کھیرا ہر کسی کے لیے فائدہ مند نہیں؟ ماہرینِ غذائیت نے چونکا دینے والی وجوہات بتا دیں
کھیرا عام طور پر صحت بخش غذا تصور کیا جاتا ہے اور خاص طور پر وزن کم کرنے والوں میں اسے بے حد پسند کیا جاتا ہے۔ سلاد، رائتہ، جوس اور اسموتھیز میں کھیرا روزمرہ خوراک کا حصہ بن چکا ہے، تاہم ماہرینِ صحت خبردار کرتے ہیں کہ یہ سبزی ہر شخص کے لیے یکساں فائدہ مند نہیں۔ غذائی ماہرین کے مطابق کھیرے میں تقریباً 95 فیصد پانی موجود ہوتا ہے، جو جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں وٹامن کے، وٹامن سی، پوٹاشیم، میگنیشیم اور فائبر جیسے اہم غذائی اجزا پائے جاتے ہیں، جو ہاضمے کی بہتری، جلد کی حفاظت، بلڈ پریشر کے توازن اور جسمانی سوزش میں کمی میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ مخصوص طبی حالات میں کھیرے کا استعمال فائدے کے بجائے نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ کن افراد کو کھیرے سے پرہیز کرنا چاہیے؟ بلغم اور سانس کی بیماریاں بھارتی ماہر غذائیت شویتا شاہ کے مطابق کھیرے کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے، جو جسم میں بلغم کی مقدار بڑھا سکتی ہے۔ نزلہ، زکام، کھانسی، دمہ، سائنوس یا سانس کی الرجی کے مریضوں کے لیے کھیرا تکلیف میں اضافہ کر سکتا ہے، خاص طور پر سردیوں میں۔ کمزور نظامِ ہاضمہ اگرچہ کھیرے میں فائبر پایا جاتا ہے، لیکن حساس معدے والے افراد کے لیے یہ گیس، اپھارہ اور بدہضمی کا سبب بن سکتا ہے۔ کھیرے میں موجود قدرتی جز کیوکربیٹاسن بعض افراد میں معدے کی خرابی پیدا کر دیتا ہے، خاص طور پر IBS کے مریضوں میں۔ جوڑوں کا درد اور گٹھیا ماہرین کے مطابق جوڑوں کے درد، سوجن یا گٹھیا میں مبتلا افراد کو کھیرے کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے۔ آیوروید کے مطابق اس کی ٹھنڈی فطرت بعض لوگوں میں درد اور سوجن کو بڑھا سکتی ہے۔ پیشاب کی نالی کے مسائل کھیرے میں پانی کی زیادہ مقدار اسے قدرتی طور پر پیشاب آور بناتی ہے۔ پیشاب کی نالی کے انفیکشن یا مثانے کے مسائل میں مبتلا افراد کے لیے کھیرے کا زیادہ استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض اگرچہ کھیرا شوگر کے مریضوں کے لیے عموماً محفوظ سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کے بیج بعض صورتوں میں خون میں شوگر کی سطح حد سے زیادہ کم کر سکتے ہیں، خاص طور پر وہ افراد جو انسولین یا شوگر کم کرنے والی ادویات استعمال کرتے ہوں۔ اس سے کمزوری، چکر یا لرزش جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ رات کے وقت کھیرے کا استعمال کیوں نقصان دہ؟ ماہرین غذائیت رات کے وقت کھیرے کے استعمال سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔ کھیرے کو ہضم ہونے میں وقت لگتا ہے اور اس میں پانی کی زیادتی بار بار باتھ روم جانے کا سبب بن سکتی ہے، جس سے نیند متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ رات کے وقت جسم کے لیے ٹھنڈی غذائیں موزوں نہیں سمجھی جاتیں۔ ماہرین کا مشورہ کھیرے کے فوائد اپنی جگہ مسلم ہیں، تاہم اسے خوراک میں شامل کرنے سے پہلے اپنی صحت اور طبی مسائل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ کسی بھی غذا کا ضرورت سے زیادہ یا غلط وقت پر استعمال فائدے کے بجائے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
کھیرا ہر کسی کے لیے فائدہ مند نہیں؟ ماہرینِ غذائیت نے چونکا دینے والی وجوہات بتا دیں
رپورٹ : اقصی بلوچ
کھیرا عام طور پر صحت بخش غذا تصور کیا جاتا ہے اور خاص طور پر وزن کم کرنے والوں میں اسے بے حد پسند کیا جاتا ہے۔ سلاد، رائتہ، جوس اور اسموتھیز میں کھیرا روزمرہ خوراک کا حصہ بن چکا ہے، تاہم ماہرینِ صحت خبردار کرتے ہیں کہ یہ سبزی ہر شخص کے لیے یکساں فائدہ مند نہیں۔

غذائی ماہرین کے مطابق کھیرے میں تقریباً 95 فیصد پانی موجود ہوتا ہے، جو جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں وٹامن کے، وٹامن سی، پوٹاشیم، میگنیشیم اور فائبر جیسے اہم غذائی اجزا پائے جاتے ہیں، جو ہاضمے کی بہتری، جلد کی حفاظت، بلڈ پریشر کے توازن اور جسمانی سوزش میں کمی میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ مخصوص طبی حالات میں کھیرے کا استعمال فائدے کے بجائے نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔
کن افراد کو کھیرے سے پرہیز کرنا چاہیے؟
بلغم اور سانس کی بیماریاں
بھارتی ماہر غذائیت شویتا شاہ کے مطابق کھیرے کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے، جو جسم میں بلغم کی مقدار بڑھا سکتی ہے۔ نزلہ، زکام، کھانسی، دمہ، سائنوس یا سانس کی الرجی کے مریضوں کے لیے کھیرا تکلیف میں اضافہ کر سکتا ہے، خاص طور پر سردیوں میں۔
کمزور نظامِ ہاضمہ
اگرچہ کھیرے میں فائبر پایا جاتا ہے، لیکن حساس معدے والے افراد کے لیے یہ گیس، اپھارہ اور بدہضمی کا سبب بن سکتا ہے۔ کھیرے میں موجود قدرتی جز کیوکربیٹاسن بعض افراد میں معدے کی خرابی پیدا کر دیتا ہے، خاص طور پر IBS کے مریضوں میں۔
جوڑوں کا درد اور گٹھیا
ماہرین کے مطابق جوڑوں کے درد، سوجن یا گٹھیا میں مبتلا افراد کو کھیرے کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے۔ آیوروید کے مطابق اس کی ٹھنڈی فطرت بعض لوگوں میں درد اور سوجن کو بڑھا سکتی ہے۔
پیشاب کی نالی کے مسائل
کھیرے میں پانی کی زیادہ مقدار اسے قدرتی طور پر پیشاب آور بناتی ہے۔ پیشاب کی نالی کے انفیکشن یا مثانے کے مسائل میں مبتلا افراد کے لیے کھیرے کا زیادہ استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ذیابیطس کے مریض
اگرچہ کھیرا شوگر کے مریضوں کے لیے عموماً محفوظ سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کے بیج بعض صورتوں میں خون میں شوگر کی سطح حد سے زیادہ کم کر سکتے ہیں، خاص طور پر وہ افراد جو انسولین یا شوگر کم کرنے والی ادویات استعمال کرتے ہوں۔ اس سے کمزوری، چکر یا لرزش جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔

رات کے وقت کھیرے کا استعمال کیوں نقصان دہ؟
ماہرین غذائیت رات کے وقت کھیرے کے استعمال سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔ کھیرے کو ہضم ہونے میں وقت لگتا ہے اور اس میں پانی کی زیادتی بار بار باتھ روم جانے کا سبب بن سکتی ہے، جس سے نیند متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ رات کے وقت جسم کے لیے ٹھنڈی غذائیں موزوں نہیں سمجھی جاتیں۔