خلا میں ستاروں کی پیدائش گاہ کی دلکش تصویر جاری
اسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی گہرائیوں میں موجود ایک شاندار ستارہ ساز خطے کی نئی اور حیرت انگیز تصویر جاری کر دی ہے، جو خلا کے حسین مناظر کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ تصویر لارج میجلینک کلاؤڈ کے ایک حصے کی ہے، جو زمین سے تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ تصویر میں نظر آنے والا منظر دراصل ایک لاکھ 60 ہزار سال پرانا ہے۔ تصویر میں دکھایا گیا ستارہ ساز علاقہ بے حد وسیع ہے، جہاں ایک سرے سے دوسرے سرے تک فاصلہ تقریباً 150 نوری سال پر محیط ہے۔ اس خطے میں سرخ رنگ کی ٹھنڈی ہائیڈروجن گیس موجود ہے، جو ستاروں کی تشکیل کے لیے بنیادی ایندھن کا کام کرتی ہے۔ کچھ طاقتور اور ناہموار ستاروں نے اپنے اردگرد کے ماحول میں شدید دھماکے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں گیس کے بڑے بڑے بلبلے بن گئے ہیں جو تصویر میں واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ یہ عظیم بادل زمین سے جنوبی نصف کرے میں واقع ڈوراڈو اور مینسا نامی جھرمٹوں کی سمت دیکھا جا سکتا ہے، اور صاف و تاریک آسمان میں اسے ننگی آنکھ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
خلا میں ستاروں کی پیدائش گاہ کی دلکش تصویر جاری
رپورٹ: اقصی بلوچ
ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی گہرائیوں میں موجود ایک شاندار ستارہ ساز خطے کی نئی اور حیرت انگیز تصویر جاری کر دی ہے، جو خلا کے حسین مناظر کو اجاگر کرتی ہے۔

یہ تصویر لارج میجلینک کلاؤڈ کے ایک حصے کی ہے، جو زمین سے تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ تصویر میں نظر آنے والا منظر دراصل ایک لاکھ 60 ہزار سال پرانا ہے۔
تصویر میں دکھایا گیا ستارہ ساز علاقہ بے حد وسیع ہے، جہاں ایک سرے سے دوسرے سرے تک فاصلہ تقریباً 150 نوری سال پر محیط ہے۔ اس خطے میں سرخ رنگ کی ٹھنڈی ہائیڈروجن گیس موجود ہے، جو ستاروں کی تشکیل کے لیے بنیادی ایندھن کا کام کرتی ہے۔
کچھ طاقتور اور ناہموار ستاروں نے اپنے اردگرد کے ماحول میں شدید دھماکے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں گیس کے بڑے بڑے بلبلے بن گئے ہیں جو تصویر میں واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔
یہ عظیم بادل زمین سے جنوبی نصف کرے میں واقع ڈوراڈو اور مینسا نامی جھرمٹوں کی سمت دیکھا جا سکتا ہے، اور صاف و تاریک آسمان میں اسے ننگی آنکھ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔