2025 میں بلوچستان: حکومتی اصلاحات، ترقیاتی سرمایہ کاری اور عوامی ثمرات
2025 بلوچستان کے لیے سماجی و معاشی ترقی کا ایک فیصلہ کن سال ثابت ہوا، جہاں صوبائی بجٹ 1,028 ارب روپے تک پہنچا اور 249 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے، جن کے تحت 6 ہزار سے زائد منصوبوں پر عملدرآمد ہوا۔ امن و امان کے لیے 18 ارب روپے کی لاگت سے 8 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کا آغاز، زرعی شعبے کو 10 ارب روپے کی فراہمی اور 27 ہزار سے زائد ٹیوب ویلز کی شمسی توانائی پر منتقلی نے صوبے میں تحفظ، خودکفالت اور پائیدار ترقی کی بنیاد مضبوط کی۔ تعلیم کے شعبے میں 28 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے 1,237 اساتذہ کی بھرتی، 3,144 بند اسکولوں کی بحالی اور 81 ہزار سے زائد طلبہ کا مستفید ہونا انسانی ترقی کی واضح علامت ہے۔ معاشی سطح پر 3.5 ارب ڈالر کے ریکوڈک منصوبے سے 75 ہزار روزگار کے مواقع، ورلڈ بینک کے 194 ملین ڈالر سے 7 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد کو فائدہ اور نوجوانوں کے لیے روزگار و بیرونِ ملک ملازمتوں کے اہداف اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بلوچستان بتدریج محرومی سے نکل کر استحکام اور خوشحالی کی سمت گامزن ہے۔
2025 میں بلوچستان: حکومتی اصلاحات، ترقیاتی سرمایہ کاری اور عوامی ثمرات
رپورٹ: محمد خان کاکڑ
2025 بلوچستان کے لیے سماجی و معاشی ترقی کا ایک فیصلہ کن سال ثابت ہوا، جہاں صوبائی بجٹ 1,028 ارب روپے تک پہنچا اور 249 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے، جن کے تحت 6 ہزار سے زائد منصوبوں پر عملدرآمد ہوا۔ امن و امان کے لیے 18 ارب روپے کی لاگت سے 8 شہروں میں سیف سٹی منصوبوں کا آغاز، زرعی شعبے کو 10 ارب روپے کی فراہمی اور 27 ہزار سے زائد ٹیوب ویلز کی شمسی توانائی پر منتقلی نے صوبے میں تحفظ، خودکفالت اور پائیدار ترقی کی بنیاد مضبوط کی۔

تعلیم کے شعبے میں 28 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے 1,237 اساتذہ کی بھرتی، 3,144 بند اسکولوں کی بحالی اور 81 ہزار سے زائد طلبہ کا مستفید ہونا انسانی ترقی کی واضح علامت ہے۔ معاشی سطح پر 3.5 ارب ڈالر کے ریکوڈک منصوبے سے 75 ہزار روزگار کے مواقع، ورلڈ بینک کے 194 ملین ڈالر سے 7 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد کو فائدہ اور نوجوانوں کے لیے روزگار و بیرونِ ملک ملازمتوں کے اہداف اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بلوچستان بتدریج محرومی سے نکل کر استحکام اور خوشحالی کی سمت گامزن ہے۔