا جائے تو موسمی بیماریوں سے کافی حد تک بچاؤ ممکن ہے۔

 موسمی بیماریوں میں اضافہ: سائنسی وجوہات اور احتیاطی تدابیر

رپورٹ: ما ہ رنگ بلوچ
ماہرینِ صحت کے مطابق موسم کی تبدیلی کے دوران موسمی بیماریوں میں اضافہ ایک سائنسی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جب درجۂ حرارت اور نمی (humidity) میں اچانک تبدیلی آتی ہے تو انسانی جسم کا مدافعتی نظام (immune system) کمزور ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے وائرس اور بیکٹیریا آسانی سے جسم پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔


سائنسی تحقیق کے مطابق سرد اور مرطوب موسم میں وائرس زیادہ دیر تک ہوا میں زندہ رہ سکتے ہیں، خاص طور پر نزلہ، زکام اور فلو کے وائرس۔ اس کے علاوہ موسم کی تبدیلی سے ناک اور گلے کی جھلیاں (mucous membranes) خشک یا حساس ہو جاتی ہیں، جس سے جراثیم کے داخل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودگی اور گرد و غبار بھی الرجی اور سانس کی بیماریوں کو بڑھاتا ہے، کیونکہ یہ ذرات پھیپھڑوں میں جا کر سوزش (inflammation) پیدا کرتے ہیں۔ بچوں اور بزرگوں میں چونکہ مدافعتی نظام نسبتاً کمزور ہوتا ہے، اس لیے وہ زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔


ڈاکٹروں کے مطابق متوازن غذا، وٹامن سی اور ڈی کا مناسب استعمال، صاف پانی، مناسب نیند اور ہاتھوں کی صفائی جیسے اقدامات مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بیمار افراد سے فاصلہ رکھنا اور علامات ظاہر ہونے پر بروقت علاج نہایت ضروری ہے۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اگر احتیاطی تدابیر کو سائنسی بنیادوں پر اپنایا جائے تو موسمی بیماریوں سے کافی حد تک بچاؤ ممکن ہے۔


Related News

Federal Government Restores Degree Status of 150 Balochistan Nursing Students
Federal Government Restores Degree Status of 150 Balochistan Nursing Students
Doctors End Protest, OPD and Hospital Services Resume Across Quetta
Doctors End Protest, OPD and Hospital Services Resume Across Quetta
Quetta Deputy Commissioner Orders Action Against Fake Polio Coverage During Campaign Review
Quetta Deputy Commissioner Orders Action Against Fake Polio Coverage During Campaign Review
Balochistan Strengthens Polio Response as Senior Officials Review Vaccination Efforts
Balochistan Strengthens Polio Response as Senior Officials Review Vaccination Efforts
Balochistan to Launch Seven-Day Polio Booster Campaign for Over 730,000 Children
Balochistan to Launch Seven-Day Polio Booster Campaign for Over 730,000 Children
Governor Balochistan Launches Digital Health Information System to Improve Healthcare Monitoring
Governor Balochistan Launches Digital Health Information System to Improve Healthcare Monitoring