پی آئی اے کی نجکاری: ستر سالہ قومی ایئرلائن کے لیے نیا باب

پی آئی اے کی نجکاری: ستر سالہ قومی ایئرلائن کے لیے نیا باب

23 دسمبر 2025 کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری مکمل ہوئی، جس کے تحت عارف حبیب کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز 135 ارب روپے میں خرید لیے۔ سخت مقابلے کے بعد ہونے والے اس تاریخی معاہدے کو پاکستان کی دو دہائیوں میں سب سے بڑی نجکاری قرار دیا جا رہا ہے۔ نئی انتظامیہ نے طیاروں کی تعداد بڑھانے اور ایئرلائن کو دوبارہ خطے کی بہترین فضائی کمپنیوں میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ حکومت 25 فیصد حصص اپنے پاس برقرار رکھے گی۔ یہ قدم خسارے میں چلنے والی قومی ایئرلائن کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

پی آئی اے کی نجکاری: 70 سالہ قومی ایئرلائن کے لیے نیا باب

تحریر: سیدہ نتاشا

پاکستان کی معاشی تاریخ میں ایک غیر معمولی اور فیصلہ کن لمحہ اس وقت آیا جب پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل کامیابی سے مکمل ہوا۔ 23 دسمبر 2025 کو اسلام آباد میں ہونے والی اس تاریخی تقریب میں عارف حبیب کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز 135 ارب روپے میں خرید کر ملک کی تقریباً دو دہائیوں بعد سب سے بڑی نجکاری اپنے نام کر لی۔ اس پورے عمل کو لائیو ٹیلی وژن پر نشر کیا گیا، جس سے شفافیت اور قومی اہمیت دونوں واضح ہو گئیں۔
نجکاری کے آغاز میں سیل بند بولیوں کا مرحلہ آیا، جہاں مختلف سرمایہ کاروں نے اپنی پیشکشیں جمع کروائیں۔ عارف حبیب کنسورشیم نے 115 ارب روپے کی ابتدائی بولی دی، جبکہ لکی کنسورشیم کی بولی 101.5 ارب روپے رہی۔ ایئر بلیو کی جانب سے دی جانے والی 26.5 ارب روپے کی بولی ریفرنس پرائس 100 ارب روپے سے کم ہونے کے باعث مسترد کر دی گئی۔ بعد ازاں اوپن آکشن کے مرحلے میں عارف حبیب اور لکی کنسورشیم کے درمیان سخت اور سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ لکی کنسورشیم نے اپنی بولی بتدریج بڑھاتے ہوئے 134 ارب روپے تک پہنچائی، تاہم عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی حتمی بولی دے کر بازی اپنے نام کر لی۔ اس موقع پر لکی کنسورشیم نے فاتح کنسورشیم کو مبارکباد دی اور مقابلے کا اختتام ہوا۔
عارف حبیب کنسورشیم عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کی قیادت میں تشکیل دیا گیا ہے، جس میں فاطمہ فرٹیلائزر، دی سٹی اسکولز اور لیک سٹی ہولڈنگز شامل ہیں۔ معاہدے کے مطابق نجکاری سے حاصل ہونے والی مجموعی رقم کا 92.5 فیصد، یعنی تقریباً 125 ارب روپے، پی آئی اے کی بہتری، جدید خطوط پر استوار کرنے اور سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جائے گا، جبکہ 7.5 فیصد رقم، جو تقریباً 10.12 ارب روپے بنتی ہے، حکومت پاکستان کو حاصل ہوگی۔ حکومت بدستور پی آئی اے کے 25 فیصد شیئرز اپنے پاس رکھے گی، جنہیں مستقبل میں مناسب وقت پر پریمیم کے ساتھ فروخت کیے جانے کا امکان ہے۔
نئے انتظامیہ کی جانب سے پی آئی اے کی بحالی کے لیے بڑے دعوے سامنے آئے ہیں۔ عارف حبیب کنسورشیم نے اعلان کیا ہے کہ فضائی بیڑے میں شامل طیاروں کی تعداد 38 سے بڑھا کر 65 کی جائے گی اور سروس کے معیار، انتظامی ڈھانچے اور مالی نظم و ضبط کو بہتر بنایا جائے گا۔ کنسورشیم کا کہنا ہے کہ جدید سرمایہ کاری اور پیشہ ورانہ حکمتِ عملی کے ذریعے پی آئی اے کو ایک بار پھر خطے کی نمایاں ایئرلائنز میں شامل کیا جائے گا۔
یہ نجکاری حکومت پاکستان کے لیے بھی ایک بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ پی آئی اے گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل خسارے میں تھی اور قومی خزانے پر اربوں روپے کا بوجھ بن چکی تھی۔ نجی انتظام میں جانے کے بعد نہ صرف سرکاری سبسڈی کا سلسلہ ختم ہوگا بلکہ قومی ایئرلائن کو نئے مواقع اور بہتر مستقبل میسر آنے کی امید بھی پیدا ہو گئی ہے۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس ادارے کی بنیاد 10 جنوری 1955 کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن آرڈیننس 1955 کے تحت رکھی گئی، جب اورینٹ ایئرویز کو قومی ایئرلائن میں ضم کیا گیا۔ اورینٹ ایئرویز دراصل 1946 میں قائم ہوئی تھی، جسے قیامِ پاکستان کے بعد قومی فضائی کمپنی کا درجہ دیا گیا۔ 1955 میں ہی پی آئی اے نے کراچی سے قاہرہ اور روم کے راستے لندن کے لیے اپنی پہلی بین الاقوامی پرواز کا آغاز کیا، جو اس کے باضابطہ افتتاح کا اہم مرحلہ تھا۔


1960 کی دہائی پی آئی اے کا سنہری دور کہلاتی ہے، جب اس نے جیٹ طیارے متعارف کروائے، چین، ماسکو اور دیگر عالمی شہروں کے لیے پروازیں شروع کیں اور ایشیا کی پہلی جیٹ ایئرلائن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ وقت کے ساتھ یہ قومی ایئرلائن پاکستان کی شناخت اور وقار کی علامت بنی، تاہم بعد کے برسوں میں بدانتظامی اور مالی مسائل نے اسے شدید مشکلات سے دوچار کر دیا۔
ستر سال سے زائد عرصے تک قومی ملکیت میں رہنے کے بعد پی آئی اے اب نجی انتظام میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ تبدیلی محض ایک کاروباری فیصلہ نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی سمت میں ایک اہم موڑ ہے۔ اب یہ نجکاری اس امید کے ساتھ دیکھی جا رہی ہے کہ نئی قیادت اور سرمایہ کاری کے ذریعے پی آئی اے ایک بار پھر اپنی کھوئی ہوئی شان بحال کرے گی اور پاکستانی فضاؤں میں کامیابی کی نئی کہانی رقم ہوگی۔


Related News

معرکۂ حق ،   اتحاد، قربانی اور قومی عزم کی روشن مثال
معرکۂ حق ، اتحاد، قربانی اور قومی عزم کی روشن مثال
معرکۂ حق قومی اتحاد، قربانی اور بہادری کی علامت ہے، جس نے پاکستانی قوم کے حوصلے اور حب الوطنی کے جذبے کو مزید...
قدرت کا شاہکار: پریگرین فالکن کی رفتار اور جدید ہوابازی کی تحریک
قدرت کا شاہکار: پریگرین فالکن کی رفتار اور جدید ہوابازی کی تحریک
پریگرین فالکن دنیا کی تیز ترین پرندہ ہے جو شکار کے دوران حیرت انگیز رفتار حاصل کرتا ہے۔ اس کے جسم کی منفرد ساخ...
وائیکنگ تہذیب: حقیقت، افسانہ اور تاریخی پس منظر
وائیکنگ تہذیب: حقیقت، افسانہ اور تاریخی پس منظر
یہ تحریر وائیکنگز کے بارے میں پائے جانے والے عام تصورات اور تاریخی حقائق کے درمیان فرق کو واضح کرتی ہے۔ آٹھویں...
زمین پر درخت کہکشاں کے ستاروں سے زیادہ: ایک حیران کن سائنسی انکشاف
زمین پر درخت کہکشاں کے ستاروں سے زیادہ: ایک حیران کن سائنسی انکشاف
سائنسی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 3 کھرب درخت موجود ہیں، جو کہکشاں Milky Way کے اندازاً ستاروں سے بھی...
اسٹیویا: صحت مند زندگی کے لیے قدرتی مٹھاس
اسٹیویا: صحت مند زندگی کے لیے قدرتی مٹھاس
اسٹیویا ایک قدرتی پودا ہے جو عام چینی کے مقابلے میں زیادہ میٹھا مگر تقریباً بغیر کیلوریز کے ہوتا ہے۔ یہ خصوصیت...
چنگ شیہ — تاریخ کی سب سے طاقتور خاتون سمندری ڈاکو
چنگ شیہ — تاریخ کی سب سے طاقتور خاتون سمندری ڈاکو
چنگ شیہ، جنہیں Ching Shih اور Zheng Yi Sao کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، تاریخ کی سب سے کامیاب اور بااثر خاتون س...