چین نے بجلی پیدا کرنے کا نیا ماحول دوست طریقہ متعارف کرا دیا
چین نے بجلی پیدا کرنے کا ایک نیا اور ماحول دوست طریقہ کامیابی سے آزما لیا ہے، جو شمسی توانائی پر مبنی ہے اور جدید ٹیکنالوجی کا بہترین نمونہ سمجھا جا رہا ہے۔ چین کے صوبے گانسو کے ایک شہر میں سورج کی روشنی اور نمک کی مدد سے بجلی پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں تقریباً 12 ہزار آئینے سورج کی شعاعوں کو ایک مرکزی ٹاور پر مرکوز کرتے ہیں۔ ان آئینوں کے ذریعے سورج کی روشنی منعکس ہو کر نمک کو گرم کرتی ہے، جس کا درجہ حرارت تقریباً 565 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ اس شدید حرارت کو بعد میں بھاپ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جو اسٹیم ٹربائنز کو چلا کر بجلی پیدا کرتی ہے۔ چینی حکام کے مطابق یہ جدید شمسی نظام تقریباً 80 ہزار گھروں کو بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ چین کی توانائی میں خود کفالت کی جانب ایک اہم قدم بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ دنیا کے جدید ترین شمسی توانائی کے منصوبوں میں شامل ہے اور مستقبل میں دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔
چین نے بجلی پیدا کرنے کا نیا ماحول دوست طریقہ متعارف کرا دیا
رپورٹ: اقصی بلوچ
چین نے بجلی پیدا کرنے کا ایک نیا اور ماحول دوست طریقہ کامیابی سے آزما لیا ہے، جو شمسی توانائی پر مبنی ہے اور جدید ٹیکنالوجی کا بہترین نمونہ سمجھا جا رہا ہے۔

چین کے صوبے گانسو کے ایک شہر میں سورج کی روشنی اور نمک کی مدد سے بجلی پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں تقریباً 12 ہزار آئینے سورج کی شعاعوں کو ایک مرکزی ٹاور پر مرکوز کرتے ہیں۔
ان آئینوں کے ذریعے سورج کی روشنی منعکس ہو کر نمک کو گرم کرتی ہے، جس کا درجہ حرارت تقریباً 565 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ اس شدید حرارت کو بعد میں بھاپ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جو اسٹیم ٹربائنز کو چلا کر بجلی پیدا کرتی ہے۔
چینی حکام کے مطابق یہ جدید شمسی نظام تقریباً 80 ہزار گھروں کو بجلی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ چین کی توانائی میں خود کفالت کی جانب ایک اہم قدم بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ دنیا کے جدید ترین شمسی توانائی کے منصوبوں میں شامل ہے اور مستقبل میں دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔