جرمن سائنس دانوں نے پہلی بار ذہنی بیماری کا براہِ راست سبب بننے والا جین ڈھونڈ لیا
ذہنی بیماریوں کے بارے میں سائنس دانوں نے ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ جرمنی کے محققین نے پہلی بار ایسا جین دریافت کیا ہے جو خود براہِ راست ذہنی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔ اس جین کا نام GRIN2A ہے۔ اس سے پہلے ماہرین کا خیال تھا کہ ذہنی امراض ایک نہیں بلکہ کئی جینز کے مجموعی اثرات سے پیدا ہوتے ہیں، لیکن نئی تحقیق نے یہ نظریہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ سائنسی جریدے مالیکیولر سائیکیٹری میں شائع رپورٹ کے مطابق، GRIN2A جین کی مخصوص اقسام رکھنے والے افراد میں ذہنی بیماری کی علامات بہت جلد ظاہر ہو جاتی ہیں ۔ بعض بچوں میں، جب کہ عام طور پر یہ علامات بڑوں میں سامنے آتی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا میں ہر 7 میں سے ایک شخص کسی نہ کسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے، جن میں ڈپریشن اور اینزائٹی سب سے عام ہیں۔ ماہرین کے مطابق جینیات ذہنی بیماریوں میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اور خاندان میں ایسا مرض ہونا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ تاہم اب تک یہی سمجھا جاتا رہا کہ اس کے پیچھے کئی جین مل کر کام کرتے ہیں۔ لیکن اب پہلی بار ایک واحد جین کو براہِ راست وجہ قرار دیا گیا ہے۔ تحقیق کے مرکزی مصنف، پروفیسر یُوہانس لیمکے کے مطابق: ہم نے ثابت کیا ہے کہ GRIN2A وہ پہلا جین ہے جو اپنے طور پر ذہنی بیماری پیدا کر سکتا ہے۔ محققین نے ان 121 افراد کا ڈیٹا جانچا جن کے اس جین میں تبدیلی موجود تھی۔ نتائج کے مطابق یہ جین نہ صرف سکیزوفرینیا بلکہ دیگر ذہنی بیماریوں سے بھی وابستہ ہے، اور ان افراد میں علامات بچپن یا نوعمری میں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ حیران کن طور پر کچھ مریضوں میں صرف ذہنی علامات تھیں، حالانکہ عام طور پر GRIN2A کی تبدیلیاں مرگی یا ذہنی کمزوری سے بھی منسلک ہوتی ہیں۔ یہ جین دماغ میں اعصابی خلیوں کے سگنلز کو کنٹرول کرتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ اس جین کی مخ صوص اقسام دماغ کے NMDA ریسیپٹر کی کارکردگی کم کر دیتی ہیں — یہ ایک اہم پروٹین ہے جو دماغی خلیوں کے رابطے کو برقرار رکھتا ہے۔ ابتدائی علاج کے تجربات میں ایسے مریضوں کو L-serine نامی غذائی سپلیمنٹ دیا گیا، جس کے بعد ان میں ذہنی علامات میں واضح بہتری دیکھی گئی۔ L-serine دماغ میں NMDA ریسیپٹر کو بہتر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔ پروفیسر لیمکے اور ان کی ٹیم گزشتہ 15 سال سے بچوں میں دماغی امراض پر تحقیق کر رہی ہے، اور انہی کی قائم کردہ دنیا کی سب سے بڑیGRIN2A مریضوں کی رجسٹری اس اہم دریافت کا ذریعہ بنی۔
جرمن سائنس دانوں نے پہلی بار ذہنی بیماری کا براہِ راست سبب بننے والا جین ڈھونڈ لیا
رپورٹ : اقصی بلوچ
ذہنی بیماریوں کے بارے میں سائنس دانوں نے ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ جرمنی کے محققین نے پہلی بار ایسا جین دریافت کیا ہے جو خود براہِ راست ذہنی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔ اس جین کا نام GRIN2A ہے۔
اس سے پہلے ماہرین کا خیال تھا کہ ذہنی امراض ایک نہیں بلکہ کئی جینز کے مجموعی اثرات سے پیدا ہوتے ہیں، لیکن نئی تحقیق نے یہ نظریہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ سائنسی جریدے مالیکیولر سائیکیٹری میں شائع رپورٹ کے مطابق، GRIN2A جین کی مخصوص اقسام رکھنے والے افراد میں ذہنی بیماری کی علامات بہت جلد ظاہر ہو جاتی ہیں ۔ بعض بچوں میں، جب کہ عام طور پر یہ علامات بڑوں میں سامنے آتی ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا میں ہر 7 میں سے ایک شخص کسی نہ کسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے، جن میں ڈپریشن اور اینزائٹی سب سے عام ہیں۔ ماہرین کے مطابق جینیات ذہنی بیماریوں میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، اور خاندان میں ایسا مرض ہونا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ تاہم اب تک یہی سمجھا جاتا رہا کہ اس کے پیچھے کئی جین مل کر کام کرتے ہیں۔ لیکن اب پہلی بار ایک واحد جین کو براہِ راست وجہ قرار دیا گیا ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف، پروفیسر یُوہانس لیمکے کے مطابق:
ہم نے ثابت کیا ہے کہ GRIN2A وہ پہلا جین ہے جو اپنے طور پر ذہنی بیماری پیدا کر سکتا ہے۔
محققین نے ان 121 افراد کا ڈیٹا جانچا جن کے اس جین میں تبدیلی موجود تھی۔ نتائج کے مطابق یہ جین نہ صرف سکیزوفرینیا بلکہ دیگر ذہنی بیماریوں سے بھی وابستہ ہے، اور ان افراد میں علامات بچپن یا نوعمری میں ظاہر ہو جاتی ہیں۔ حیران کن طور پر کچھ مریضوں میں صرف ذہنی علامات تھیں، حالانکہ عام طور پر GRIN2A کی تبدیلیاں مرگی یا ذہنی کمزوری سے بھی منسلک ہوتی ہیں۔
یہ جین دماغ میں اعصابی خلیوں کے سگنلز کو کنٹرول کرتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ اس جین کی مخ
صوص اقسام دماغ کے NMDA ریسیپٹر کی کارکردگی کم کر دیتی ہیں — یہ ایک اہم پروٹین ہے جو دماغی خلیوں کے رابطے کو برقرار رکھتا ہے۔
ابتدائی علاج کے تجربات میں ایسے مریضوں کو L-serine نامی غذائی سپلیمنٹ دیا گیا، جس کے بعد ان میں ذہنی علامات میں واضح بہتری دیکھی گئی۔ L-serine دماغ میں NMDA ریسیپٹر کو بہتر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔
پروفیسر لیمکے اور ان کی ٹیم گزشتہ 15 سال سے بچوں میں دماغی امراض پر تحقیق کر رہی ہے، اور انہی کی قائم کردہ دنیا کی سب سے بڑیGRIN2A مریضوں کی رجسٹری اس اہم دریافت کا ذریعہ بنی۔
