60,000 سال پہلے انسانوں نے شکار کے لیے زہریلے تیر استعمال کیے
ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ جنوبی افریقہ میں رہنے والے شکار کرنے والے انسانوں نے تقریباً 60,000 سال قبل جانوروں کے شکار کے لیے زہریلے تیر استعمال کیے تھے۔ یہ اب تک کے سب سے قدیم زہریلے تیر ہیں۔ تحقیق میں پتہ چلا کہ کوارٹز کے تیر پر پودوں سے حاصل کردہ زہر کے آثار موجود تھے۔ یہ زہر گیفبول پودے (Boophone disticha) سے بنایا جاتا تھا، جسے مقامی شکار آج بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ زہریلے تیر جانوروں کو فوراً نہیں مارتے تھے بلکہ ان کے جسم کو کمزور کر دیتے تھے، تاکہ شکار کرنے والوں کو جانور کا پیچھا کرنے میں آسانی ہو۔ تحقیق کے مطابق زہر میں دو کیمیکلز، buphandrine اور epibuphanisine، موجود تھے جو تیر پر ہزاروں سال بعد بھی باقی ہیں۔ شکار کرنے والے تیر کو زہر لگانے کے لیے پودے کے گچھے کو کاٹ کر یا چبھاکر تیار کرتے تھے اور سورج یا حرارت سے زہر مضبوط کرتے تھے۔ تھوڑی مقدار میں بھی یہ زہر چھوٹے جانوروں کو چند منٹوں میں مار سکتا تھا اور بڑے جانور یا انسانوں پر شدید اثر ڈال سکتا تھا۔ یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ قدیم انسانوں کی سوچنے، منصوبہ بنانے اور شکار کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ تھی۔ اس سے پہلے سب سے پرانی نشاندہی 4,400 سال پرانی مصر کی ہڈیوں والے تیر اور جنوبی افریقہ میں 6,700 سال پرانے تیر سے ہوئی تھی۔ یہ نئی دریافت بتاتی ہے کہ انسانوں نے زہریلے تیر استعمال کرنے کا علم بہت پہلے حاصل کر لیا تھا۔
60,000 سال پہلے انسانوں نے شکار کے لیے زہریلے تیر استعمال کیے
رپورٹ: اقصی بلوچ
ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ جنوبی افریقہ میں رہنے والے شکار کرنے والے انسانوں نے تقریباً 60,000 سال قبل جانوروں کے شکار کے لیے زہریلے تیر استعمال کیے تھے۔ یہ اب تک کے سب سے قدیم زہریلے تیر ہیں۔

تحقیق میں پتہ چلا کہ کوارٹز کے تیر پر پودوں سے حاصل کردہ زہر کے آثار موجود تھے۔ یہ زہر گیفبول پودے (Boophone disticha) سے بنایا جاتا تھا، جسے مقامی شکار آج بھی استعمال کرتے ہیں۔
یہ زہریلے تیر جانوروں کو فوراً نہیں مارتے تھے بلکہ ان کے جسم کو کمزور کر دیتے تھے، تاکہ شکار کرنے والوں کو جانور کا پیچھا کرنے میں آسانی ہو۔
تحقیق کے مطابق زہر میں دو کیمیکلز، buphandrine اور epibuphanisine، موجود تھے جو تیر پر ہزاروں سال بعد بھی باقی ہیں۔ شکار کرنے والے تیر کو زہر لگانے کے لیے پودے کے گچھے کو کاٹ کر یا چبھاکر تیار کرتے تھے اور سورج یا حرارت سے زہر مضبوط کرتے تھے۔ تھوڑی مقدار میں بھی یہ زہر چھوٹے جانوروں کو چند منٹوں میں مار سکتا تھا اور بڑے جانور یا انسانوں پر شدید اثر ڈال سکتا تھا۔

یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ قدیم انسانوں کی سوچنے، منصوبہ بنانے اور شکار کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ تھی۔ اس سے پہلے سب سے پرانی نشاندہی 4,400 سال پرانی مصر کی ہڈیوں والے تیر اور جنوبی افریقہ میں 6,700 سال پرانے تیر سے ہوئی تھی۔ یہ نئی دریافت بتاتی ہے کہ انسانوں نے زہریلے تیر استعمال کرنے کا علم بہت پہلے حاصل کر لیا تھا۔