کوئٹہ: محکمہ ثقافت حکومتِ بلوچستان کے زیرِ اہتمام غیر محسوس ثقافتی ورثے (انٹینجیبل کلچرل ہیریٹیج) کی فہرست سازی سے متعلق ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس، اسپنی روڈ میں کیا گیا۔ ورکشاپ کا مقصد بلوچستان کے غیر محسوس ثقافتی ورثے جیسے روایات، لوک فنون، زبانیں، رسم و رواج اور ثقافتی اقدار کو دستاویزی شکل دینا اور ان کے تحفظ کے لیے مربوط حکمتِ عملی تیار کرنا تھا۔ اس موقع پر ماہرینِ ثقافت، محققین اور متعلقہ شعبوں سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ شرکاء نے غیر محسوس ثقافتی ورثے کی اہمیت، اس کے تحفظ اور آئندہ نسلوں تک منتقلی پر تفصیلی گفتگو کی اور انوینٹری سازی کے عملی طریقہ کار پر روشنی ڈالی۔ ورکشاپ کے اختتام پر محکمہ ثقافت کے حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات مستقبل میں بھی جاری رکھے جائیں گے۔
لورالائی:ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کی خصوصی ہدایت پر نئے سال کے آغاز پر ضلع میں متعدد تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ اس سلسلے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) محمد اسماعیل مینگل اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) نور علی کاکڑ نے شجرکاری کی مہم کا آغاز کیا اور ضلع کے طلبہ کے لیے ایک کتب میلے کا بھی اہتمام کیا۔
کتب میلے کا مقصد علم و ادب کے فروغ کے ساتھ ساتھ مطالعے کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا، تاکہ نوجوان نسل میں تعلیم اور علمی سرگرمیوں کی ترغیب پیدا ہو۔
ڈپٹی کمشنر میران بلوچ نے نئے سال کے موقع پر نوجوانوں اور شہریوں کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سال 2026 ہم سب کے لیے نئی امیدیں، روشن امکانات اور مثبت تبدیلیاں لے کر آیا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ یہ سال ضلع لورالائی، بلوچستان اور پورے پاکستان کے لیے امن، ترقی، خوشحالی اور استحکام کا سال ثابت ہو۔
ڈپٹی کمشنر نے زور دیا کہ نئے سال کے آغاز پر شہری اپنی ذمہ داریوں کا از سر نو تعین کریں، قانون کی پاسداری، دیانتداری اور باہمی احترام کو فروغ دیں اور عوامی خدمت کو اپنا اولین فرض سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک صاف، پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے باہمی تعاون اور اتحاد ناگزیر ہے۔
آخر میں ڈپٹی کمشنر نے تمام شہریوں کو نیا سال 2026 مبارکباد دی اور دعا کی کہ یہ سال سب کے لیے خیر و برکت اور خوشحالی کا باعث بنے۔
کوئٹہ میں نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس کے زیر اہتمام قائد اعظم محمد علی جناح کی یومِ پیدائش اور کرسمس کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈی آئی جی موٹر وے پولیس ویسٹ زون ڈاکٹر قریش خان تھے۔ تقریب میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں، افسران اور ان کے اہلِ خانہ نے شرکت کی۔
تقریب کا آغاز قومی ترانے سے ہوا۔ سینئر افسر ایوب ترین نے خطاب کرتے ہوئے مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد دی اور کہا کہ مسیحی برادری نے پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب کے حوالے سے ایسی تقریبات آئندہ بھی منعقد کی جاتی رہیں گی۔
پاسٹر ویلسن فضل نے خطاب میں کہا کہ کرسمس امن اور محبت کا پیغام دیتا ہے اور دعا کی کہ مملکتِ پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے۔ اس موقع پر روایتی موسیقی اور رقص بھی پیش کیا گیا۔
ڈی آئی جی موٹر وے پولیس ڈاکٹر قریش خان نے کہا کہ موٹر وے پولیس عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔ انہوں نے مسیحی اہلکاروں اور برادری کو کرسمس کی مبارکباد دی۔ تقریب کے اختتام پر تحائف تقسیم کیے گئے اور کیک کاٹا گیا۔
ہر خاتون چاہتی ہے کہ اس کا گھر نہ صرف خوبصورت لگے بلکہ ہر چیز آسانی سے دستیاب بھی ہو۔ گھر کو منظم رکھنا اور اسے سجیلا بنانا روزمرہ زندگی میں سکون اور آرام پیدا کرتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے اقدامات جیسے صحیح جگہ پر چیزیں رکھنا، آرگنائزرز کا استعمال اور رنگوں یا ڈیکوریشن کے چھوٹے ٹچز، گھر کو ایک خوشگوار ماحول فراہم کرتے ہیں۔ ان آسان ٹپس کو اپنانے سے نہ صرف گھر صاف اور منظم لگتا ہے بلکہ یہ خواتین کے لیے روزمرہ کے کاموں کو بھی آسان بنا دیتا ہے۔
کچن آرگنائزیشن
کچن ہر گھر کا سب سے اہم حصہ ہے، اور اسے منظم رکھنا بہت ضروری ہے۔ چھوٹے بکس، ریکس، اور شیشے کے جار استعمال کر کے مصالحے اور خشک اشیاء آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہیں۔ اس سے نہ صرف کچن کی خوبصورتی بڑھتی ہے بلکہ ہر چیز تلاش کرنے میں وقت بھی بچتا ہے۔ آپ مختلف اشیاء کو الگ الگ کیٹیگریز میں رکھ سکتی ہیں، جیسے مصالحے، خشک پھل، یا بیسن، تاکہ روزمرہ کے کام آسانی سے مکمل ہو سکیں۔ اس کے علاوہ، صاف ستھرا اور منظم کچن کھانے پکانے کے تجربے کو بھی خوشگوار بنا دیتا ہے۔
بیڈروم آرگنائزیشن
بیڈروم میں آرگنائزیشن کے ذریعے آپ کا کمرہ نہ صرف صاف لگتا ہے بلکہ آرام دہ اور پرسکون بھی محسوس ہوتا ہے۔ کپڑوں کو علیحدہ علیحدہ ہینگرز یا اسٹوریج باکسز میں رکھنا بیڈ روم کو منظم رکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔ بیڈ کے نیچے اسٹوریج باکسز استعمال کر کے اضافی کپڑے یا بیڈ شیٹس چھپائی جا سکتی ہیں، جس سے کمرے میں جگہ بھی بچتی ہے۔ اس کے علاوہ، الماری میں چھوٹے بکس یا ڈویژنز کا استعمال کرکے آپ ہر چیز کو ترتیب سے رکھ سکتی ہیں، جس سے صبح کے وقت کپڑے تلاش کرنے میں آسانی ہوتی ہے اور بیڈروم ہمیشہ خوشگوار محسوس ہوتا ہے۔
لِونگ روم ڈیکوریشن
لِونگ روم گھر کا وہ حصہ ہے جہاں خاندان اور مہمان سب زیادہ وقت گزارتے ہیں، اس لیے اسے خوبصورت اور منظم رکھنا بہت اہم ہے۔ وال آرٹ، فوٹو فریمز اور چھوٹے پلانٹس جیسے عناصر کمرے کو خوشگوار اور زندہ دل بناتے ہیں۔ کیبنٹس یا شیلفز پر آرگنائزرز کا استعمال کرکے کتابیں، رسائل اور چھوٹی اشیاء ترتیب سے رکھی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، سجاوٹ میں رنگوں اور لائٹنگ کا صحیح انتخاب بھی لِونگ روم کی خوبصورتی کو بڑھا دیتا ہے اور ماحول کو آرام دہ بناتا ہے۔
باتھ روم آرگنائزیشن
باتھ روم کو صاف اور منظم رکھنا نہ صرف ظاہری طور پر اچھا لگتا ہے بلکہ صحت اور صفائی کے لیے بھی ضروری ہے۔ شیلفز اور ہینگرز لگانے سے ٹاولز اور بیوٹی پروڈکٹس آسانی سے دستیاب ہو جاتی ہیں۔ چھوٹے بکس یا ٹرے کا استعمال باتھ روم کی ہر چیز کو ترتیب میں رکھتا ہے اور جگہ کو زیادہ منظم بناتا ہے۔ صاف اور منظم باتھ روم ہر دن کو خوشگوار آغاز دینے میں مدد کرتا ہے اور خواتین کے لیے آرام دہ اور پرسکون تجربہ فراہم کرتا ہے۔
چھوٹے چھوٹے آرگنائزیشن اور ڈیکوریشن آئیڈیاز خواتین کے لیے اپنے گھر کو نہ صرف خوبصورت بنانے کا ذریعہ ہیں بلکہ یہ روزمرہ زندگی کو آسان اور آرام دہ بھی بناتے ہیں۔ چاہے کچن ہو، بیڈروم، لِونگ روم یا باتھ روم، ہر جگہ چھوٹے چھوٹے اقدامات گھر کو منظم، فنکشنل اور دلکش بناتے ہیں۔ ان ٹپس کو اپنانے سے نہ صرف گھر صاف اور خوبصورت لگتا ہے بلکہ یہ خواتین کے لیے ہر دن کے کاموں کو زیادہ خوشگوار اور آسان بھی بنا دیتا ہے۔
کوئٹہ : جنرل محمد موسیٰ پوسٹ گریجویٹ کالج میں آج معروف شاعر، استاد اور علم و ادب کی ممتاز شخصیت پروفیسر علی بابا تاج مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا، جس میں مرحوم کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔
تقریب میں کالج کے پرنسپل، اساتذہ، طلبہ کے علاوہ تاج صاحب کی فیملی، دوستوں، ڈائریکٹر کالجز، بپلا کے صدر اور موسیٰ کالج کے سابق پرنسپلز نے شرکت کی۔
پروگرام کا آغاز کالج کے طالب علم قاری افتخار نے تلاوتِ کلامِ پاک اور فاتحہ سے کیا۔ تقریب کی نظامت کالج کے اسٹاف سیکرٹری پروفیسر یاسین نے کی۔
پہلے مقرر تاج صاحب کے دیرینہ دوست، شاعر اور ناول نگار مصطفیٰ شاہد تھے، جنہوں نے مرحوم کے ساتھ گزاری ہوئی یادوں، ان کے فنِ شعر و موسیقی سے لگاؤ اور مرزا بیدل کی شاعری سے ان کی خاص محبت کا ذکر کیا۔ فدا ہزارہ نے تعزیتی ریفرنس میں تجویز پیش کی کہ موسیٰ کالج کی لائبریری کو مرحوم پروفیسر علی بابا تاج کے نام سے منسوب کیا جائے، تاکہ ان کی علمی خدمات کو مستقل طور پر خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔
تقریب کے آخر میں فارسی کے پروفیسر اکبر ساسولی نے علی بابا تاج کے لیے اپنی لکھی ہوئی ایک نثری نظم پڑھ کر مرحوم کو ادبی انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
کوئٹہ: ہزارگی اکیڈمی کے زیرِ اہتمام تین نئی کتب کی رونمائی کی ایک باوقار تقریب منعقد ہوئی، جس کی صدارت معروف شاعر و دانشور سرور جاوید نے کی۔ تقریب میں ادب دوستوں، شعرا، ادبا اور مختلف ادبی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
رونمائی کی جانے والی کتب میں "کویڈ 19 حقیقت یا افسانہ اور آخری معرکہ" (مصنف: کوثر علی کوثر)، "اداس آنکھوں پہ اترا موسم" (مصنفہ: حمیدہ سحر) اور "مسافرِ رہِ عشق — حرفِ گل کی نامہ بر" (مصنفہ: ذکیہ بہروز ذکی) شامل تھیں۔
تقریب سے احمد علی بیگ (صدر ہزارگی اکیڈمی)، مصطفیٰ شاہد، یاسین ضمیر، اکبر انجم، آغا ناصر، تحسین طالب، نقیب احساس (جنرل سیکریٹری پشتو اکیڈمی)، شفقت علی عاصمی اور صدرِ مجلس سرور جاوید نے خطاب کیا۔
شرکاء نے اس ادبی تقریب کو علم و ادب کے فروغ اور مختلف زبانوں کے درمیان رابطے کا مثبت قدم قرار دیا۔