شخصیت اور کردار: سائنسی اور اسلامی نقطۂ نظر

شخصیت اور کردار: سائنسی اور اسلامی نقطۂ نظر

یہ تحریر شخصیت اور کردار کے فرق اور باہمی تعلق کو واضح کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ شخصیت انسان کی فطری عادتوں اور مزاج کا مجموعہ ہوتی ہے، جبکہ کردار اس کی اخلاقی خوبیوں اور عملی رویّوں سے بنتا ہے۔ سائنس کے مطابق انسان کی عادتیں اور کردار وقت، تربیت اور مسلسل عمل سے بدلے جا سکتے ہیں، جبکہ اسلام میں اچھے اخلاق کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی بہترین کردار کی عملی مثال ہے۔ تحریر کا نتیجہ یہ ہے کہ شخصیت انسان کی پہچان بنتی ہے، مگر کردار اسے عزت، اعتماد اور مقام دلاتا ہے۔

تحریر : ماہ رنگ 
کردار اور شخصیت انسان کی زندگی کے دو بہت اہم حصے ہیں جو اس کے رویّے، سوچ اور دوسروں سے برتاؤ کو ظاہر کرتے ہیں۔ شخصیت سے مراد انسان کی فطری عادتیں، بات کرنے کا انداز اور مزاج ہوتا ہے، جیسے کوئی انسان خاموش ہے یا باتونی، پُرسکون ہے یا جلد غصہ کرتا ہے، جبکہ کردار انسان کی اچھی یا بری اخلاقی صفات کو کہتے ہیں، جیسے سچ بولنا، ایمانداری، صبر، ذمہ داری اور دوسروں کی مدد کرنا۔ سائنس کے مطابق شخصیت کا کچھ حصہ انسان کو پیدائش سے ملتا ہے، جو جینز کے ذریعے آتا ہے، لیکن اس پر گھر کا ماحول، والدین کی تربیت، تعلیم، دوست اور معاشرہ بھی گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ انسانی دماغ میں سیکھنے اور بدلنے کی صلاحیت ہوتی ہے، جسے برین پلاسٹیسٹی کہا جاتا ہے، اسی وجہ سے انسان محنت اور مسلسل کوشش سے اپنی عادتیں اور رویّے بہتر بنا سکتا ہے۔

سائنس یہ بھی بتاتی ہے کہ کردار کسی ایک دن میں نہیں بنتا بلکہ وقت کے ساتھ بنتا ہے، کیونکہ جب انسان بار بار اچھے کام کرتا ہے تو وہ کام اس کی عادت بن جاتے ہیں، اور دماغ میں مضبوط راستے بن جاتے ہیں جو اچھے رویّے کو مستقل بنا دیتے ہیں۔ نیورو سائنس کے مطابق دماغ کا اگلا حصہ انسان کو صحیح اور غلط میں فرق کرنے، جذبات پر قابو رکھنے اور اچھے فیصلے کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اسلام میں کردار کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے، یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اچھے اخلاق سکھانے کے لیے بھیجا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں اچھا انسان بننا کتنا ضروری ہے۔ قرآن اور حدیث میں سچائی، صبر، نرمی، رحم دلی، انصاف اور عاجزی کی بار بار تعلیم دی گئی ہے، کیونکہ یہ خوبیاں نہ صرف انسان کے کردار کو مضبوط بناتی ہیں بلکہ معاشرے میں امن اور اعتماد بھی پیدا کرتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین مثال ہے، آپ ﷺ نے ہمیشہ سچ بولا، معاف کیا، صبر سے کام لیا اور دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کیا، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ اگر انسان میں کوئی کمزوری ہو تو وہ خود احتسابی اور کوشش کے ذریعے خود کو بہتر بنا سکتا ہے، کیونکہ اللہ کوشش کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ جب ہم سائنس اور اسلام دونوں کو ساتھ دیکھتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسان اپنی شخصیت اور کردار کو بہتر بنا سکتا ہے اگر وہ شعور، محنت اور مسلسل عمل کو اپنائے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ شخصیت انسان کو پہچان دیتی ہے، مگر کردار اسے عزت، اعتماد اور مقام دلاتا ہے، کیونکہ لوگ خوبصورت باتوں سے نہیں بلکہ اچھے کاموں اور اچھے اخلاق سے یاد رکھتے ہیں، اور یہی ایک اچھے انسان ہونے کی اصل پہچان ہے


Related News

ایتھیکل ڈائلیما: اصول، مفاد اور انتخاب
ایتھیکل ڈائلیما: اصول، مفاد اور انتخاب
ایتھیکل ڈائلیماز زندگی کے وہ مشکل موڑ ہیں جہاں ہر انتخاب کسی نہ کسی نقصان یا ناانصافی سے جڑا ہوتا ہے۔ درست فی...
سنجاوی میں بلیک امبر کی کاشت میں اضافہ، کاشتکاروں کے لیے نئی معاشی امید
سنجاوی میں بلیک امبر کی کاشت میں اضافہ، کاشتکاروں کے لیے نئی معاشی امید
سنجاوی میں بلیک امبر کی کاشت تیزی سے فروغ پا رہی ہے اور اس کی بڑھتی ہوئی طلب و بہتر قیمت نے اسے منافع بخش فصل...
اچھی عادات کیسے اپنائیں اور انہیں مستقل کیسے بنائیں؟
اچھی عادات کیسے اپنائیں اور انہیں مستقل کیسے بنائیں؟
اچھی عادات اپنانا محض ارادوں کا نہیں بلکہ ایک مؤثر نظام، چھوٹے اقدامات اور مسلسل کوشش کا نام ہے۔ ماہرین کے مط...
منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن: آگاہی، روک تھام اور اجتماعی ذمہ داری
منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن: آگاہی، روک تھام اور اجتماعی ذمہ داری
منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ نوجوانوں کو...
جھل مگسی کے امام بخش سوشل میڈیا پر کامیابی کی نئی مثال بن گئے
جھل مگسی کے امام بخش سوشل میڈیا پر کامیابی کی نئی مثال بن گئے
جھل مگسی سے تعلق رکھنے والے نوجوان کانٹینٹ کریئیٹر امام بخش نے محدود وسائل کے باوجود تخلیقی صلاحیتوں اور محنت...
جب  غذائی سپلیمنٹس نقصان دہ بن جائیں
جب غذائی سپلیمنٹس نقصان دہ بن جائیں
غذائی سپلیمنٹس کا غیر ضروری اور زیادہ استعمال صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور مختلف جسمانی پیچیدگیوں کا...