جب غذائی سپلیمنٹس نقصان دہ بن جائیں
غذائی سپلیمنٹس کا غیر ضروری اور زیادہ استعمال صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور مختلف جسمانی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق متوازن غذا کے بغیر صرف سپلیمنٹس پر انحصار نقصان دہ اثرات پیدا کر سکتا ہے۔
تحریر : اِرم سہیل
آج کے دور میں صحت مند زندگی کے لیے صرف متوازن غذا اور ورزش ہی نہیں بلکہ وٹامنز اور مختلف غذائی سپلیمنٹس کا استعمال بھی عام ہو گیا ہے۔ ان مصنوعات کو اکثر طاقت، توانائی اور بہتر صحت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے غیر ضروری یا غلط استعمال سے صحت کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔
تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ غذائی سپلیمنٹس کے منفی اثرات کی وجہ سے ہزاروں افراد کو ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ “قدرتی” یا “ہربل” ہونے کا مطلب ہمیشہ “محفوظ” ہونا نہیں ہوتا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان مصنوعات میں ایسے فعال اجزاء ہوتے ہیں جو جسم کے نظام پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے استعمال سے بعض اوقات بلڈ پریشر بڑھنا، دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونا، چکر آنا، متلی اور نظامِ ہاضمہ کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
زیادہ خطرہ اُن سپلیمنٹس سے ہوتا ہے جو وزن کم کرنے، توانائی بڑھانے، جسم سازی یا جنسی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح وٹامنز کا غیر ضروری استعمال بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر آئرن، کیلشیم، پوٹاشیم اور ملٹی وٹامنز جب بغیر ضرورت یا زیادہ مقدار میں لیے جائیں۔
بچے اور بزرگ افراد ان کے مضر اثرات سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ چھوٹے بچوں میں غیر ارادی طور پر وٹامنز کھانے سے زہریلے اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں، جبکہ بزرگ افراد میں زیادہ مقدار یا غلط استعمال کی وجہ سے جسمانی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ اکثر لوگ ایک ساتھ کئی سپلیمنٹس استعمال کرتے ہیں۔ یہ “کاک ٹیل” جسم میں وٹامنز اور منرلز کے توازن کو خراب کر سکتی ہے۔ بعض وٹامنز جسم میں جمع ہو کر زہریلے اثرات پیدا کرتے ہیں، جبکہ مختلف منرلز ایک دوسرے کے جذب ہونے کے عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سپلیمنٹس پر ادویات جیسی سخت نگرانی موجود نہیں ہوتی، اسی لیے ان کی حفاظت اور مقدار کے بارے میں مکمل آگاہی نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ بغیر مشورے کے ان کا استعمال کرتے ہیں اور بعد میں صحت کے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اس کے باوجود یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کچھ مخصوص حالات میں سپلیمنٹس فائدہ مند ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب جسم میں کسی وٹامن یا غذائیت کی کمی ہو۔ لیکن ان کا استعمال ہمیشہ ڈاکٹر یا ماہر غذائیت کے مشورے سے ہونا چاہیے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ صحت کا اصل راز کسی ایک گولی یا سپلیمنٹ میں نہیں بلکہ متوازن غذا، مناسب طرزِ زندگی اور شعوری احتیاط میں پوشیدہ ہے۔

Keywords : Dietary Supplements, Health Risks, Overuse, Nutrition Safety