زمین اور مریخ کے درمیان رابطہ عارضی طور پر معطل
زمین اور مریخ کے درمیان ریڈیو رابطہ کچھ دنوں کے لیے معطل ہو گیا ہے۔ یہ کوئی تکنیکی خرابی نہیں بلکہ خلا میں پیش آنے والا ایک قدرتی عمل ہے، جسے سولر کنجکشن کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس دوران سورج زمین اور مریخ کے عین درمیان آ جاتا ہے، جس کے باعث دونوں سیاروں کے درمیان بھیجے جانے والے ریڈیو سگنلز متاثر ہوتے ہیں۔ سورج سے خارج ہونے والی گرم اور برقی چارج شدہ گیسیں، جنہیں پلازما کہا جاتا ہے، سگنلز میں خلل پیدا کر سکتی ہیں۔ ناسا کے مطابق 29 دسمبر 2025 کی رات سے مریخ کے ساتھ رابطہ بند ہو چکا ہے، جو 9 جنوری 2026 تک بحال ہونے کی توقع ہے۔ اس عرصے میں مریخ پر موجود روبوٹک مشنز کو زمین سے کوئی نئی ہدایات ارسال نہیں کی جائیں گی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس مرحلے کے دوران معمولی سی سگنل خرابی بھی احکامات کو غلط بنا سکتی ہے، جس سے قیمتی خلائی مشنز کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے تمام مشنز کو عارضی طور پر خودکار نظام پر منتقل کر دیا گیا ہے، تاکہ وہ بغیر کسی بیرونی ہدایت کے محفوظ انداز میں اپنا معمول کا کام جاری رکھ سکیں۔
زمین اور مریخ کے درمیان رابطہ عارضی طور پر معطل
رپورٹ: اقصی بلوچ
زمین اور مریخ کے درمیان ریڈیو رابطہ کچھ دنوں کے لیے معطل ہو گیا ہے۔ یہ کوئی تکنیکی خرابی نہیں بلکہ خلا میں پیش آنے والا ایک قدرتی عمل ہے، جسے سولر کنجکشن کہا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس دوران سورج زمین اور مریخ کے عین درمیان آ جاتا ہے، جس کے باعث دونوں سیاروں کے درمیان بھیجے جانے والے ریڈیو سگنلز متاثر ہوتے ہیں۔ سورج سے خارج ہونے والی گرم اور برقی چارج شدہ گیسیں، جنہیں پلازما کہا جاتا ہے، سگنلز میں خلل پیدا کر سکتی ہیں۔

ناسا کے مطابق 29 دسمبر 2025 کی رات سے مریخ کے ساتھ رابطہ بند ہو چکا ہے، جو 9 جنوری 2026 تک بحال ہونے کی توقع ہے۔ اس عرصے میں مریخ پر موجود روبوٹک مشنز کو زمین سے کوئی نئی ہدایات ارسال نہیں کی جائیں گی۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس مرحلے کے دوران معمولی سی سگنل خرابی بھی احکامات کو غلط بنا سکتی ہے، جس سے قیمتی خلائی مشنز کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
اسی وجہ سے تمام مشنز کو عارضی طور پر خودکار نظام پر منتقل کر دیا گیا ہے، تاکہ وہ بغیر کسی بیرونی ہدایت کے محفوظ انداز میں اپنا معمول کا کام جاری رکھ سکیں۔