فٹ بال کے دو میدان جتنا جزیرہ، مگر دنیا کی سب سے زیادہ آبادی یہاں رہتی ہے

فٹ بال کے دو میدان جتنا جزیرہ، مگر دنیا کی سب سے زیادہ آبادی یہاں رہتی ہے

دنیا میں ایک ایسا جزیرہ بھی موجود ہے جس کا رقبہ صرف فٹ بال کے دو میدانوں کے برابر ہے، مگر اس کے باوجود اسے دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے جزائر میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ حیرت انگیز جزیرہ سانتا کروز ڈیل ایسلوٹے کولمبیا کے سان برناردو آرکی پیلاگو میں واقع ہے۔ اس جزیرے کا کل رقبہ صرف 0.012 مربع کلومیٹر ہے، لیکن یہاں تقریباً 1200 افراد رہائش پذیر ہیں، جس کی وجہ سے یہاں آبادی کی کثافت دنیا میں سب سے زیادہ سمجھی جاتی ہے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق یہ جزیرہ انیسویں صدی تک غیر آباد تھا۔ بعد ازاں افریقی نژاد کولمبیائی ماہی گیروں نے یہاں رہائش اختیار کی اور وقت کے ساتھ ساتھ آبادی میں اضافہ ہوتا گیا۔ جزیرے میں تقریباً 115 گھر موجود ہیں، جو انتہائی محدود جگہ پر تعمیر کیے گئے ہیں۔ جگہ کم ہونے کی وجہ سے کئی گھروں کو اوپر کی جانب بڑھایا جا رہا ہے، جس سے رہائشیوں کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ جزیرے میں بنیادی سہولیات بھی محدود ہیں۔ پینے کا پانی ہر ہفتے مین لینڈ سے لایا جاتا ہے، جبکہ جزیرے میں کسی قسم کی گاڑی موجود نہیں۔ لوگ پیدل ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں۔ جزیرے کی بڑھتی ہوئی شہرت کے بعد سیاحت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مقامی افراد سیاحوں سے تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے عوض فیس وصول کرتے ہیں تاکہ آمدن کا ذریعہ بنایا جا سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مقامی لوگوں کے مطابق جزیرے میں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں اور محدود وسائل کے باوجود یہاں کے رہائشی اپنی کمیونٹی میں پرامن زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ جزیرہ دنیا بھر میں انسانوں کی محدود جگہ میں رہنے کی ایک منفرد مثال سمجھا جاتا ہے۔

فٹ بال کے دو میدان جتنا جزیرہ، مگر دنیا کی سب سے زیادہ آبادی یہاں رہتی ہے

 

رپورٹ : اقصی بلوچ


دنیا میں ایک ایسا جزیرہ بھی موجود ہے جس کا رقبہ صرف فٹ بال کے دو میدانوں کے برابر ہے، مگر اس کے باوجود اسے دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے جزائر میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ حیرت انگیز جزیرہ سانتا کروز ڈیل ایسلوٹے کولمبیا کے سان برناردو آرکی پیلاگو میں واقع ہے۔ اس جزیرے کا کل رقبہ صرف 0.012 مربع کلومیٹر ہے، لیکن یہاں تقریباً 1200 افراد رہائش پذیر ہیں، جس کی وجہ سے یہاں آبادی کی کثافت دنیا میں سب سے زیادہ سمجھی جاتی ہے۔


تاریخی ریکارڈ کے مطابق یہ جزیرہ انیسویں صدی تک غیر آباد تھا۔ بعد ازاں افریقی نژاد کولمبیائی ماہی گیروں نے یہاں رہائش اختیار کی اور وقت کے ساتھ ساتھ آبادی میں اضافہ ہوتا گیا۔
جزیرے میں تقریباً 115 گھر موجود ہیں، جو انتہائی محدود جگہ پر تعمیر کیے گئے ہیں۔ جگہ کم ہونے کی وجہ سے کئی گھروں کو اوپر کی جانب بڑھایا جا رہا ہے، جس سے رہائشیوں کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔
جزیرے میں بنیادی سہولیات بھی محدود ہیں۔ پینے کا پانی ہر ہفتے مین لینڈ سے لایا جاتا ہے، جبکہ جزیرے میں کسی قسم کی گاڑی موجود نہیں۔ لوگ پیدل ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں۔
جزیرے کی بڑھتی ہوئی شہرت کے بعد سیاحت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مقامی افراد سیاحوں سے تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے عوض فیس وصول کرتے ہیں تاکہ آمدن کا ذریعہ بنایا جا سکے

 


دلچسپ بات یہ ہے کہ مقامی لوگوں کے مطابق جزیرے میں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں اور محدود وسائل کے باوجود یہاں کے رہائشی اپنی کمیونٹی میں پرامن زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ جزیرہ دنیا بھر میں انسانوں کی محدود جگہ میں رہنے کی ایک منفرد مثال سمجھا جاتا ہے۔


Related News

New Research Explores Link Between Tourism and Health
New Research Explores Link Between Tourism and Health
Octopuses Show Mirror-Based Hunting Skills, New Study Reveals Signs of Advanced Intelligence
Octopuses Show Mirror-Based Hunting Skills, New Study Reveals Signs of Advanced Intelligence
UNICEF and EPI Balochistan Organize Training Workshop on Misinformation Management and Routine Immunization for Journalists
UNICEF and EPI Balochistan Organize Training Workshop on Misinformation Management and Routine Immunization for Journalists
A Unique Highlight of Artemis II Mission: “Rise” the Small Plush Toy Heads to Space
A Unique Highlight of Artemis II Mission: “Rise” the Small Plush Toy Heads to Space
aroba article
aroba article
China Develops Microwave Weapon to Destroy Drones from 3 km Away
China Develops Microwave Weapon to Destroy Drones from 3 km Away