قاجار عہد کی شہزادیوں کا حسن: ایرانی تاریخ کا ایک دل چسپ باب

قاجار عہد کی شہزادیوں کا حسن: ایرانی تاریخ کا ایک دل چسپ باب

انیسویں صدی کے قاجار دور میں ایرانی شہزادیوں کا حسن اُس جمالیاتی تصور کی نمائندگی کرتا تھا جو آج کے مغربی معیار سے بالکل مختلف تھا۔ جڑی ہوئی بھنویں، سرمہ لگی آنکھیں، سفید رنگت، قیمتی لباس اور شاہی زیورات اس دور کے حسن اور وقار کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ قاجار عہد کی مصوری اور فوٹوگرافی نے ان تصورات کو تاریخی دستاویز کی شکل میں محفوظ کر دیا، جو آج سماجی، ثقافتی اور صنفی مطالعات کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔

رپورٹ: سیدہ نتاشا

انیسویں صدی کے ایرانی قاجار عہد میں حسن کا تصور موجودہ دور سے یکسر مختلف تھا۔ اس دور کی شاہی شہزادیاں اُس جمالیاتی معیار کی نمائندہ تھیں جسے درباری اور اشرافیہ طبقہ اعلیٰ حسن تصور کرتا تھا۔ جڑی ہوئی موٹی بھنویں، سرمہ لگی آنکھیں اور سفید رنگت نہ صرف خوبصورتی بلکہ وقار اور شاہی مرتبے کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔
تاریخی ماہرین کے مطابق قاجار دور میں خواتین کے ملبوسات ریشم، مخمل اور بروکیڈ جیسے قیمتی کپڑوں سے تیار کیے جاتے تھے، جن پر سونے اور چاندی کے دھاگوں سے نفیس کڑھائی کی جاتی تھی۔ زیورات میں موتی، زمرد، فیروزا اور یاقوت کا استعمال شاہی دولت اور سیاسی طاقت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اس دور میں بھرپور جسمانی ساخت کو نسوانی حسن کا لازمی جزو مانا جاتا تھا۔


ناصرالدین شاہ قاجار کے عہد میں ایران میں فوٹوگرافی کے آغاز نے اس شاہی حسن کو محفوظ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ شاہ خود فوٹوگرافی کے شوقین تھے، جس کے باعث قاجار شہزادیوں اور حرم کی خواتین کی متعدد اصل تصاویر آج بھی دستیاب ہیں، جو اُس زمانے کے جمالیاتی تصورات، لباس اور درباری زندگی کی براہِ راست عکاسی کرتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قاجار شہزادیوں کی یہ تصاویر محض حسن کی نمائندگی نہیں بلکہ انیسویں صدی کے ایرانی سماج، طبقاتی نظام، صنفی تصورات اور شاہی سیاست کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ تاریخی پورٹریٹس دنیا بھر کے عجائب گھروں، جامعات اور تحقیقی اداروں میں خصوصی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔


Related News

قلات میں آڑو کی فصل عروج پر، مقامی معیشت کو فروغ ملنے لگا
قلات میں آڑو کی فصل عروج پر، مقامی معیشت کو فروغ ملنے لگا
قلات میں آڑو کی چنائی زور و شور سے جاری ہے اور روزانہ بڑی مقدار میں تازہ پھل ملک کی مختلف منڈیوں میں بھیجا جا...
مصنوعی ذہانت: تعلیم کے لیے نعمت یا چیلنج؟
مصنوعی ذہانت: تعلیم کے لیے نعمت یا چیلنج؟
مصنوعی ذہانت تعلیم کے شعبے میں سیکھنے کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے، مگر اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال طلبہ کی تخ...
نوشکی کے میٹھے انگوروں کی بہار، فصل کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع
نوشکی کے میٹھے انگوروں کی بہار، فصل کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع
بلوچستان کے ضلع نوشکی کے اعلیٰ معیار اور قدرتی مٹھاس سے بھرپور انگور ملک بھر کی منڈیوں میں پہنچنا شروع ہوگئے ہ...
بڑھتی ہوئی گرمی اور عالمی حدت: تبدیلی کا آغاز ہم سے
بڑھتی ہوئی گرمی اور عالمی حدت: تبدیلی کا آغاز ہم سے
شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی اب پوری دنیا کے لیے ایک سنگین حقیقت بن چکی ہے۔ اگر ہم توانائی اور پانی کے درست ا...
قانونِ مفروضہ : کیا ہماری سوچ واقعی ہماری حقیقت بن سکتی ہے؟
قانونِ مفروضہ : کیا ہماری سوچ واقعی ہماری حقیقت بن سکتی ہے؟
قانونِ مفروضہ (لا آف اسمپشن) کے مطابق انسان جن خیالات اور یقین کو اپنی حقیقت مان لیتا ہے، وہی اس کے رویوں اور...
بارکھان کے مشہور گاجا سیب چند دنوں میں ملک بھر کی منڈیوں کی زینت بن جائیں گے
بارکھان کے مشہور گاجا سیب چند دنوں میں ملک بھر کی منڈیوں کی زینت بن جائیں گے
ضلع بارکھان کے علاقے بغاؤ میں گاجا سیب کی فصل تیار ہو چکی ہے اور آئندہ چند روز میں توڑائی کے بعد یہ ملک بھر کی...