قدیم جزیرے میں انسان اور انسان نما مخلوق کے ایک ساتھ رہنے کے شواہد

قدیم جزیرے میں انسان اور انسان نما مخلوق کے ایک ساتھ رہنے کے شواہد

انڈونیشیا کے جزیرے سولاویزی میں ہونے والی ایک اہم آثارِ قدیمہ کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جدید انسان اور ایک قدیم انسان نما مخلوق نے ممکنہ طور پر ایک ہی غار کو استعمال کیا، اور دونوں ایک ہی دور میں وہاں موجود رہے ہوں گے۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے PLOS ONE میں شائع ہوئی ہے، جس کی تفصیلات بین الاقوامی ویب سائٹ نیو اٹلس نے شائع کیں۔ سولاویزی جزیرہ ایشیا اور آسٹریلیا کے درمیان واقع ہے اور قدیم زمانے میں انسانی ہجرت کے اہم راستوں میں شامل رہا ہے، اسی لیے یہ علاقہ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ جزیرے کے جنوبی حصے میں واقع لیانگ بولو بیٹو نامی غار میں 2013 سے کھدائی جاری ہے۔ سائنس دان اب تک تقریباً 8 میٹر گہرائی تک پہنچ چکے ہیں، جہاں سے دو لاکھ سال پرانے آثار ملے ہیں۔ تحقیق کے مطابق تقریباً 40 ہزار سال پہلے یہاں آثارِ قدیمہ میں واضح تبدیلی دیکھی گئی، جو جدید انسانوں کی آمد کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس دور میں جدید پتھر کے اوزار، زیورات، غاروں کے نقش و نگار اور علامتی طرزِ زندگی کے شواہد ملے ہیں۔ اس سے پہلے کی تہوں میں ایسے پتھر کے اوزار دریافت ہوئے ہیں جو ایک قدیم انسان نما مخلوق استعمال کرتی تھی۔ ان اوزاروں کے ساتھ جانوروں، خصوصاً بندروں کی ہڈیاں بھی ملی ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مخلوق شکار کرنے کی اچھی صلاحیت رکھتی تھی۔ تاہم اب تک اس انسان نما مخلوق کے فوسلز نہیں مل سکے، اس لیے اس کی شناخت یقینی طور پر ممکن نہیں ہو سکی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مخلوق ہومو ایریکٹس، ڈینسووانز یا کسی نامعلوم انسان نما نسل سے تعلق رکھتی ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ دونوں اقسام ایک ہی وقت میں غار میں موجود تھیں، لیکن شواہد اس امکان کو مضبوط بناتے ہیں۔ محققین کے مطابق لیانگ بولو بیٹو غار انسانی ارتقا کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ کھدائی کا عمل جاری رہے گا، اور امید ہے کہ مزید دریافتیں انسانی تاریخ اور قدیم ہجرت کے بارے میں نئی معلومات سامنے لائیں گی۔

قدیم جزیرے میں انسان اور انسان نما مخلوق کے ایک ساتھ رہنے کے شواہد

رپورٹ: اقصی بلوچ

انڈونیشیا کے جزیرے سولاویزی میں ہونے والی ایک اہم آثارِ قدیمہ کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جدید انسان اور ایک قدیم انسان نما مخلوق نے ممکنہ طور پر ایک ہی غار کو استعمال کیا، اور دونوں ایک ہی دور میں وہاں موجود رہے ہوں گے۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے PLOS ONE میں شائع ہوئی ہے، جس کی تفصیلات بین الاقوامی ویب سائٹ نیو اٹلس نے شائع کیں۔ سولاویزی جزیرہ ایشیا اور آسٹریلیا کے درمیان واقع ہے اور قدیم زمانے میں انسانی ہجرت کے اہم راستوں میں شامل رہا ہے، اسی لیے یہ علاقہ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔

جزیرے کے جنوبی حصے میں واقع لیانگ بولو بیٹو نامی غار میں 2013 سے کھدائی جاری ہے۔ سائنس دان اب تک تقریباً 8 میٹر گہرائی تک پہنچ چکے ہیں، جہاں سے دو لاکھ سال پرانے آثار ملے ہیں۔

تحقیق کے مطابق تقریباً 40 ہزار سال پہلے یہاں آثارِ قدیمہ میں واضح تبدیلی دیکھی گئی، جو جدید انسانوں کی آمد کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس دور میں جدید پتھر کے اوزار، زیورات، غاروں کے نقش و نگار اور علامتی طرزِ زندگی کے شواہد ملے ہیں۔

اس سے پہلے کی تہوں میں ایسے پتھر کے اوزار دریافت ہوئے ہیں جو ایک قدیم انسان نما مخلوق استعمال کرتی تھی۔ ان اوزاروں کے ساتھ جانوروں، خصوصاً بندروں کی ہڈیاں بھی ملی ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مخلوق شکار کرنے کی اچھی صلاحیت رکھتی تھی۔ تاہم اب تک اس انسان نما مخلوق کے فوسلز نہیں مل سکے، اس لیے اس کی شناخت یقینی طور پر ممکن نہیں ہو سکی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مخلوق ہومو ایریکٹس، ڈینسووانز یا کسی نامعلوم انسان نما نسل سے تعلق رکھتی ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ دونوں اقسام ایک ہی وقت میں غار میں موجود تھیں، لیکن شواہد اس امکان کو مضبوط بناتے ہیں۔

محققین کے مطابق لیانگ بولو بیٹو غار انسانی ارتقا کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ کھدائی کا عمل جاری رہے گا، اور امید ہے کہ مزید دریافتیں انسانی تاریخ اور قدیم ہجرت کے بارے میں نئی معلومات سامنے لائیں گی۔


Related News

سفر اور انسانی صحت . ایک نئی سائنسی تحقیق
سفر اور انسانی صحت . ایک نئی سائنسی تحقیق
ایک نئی تحقیق کے مطابق سفر صرف تفریح نہیں بلکہ انسانی صحت پر بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ مثبت سفری تجربات ذہنی...
آئینے کی مدد سے شکار کا سراغ لگانے کی صلاحیت، آکٹوپس کی ذہانت کا نیا ثبوت
آئینے کی مدد سے شکار کا سراغ لگانے کی صلاحیت، آکٹوپس کی ذہانت کا نیا ثبوت
امریکہ کی ڈارٹماؤتھ یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آکٹوپس آئینے کی مدد سے پوشیدہ شکار کا سراغ ل...
یونیسیف اور ای پی آئی بلوچستان کے اشتراک سے صحافیوں کیلئے “مس انفارمیشن مینجمنٹ اور روٹین ایمونائزیشن” پر تربیتی ورکشاپ
یونیسیف اور ای پی آئی بلوچستان کے اشتراک سے صحافیوں کیلئے “مس انفارمیشن مینجمنٹ اور روٹین ایمونائزیشن” پر تربیتی ورکشاپ
ای پی آئی ہیڈکوارٹر کوئٹہ میں یونیسیف اور ای پی آئی بلوچستان کے تعاون سے بلوچستان کے 37 اضلاع سے تعلق رکھنے وا...
آرٹیمس ٹو مشن کا دلچسپ پہلو: “رائز” نامی ننھا کھلونا بھی خلاء کی جانب روانہ
آرٹیمس ٹو مشن کا دلچسپ پہلو: “رائز” نامی ننھا کھلونا بھی خلاء کی جانب روانہ
ناسا کے آرٹیمس ٹو مشن میں “رائز” نامی ایک چھوٹا نرم کھلونا شامل کیا گیا ہے جو خلا میں پہنچ کر بے وزنی (زیرو گر...
خاموشی کو آواز دینے والی ٹیکنالوجی: فالج کے مریضوں کے لیے اے آئی کا نیا تحفہ
خاموشی کو آواز دینے والی ٹیکنالوجی: فالج کے مریضوں کے لیے اے آئی کا نیا تحفہ
جدید سائنس اور مصنوعی ذہانت نے ایک اور ایسا سنگِ میل عبور کر لیا ہے جو فالج اور بولنے میں دشواری کا شکار افراد...
ڈرون کا مؤثر توڑ، چین نے مائیکروویو شعاعوں والا جدید ہتھیار تیار کر لیا
ڈرون کا مؤثر توڑ، چین نے مائیکروویو شعاعوں والا جدید ہتھیار تیار کر لیا
چین نے ڈرون حملوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک جدید ہتھیار تیار کر لیا ہے، جو مائیکروویو شعاعوں کے ذریعے بیک وق...