لورالائی اولیوز: پاکستان کا پہلا برانڈ جسے نیو یارک اولیو آئل مقابلے میں پہچان ملی

لورالائی اولیوز: پاکستان کا پہلا برانڈ جسے نیو یارک اولیو آئل مقابلے میں پہچان ملی

لورالائی اولیوز، بلوچستان کی زمین سے اگائے گئے اعلیٰ معیار کے زیتون کے تیل کے لیے عالمی سطح پر پہچانا جانے والا پاکستان کا پہلا برانڈ ہے۔ فارم میں کوراتینا اور اربیکویینا زیتون کی فصل اگائی جاتی ہے اور جدید استخراج پلانٹس کے ذریعے بہترین ایکسٹرا ورجن زیتون آئل تیار کیا جاتا ہے۔ اس کامیابی سے نہ صرف پاکستانی زیتون کی صنعت کو فروغ ملے گا بلکہ مقامی کسانوں اور معیشت کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

لورالورلڈ اولیو آئل مقابلے میں ائی اولیوز، پاکستان کا پہلا برانڈ ہے جسے نیو یارک انٹرنیشنل اولیو آئل کمپٹیشن (NYIOOC) پہچان ملی۔

تحریر عروبہ شہزاد

 لورا لائی کی تپپتی زمین پر اُگتا ہوا زیتون پوری دنیا کے  بہترین او لیوز کی پہچان بن گیا ہے۔ لورالائی اولیوز کی پیداوار سے لے کر برانڈنگ تک، یہ کمپنی بلوچستان کی چھپی ہوئی زمین سے حاصل شدہ زیتون کو پوری دنیا تک پہنچاتی ہے۔   اس کمپنی کا مقصد اعلیٰ معیار کے زیتون کے تیل کی پیداوار ہے، جس کے لیے وہ پیداواری عمل پر سخت کنٹرول، پائیدار زرعی طریقے اور بین الاقوامی معیار کی تصدیقات استعمال کرتی ہے۔کمپنی کی یہ کامیابی نہ صرف مارکیٹنگ اور برآمدات کے نئے مواقع کھولے گی بلکہ بلوچستان کے دیہی علاقوں کے کسانوں اور مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچائے گی۔


لورالائی اولیوز کے چیف ایگزیکٹو  شوقت رسول کے مطابق پاکستان کو عالمی سطح پر زیتون پیدا کرنے والے ممالک میں پہچان دلانے کے لیے ایک اعلیٰ معیار کی، بین الاقوامی سطح پر قابل مقابلہ برانڈ کی ضرورت تھی۔یہ فارم 40 ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور یہاں کوراتینا اور اربیکویینا زیتون کی فصل اگائی جاتی ہے، جو برسوں کی تحقیق کے بعد اس علاقے کے لیے موزوں ثابت ہوئی ہیں۔پاکستان میں زیتون کی کاشت کو بڑھانے کے لیے حکومت نے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں زیتون کے پودے، جدید آبپاشی کے نظام، استخراج کے جدید پلانٹ اور ذخیرہ کرنے کے ڈھانچے شامل ہیں۔ شوقت رسول کے مطابق، یہ اقدامات ملک میں زیتون کے تیل کی صنعت کے فروغ کی بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔ کمپنی اپنے فارم میں ہر درخت کی مسلسل نگرانی کرتی ہے تاکہ پھل صحت مند اور صحیح وقت پر کاٹ لیا جائے۔ زیتون ہاتھوں سے چنے جاتے ہیں اور فوراً جدید استخراج پلانٹس میں پہنچائے جاتے ہیں۔ اس عمل سے زیتون کی تازگی، غذائیت اور ذائقہ برقرار رہتا ہے اور اعلیٰ معیار کا ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل تیار ہوتا ہے۔ 
لورالائی اولیوز نے بلوچستان کی چھپی ہوئی زمین سے نہ صرف اعلیٰ معیار کا زیتون کا تیل پیدا کیا بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر زیتون کی صنعت میں پہچان دلائی۔ محنت، درست طریقہ کار اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج سے یہ کمپنی نہ صرف مقامی کسانوں کے لیے مواقع پیدا کر رہی ہے بلکہ ملک بھر میں زیتون کی پیداوار اور صنعت کو فروغ دینے کا باعث بھی بن رہی ہے۔


Related News

گوادر پورٹ پر بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ سرگرمیاں جاری
گوادر پورٹ پر بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ سرگرمیاں جاری
علاقائی بحری کشیدگی کے باوجود گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں، جہاں بنگلہ دیشی پرچم بردار جہاز سنگاپور...
گورنر بلوچستان نے "وون اِٹ" ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ پلیٹ فارم کا خیرمقدم کر دیا
گورنر بلوچستان نے "وون اِٹ" ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ پلیٹ فارم کا خیرمقدم کر دیا
گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ "وون اِٹ" پلیٹ فارم نوجوان کاروباری افراد کو جدید کاروباری مواقع...
پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی تجارتی معاہدے پر مذاکرات میں نمایاں پیش رفت
پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی تجارتی معاہدے پر مذاکرات میں نمایاں پیش رفت
واشنگٹن میں پاکستان اور امریکا کے درمیان مجوزہ باہمی تجارتی معاہدے پر دو روزہ مذاکرات میں ٹیرف، تجارت، سرمایہ...
پاک ایران سرحدی حکام کا اہم اجلاس، بارڈر ٹریڈ اور سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق
پاک ایران سرحدی حکام کا اہم اجلاس، بارڈر ٹریڈ اور سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق
پاک ایران راہداری گیٹ پر دونوں ممالک کے سرحدی حکام نے بارڈر ٹریڈ، زائرین کی آمدورفت، سیکیورٹی اور اسمگلنگ کی ر...
بلوچستان میں پہلی بار "بلوچستان انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ ایکسپو 2026" اگلے ماہ منعقد ہوگی
بلوچستان میں پہلی بار "بلوچستان انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ ایکسپو 2026" اگلے ماہ منعقد ہوگی
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات پر بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور بیوٹمز کے اشتراک سے ص...
کوئٹہ: ٹی ڈی اے پی کا خواتین کے برآمدی کاروبار کے فروغ کے لیے خصوصی سیمینار
کوئٹہ: ٹی ڈی اے پی کا خواتین کے برآمدی کاروبار کے فروغ کے لیے خصوصی سیمینار
ٹی ڈی اے پی نے کوئٹہ میں خواتین کاروباری شخصیات، طلبہ اور ابھرتے ہوئے برآمدکنندگان کے لیے برآمدی کاروبار اور ض...