انسانی دماغ کی میموری کتنی ہوتی ہے؟ حیران کن سائنسی حقیقت

انسانی دماغ کی میموری کتنی ہوتی ہے؟ حیران کن سائنسی حقیقت

اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کا دماغ بھی کمپیوٹر کی طرح ہوتا ہے، جس کی ایک حد تک میموری ہوتی ہے اور پھر وہ بھر جاتی ہے۔ لیکن سائنس دانوں کے مطابق انسانی دماغ کی میموری تقریباً لامحدود ہوتی ہے اور یہ کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ میں یادداشتیں کمپیوٹر کی فائلوں کی طرح محفوظ نہیں ہوتیں، بلکہ یہ دماغی خلیوں یعنی نیورونز کے ایک جال (نیٹ ورک) میں محفوظ ہوتی ہیں۔ انسانی دماغ میں تقریباً 86 ارب نیورونز موجود ہوتے ہیں، جو مختلف انداز میں آپس میں جُڑ کر یادداشتیں بناتے ہیں۔ جب ہم کچھ نیا سیکھتے ہیں تو دماغ کے کئی خلیے ایک ساتھ متحرک ہو جاتے ہیں۔ ہر یادداشت ایک ہی خلیے میں محفوظ نہیں ہوتی بلکہ نیورونز کے ایک پورے نیٹ ورک میں پھیل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی نیورون کئی مختلف یادداشتوں کا حصہ بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دماغ میں یادداشتیں مختلف حصوں میں محفوظ ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کو کسی نیلے پھول کی خوشبو یاد ہے تو اس کی رنگت اور خوشبو دماغ کے الگ الگ حصوں سے جڑی ہوتی ہیں، لیکن مل کر ایک ہی یادداشت بناتی ہیں۔ اصل فرق نیورونز کی تعداد نہیں بلکہ ان کے جُڑنے کے انداز میں ہوتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چونکہ نیورونز کے آپس میں جُڑنے کے طریقے بے شمار ہیں، اس لیے دماغ میں یادداشتوں کی گنجائش بھی تقریباً لامحدود ہوتی ہے۔ یعنی انسان جتنا چاہے سیکھ سکتا ہے، دماغ میں جگہ ختم نہیں ہوتی۔ تاہم ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ یادداشت ہمیشہ سو فیصد درست نہیں ہوتی۔ جب ہم کسی پرانی بات کو یاد کرتے ہیں تو دماغ اس یادداشت کو دوبارہ کھولتا ہے، اور اس دوران اس میں معمولی تبدیلی آ سکتی ہے۔ اسی وجہ سے ایک ہی واقعہ کو مختلف لوگ مختلف انداز میں یاد کرتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یادداشت کے چھوٹے چھوٹے حصے بدل سکتے ہیں، جبکہ واقعے کا بنیادی حصہ عام طور پر یاد رہتا ہے۔ اسی لیے بعض اوقات ہمیں لگتا ہے کہ ہماری یاد بالکل درست ہے، لیکن حقیقت کچھ اور ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق انسان کو اپنی یادداشت ختم ہونے کی فکر نہیں کرنی چاہیے، البتہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر یادداشت ہمیشہ مکمل طور پر درست نہیں ہوتی۔

انسانی دماغ کی میموری کتنی ہوتی ہے؟ حیران کن سائنسی حقیقت

رپورٹ: اقصی بلوچ

اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کا دماغ بھی کمپیوٹر کی طرح ہوتا ہے، جس کی ایک حد تک میموری ہوتی ہے اور پھر وہ بھر جاتی ہے۔ لیکن سائنس دانوں کے مطابق انسانی دماغ کی میموری تقریباً لامحدود ہوتی ہے اور یہ کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دماغ میں یادداشتیں کمپیوٹر کی فائلوں کی طرح محفوظ نہیں ہوتیں، بلکہ یہ دماغی خلیوں یعنی نیورونز کے ایک جال (نیٹ ورک) میں محفوظ ہوتی ہیں۔ انسانی دماغ میں تقریباً 86 ارب نیورونز موجود ہوتے ہیں، جو مختلف انداز میں آپس میں جُڑ کر یادداشتیں بناتے ہیں۔

جب ہم کچھ نیا سیکھتے ہیں تو دماغ کے کئی خلیے ایک ساتھ متحرک ہو جاتے ہیں۔ ہر یادداشت ایک ہی خلیے میں محفوظ نہیں ہوتی بلکہ نیورونز کے ایک پورے نیٹ ورک میں پھیل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی نیورون کئی مختلف یادداشتوں کا حصہ بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دماغ میں یادداشتیں مختلف حصوں میں محفوظ ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کو کسی نیلے پھول کی خوشبو یاد ہے تو اس کی رنگت اور خوشبو دماغ کے الگ الگ حصوں سے جڑی ہوتی ہیں، لیکن مل کر ایک ہی یادداشت بناتی ہیں۔ اصل فرق نیورونز کی تعداد نہیں بلکہ ان کے جُڑنے کے انداز میں ہوتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چونکہ نیورونز کے آپس میں جُڑنے کے طریقے بے شمار ہیں، اس لیے دماغ میں یادداشتوں کی گنجائش بھی تقریباً لامحدود ہوتی ہے۔ یعنی انسان جتنا چاہے سیکھ سکتا ہے، دماغ میں جگہ ختم نہیں ہوتی۔

تاہم ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ یادداشت ہمیشہ سو فیصد درست نہیں ہوتی۔ جب ہم کسی پرانی بات کو یاد کرتے ہیں تو دماغ اس یادداشت کو دوبارہ کھولتا ہے، اور اس دوران اس میں معمولی تبدیلی آ سکتی ہے۔ اسی وجہ سے ایک ہی واقعہ کو مختلف لوگ مختلف انداز میں یاد کرتے ہیں۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یادداشت کے چھوٹے چھوٹے حصے بدل سکتے ہیں، جبکہ واقعے کا بنیادی حصہ عام طور پر یاد رہتا ہے۔ اسی لیے بعض اوقات ہمیں لگتا ہے کہ ہماری یاد بالکل درست ہے، لیکن حقیقت کچھ اور ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق انسان کو اپنی یادداشت ختم ہونے کی فکر نہیں کرنی چاہیے، البتہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر یادداشت ہمیشہ مکمل طور پر درست نہیں ہوتی۔

 


Related News

سفر اور انسانی صحت . ایک نئی سائنسی تحقیق
سفر اور انسانی صحت . ایک نئی سائنسی تحقیق
ایک نئی تحقیق کے مطابق سفر صرف تفریح نہیں بلکہ انسانی صحت پر بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ مثبت سفری تجربات ذہنی...
آئینے کی مدد سے شکار کا سراغ لگانے کی صلاحیت، آکٹوپس کی ذہانت کا نیا ثبوت
آئینے کی مدد سے شکار کا سراغ لگانے کی صلاحیت، آکٹوپس کی ذہانت کا نیا ثبوت
امریکہ کی ڈارٹماؤتھ یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آکٹوپس آئینے کی مدد سے پوشیدہ شکار کا سراغ ل...
یونیسیف اور ای پی آئی بلوچستان کے اشتراک سے صحافیوں کیلئے “مس انفارمیشن مینجمنٹ اور روٹین ایمونائزیشن” پر تربیتی ورکشاپ
یونیسیف اور ای پی آئی بلوچستان کے اشتراک سے صحافیوں کیلئے “مس انفارمیشن مینجمنٹ اور روٹین ایمونائزیشن” پر تربیتی ورکشاپ
ای پی آئی ہیڈکوارٹر کوئٹہ میں یونیسیف اور ای پی آئی بلوچستان کے تعاون سے بلوچستان کے 37 اضلاع سے تعلق رکھنے وا...
آرٹیمس ٹو مشن کا دلچسپ پہلو: “رائز” نامی ننھا کھلونا بھی خلاء کی جانب روانہ
آرٹیمس ٹو مشن کا دلچسپ پہلو: “رائز” نامی ننھا کھلونا بھی خلاء کی جانب روانہ
ناسا کے آرٹیمس ٹو مشن میں “رائز” نامی ایک چھوٹا نرم کھلونا شامل کیا گیا ہے جو خلا میں پہنچ کر بے وزنی (زیرو گر...
خاموشی کو آواز دینے والی ٹیکنالوجی: فالج کے مریضوں کے لیے اے آئی کا نیا تحفہ
خاموشی کو آواز دینے والی ٹیکنالوجی: فالج کے مریضوں کے لیے اے آئی کا نیا تحفہ
جدید سائنس اور مصنوعی ذہانت نے ایک اور ایسا سنگِ میل عبور کر لیا ہے جو فالج اور بولنے میں دشواری کا شکار افراد...
ڈرون کا مؤثر توڑ، چین نے مائیکروویو شعاعوں والا جدید ہتھیار تیار کر لیا
ڈرون کا مؤثر توڑ، چین نے مائیکروویو شعاعوں والا جدید ہتھیار تیار کر لیا
چین نے ڈرون حملوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک جدید ہتھیار تیار کر لیا ہے، جو مائیکروویو شعاعوں کے ذریعے بیک وق...