سردیوں میں بال کیوں ڈرائے ہوتے ہیں؟ اسباب اور بہترین ڈائیٹ پلینسردیوں میں بال کیوں ڈرائے ہوتے ہیں؟ اسباب اور بہترین ڈائیٹ پلین
سردیوں کی آغاز کے ساتھ ہی ٹھنڈی ہوائیں خنکی کا احساس اونی ملبوسات اور سنہری دھوپ کا تحفہ ہمارے موسم کا حصہ بن جاتی ہے وہیں بالوں کی حالت بھی بدلنے لگتی ہے انسان کی آدھی پرسنلٹی اسکے سر کے بالوں میں ہوتی ہے سر کے بال انسان کی شناخت اور سخاوت کا گہرا جزو ہے اوسطاً ایک انسان کے بال دو سے پانچ ملین کے درمیان ہوتے ہیں جن میں سے 100٫000 سر کی جلد پر ہوتے ہیں اور روزانہ ہر انسان کے 60 سے 70 بال گرتے ہیں سوتے ہوئے کنگھی کرتے ہوئے یہ ایک نارمل فینومنا ہے جیسے روزانہ درخت سے پتے گرتے ہیں ویسے ہی بال بھی روز گرتے ہیں لیکن عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ سردیوں میں بال بے رونق خشک خشناک اور جھڑنے لگتے ہیں جس کی شکایت ہر عمر کی خواتین اور مرد کرتے ہیں کیونکہ سردیوں کے موسم میں بالوں کا خشک اور بے جان ہونا ایک عام مسئلہ ہے سردیوں میں بال سورج کی شعاعوں سے متاثر ہوتے ہیں ہوا میں نمی کا تناسب کم یا زیادہ ہوتا ہے جس سے بال اپنی قدرتی نمی برقرار نہیں رکھ پاتے یوں بال بےجان دو منہے ہے کہ شکار اور الجھے ہوئے محسوس ہوتے ہے عموماً ہم سردیوں میں پانی بھی کم پیتے ہیں کیونکہ پیاس کم لگتی ہے مگر جسم کو نمی اتنی ہی ضروری رہتی ہے جتنی گرمیوں میں ہوتی ہے جو پانی جسم کو مناسب مقدار میں نہیں ملتا ہے تو اس کا سب سے بڑا اثر پہلے بالوں ٫ جلد اور کھوپڑی پر پڑتا ہے سردی میں پانی کم پینے کی وجہ سے بال اپنی قدرتی نمی کھو دیتے ہیں جس کے باعث بال خشک کھردرے اور بے جان نظر اتے ہیں اور جب کھوپڑی نمی سے محروم ہو جاتی ہے تو اس میں خشکی اور سفید چھلکے ظاہر ہونے لگتے ہیں جس سے ٹرینڈرف بڑھتا ہے پانی خون کی روانگی بہتر بناتا ہے اور پانی کم پینے سے کھوپڑی تک غذائیت کم پہنچتی ہے بال لمبے ہونے کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور پھر ڈی ہائڈریشن کی وجہ سے بال کمزور ہو جاتے ہیں اور اسانی سے ٹوٹنے لگتے ہیں اسی وجہ سے دومہیے زیادہ بنتے ہیں سردیوں میں ہمیں پیاس کم لگتی ہے پھر بھی انسان کو 7 سے 8 گلاس روزانہ پانی پینا چاہیے یہ نہ صرف صحت بلکہ بالوں کی چمک مضبوطی اور بڑھوتری کے لیے بھی ضروری ہے کیونکہ پانی بالوں کے لیے قدرتی موسٹرائز ہے کا کام کرتا ہے دوسری طرف سردیوں میں زیادہ تر لوگ گرم پانی سے نہاتے ہیں گرم پانی وقتی سکون تو دیتا ہے لیکن یہ بالوں کا قدرتی تیل کو ختم کر دیتا ہے جو بالوں کو نرمی اور چمک فرام کرتا ہے جس طرح سردیوں میں لوگ بالوں کو روزانہ نہیں دھوتے ہیں نہ ہی بالوں کی صفائی کا خیال بھی رکھتے ہیں جب ایک دن بالوں میں تیل لگاتے ہیں تین چار دن لگا رہنے دیتے ہیں اور یہی بال گرنے کی وجہ بن جاتی ہے جیسے گرمیوں میں ہم اپنے بالوں کی حفاظت رکھتے ہیں سردیوں میں بھی ہمیں ویسے ہی بالوں کی حفاظت رکھنی چاہیے اسی طرح سردیوں میں گھروں اور کمروں میں ہیٹرز کا زیادہ استعمال اور مسلسل گرمی ڈالنے والے الات سٹریٹنر ڈرائیر کا زیادہ استعمال بالوں کی جڑوں اور سطح دونوں کو نقصان پہنچاتا ہے تو ان سب مسائل کو ہمیں کیسے مین ٹین رکھنا ہے یا ہماری روٹین ڈائٹ پلین کیسی ہونی چاہیے جس میں ہم اپنے بالوں کو فزینس یا ڈیمج ہونے سے حفاظت کریں ہم شروعات لیتے ہیں جب ہم بالوں کو شیمپو کرتے ہیں تو شیمپو ہمارے بالوں کے مطابق ہونا چاہیے کیونکہ مارکیٹ میں مختلف طرح کے شیمپو دستیاب ہوتے ہیں جو ڈرائے بالوں٫ آئلی بالوں یا نارمل بالوں اور کلر بالوں کے لیے ہوتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بالوں کے مطابق شیمپو کا استعمال کریں جس طرح ہم فیس واش اپنی سکن کے مطابق استعمال کرتے ہیں ویسے ہی شیمپو بھی ہمیں بالوں کے مطابق استعمال کرنا چاہیے اور شیمپو میں بھی دو طرح کے شیمپو ہوتے ہیں ایک ڈیلی استعمال شیمپو ہوتے ہیں اور دوسرا ڈیپ کلیننگ شیمپو ہوتے ہیں جو کلیننگ شیمپو ہوتے ہیں وہ ہمارے بالوں کی گہرائی سے صفائی کرتے ہیں اور وہی ہمارے بالوں کا نیچرلی ائل بھی ختم کر لیتے ہیں اسی لیے ان کا استعمال جو ہے ہمیں مناسب مقدرار میں کرنا چاہیے لیکن جو ڈیلی شیمپو ہوتے ہیں وہ بھی ڈیلی کے لیے نہیں ہوتے عام طور پر لوگ روزانہ شیمپو کا استعمال کرتے ہیں حتی کہ بہت سے لوگ دو سے تین بار بالوں کو شیمپو کر رہے ہیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہفتے میں دو سے تین بار شیمپو کا استعمال کرنا چاہئیے اور ساتھ میں پانی کا نارمل پانی کا استعمال کریں ہے اس کے بعد ہمیں کنڈیشنر کا استعمال کرنا چائیے اور کنڈیشنر بھی دو٫ تین طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ کنڈیشنر جو ہر شیمپو کے بعد نارمل استعمال کرتے ہیں جیسے ڈیلی استعمال کا کنڈیشنر کہا جاتا ہے اس کا استعمال ہم جب بھی بال واش کرتے ہیں تو دو سے تین منٹ تک بالوں پر لگا رہے دیتے ہیں اور بالوں کے مڈل لینتھ سے لگانا شروع کرتے ہیں اس کو بالو ں کی جڑوں میں نہیں لگاتے ہیں کیونکہ جڑوں میں لگانے سے بال فریزینس اور ائلی ہوتے ہیں ایک کنڈیشنر جو ہوتے ہیں وہ ڈیپ کنڈیشنر کہلاتے ہیں یہ مزید ہمارے بالوں کو نمی فراہم کرتا ہے اور موئسچرائز کا کام کرتا ہے اور اس کو زیادہ دیر تک بل لوں پر لگائے رکھتے ہیں اور جو کچھ کنڈیشنرز ہوتے ہیں وہ لیونگ کنڈیشنرز کہلاتے ہیں یہ وہ کنڈیشنر ہوتے ہیں جو بال دھونے یا شیمپو کرنے کی عموما بعد لگائے جاتے ہیں اسی طرح جیسے ہم دوسرے کنڈیشنرز لگاتے ہیں لیکن اس کو ہم دوبارہ واش نہیں کرتے ہیں بلکہ یہ لگا رہتا ہے تو اسی طرح ہم مختلف کنڈیشنرز کا استعمال مختلف اوقات میں اپنی روز مرہ کی زندگی کا حصہ بنا سکتے ہیں تو یہ بالوں کی نمی کو واپسی کرتا ہے جو شیمپو کی وجہ سے بالوں کا کم ہو گیا ہوتا ہے اور ٹیکسر دینے میں مدد کرتا ہے ہیئر مارکس بھی ملتے ہیں جن کا بنیادی مقصد بالوں کی غذائیں پورا کرنا ہوتا ہے اس کو بھی ہمیں مہینے میں ایک تو استعمال کرنا چاہیے بالوں کے لیے مارکیٹ میں خاص قسم کے میڈیکیٹڈ اور نون میڈیکیٹڈ کریمز اور ائلز دستیاب ہیں جو کہ آپ بال دھونے کے بعد لگا سکتے ہیں تاکہ بالوں کو پروٹیکٹ کر سکے اور ان کو شائن اور نمی دیں سکے اس کے علاوہ جب ہم بال دھوتے ہیں تو کوشش کریں کہ ہر دفعہ ہیر ڈائیر نہ کریں بلکہ بالوں کو قدرتی طور پر خشک ہونے دیں جیسے نارملی ہوا میں خشک ہوتے ہے ہیر سٹریٹنرز یا گرم آلات ہوتے ہیں ان کا استعمال روز مرہ کی زندگی میں نہ کریں اور اگر اپ استعمال کرتے ہیں تو مارکیٹ میں ہیئر پروٹیکشن سیرم ٫ ہیر اسپرے بالوں کی حفاظت کے لیے ملتے ہیں جو کہ بالوں پر گرم آلات استعمال کرنے سے پہلے لگائے جاتے ہیں تاکہ بالوں کو ڈیمج ہونے سے پروٹیکٹ کریں ہمیشہ کوشش کریں کہ گیلے بالوں میں کنگھی نہ کریں اکثر کچھ لوگوں کے بال کنگرالے ہوتے ہیں تو ان کو ضرورت ہوتی ہے کہ وہ گیلے بالوں میں کنگھی کریں تو ان کو بھی چاہیے کہ موٹے دانوں والی کنگی کا استعمال کریں کیونکہ باریک دانوں والی جو کنگی ہوتی ہے اسکے اندر بال الجھتے اور ٹوٹتے ہیں بالوں کو لے کر ہم مزید بات کریں جب فریزی جھرجھری ہو رہے ہیں تو اس کا جو بنیادی مسئلہ ہوتا ہے وہ ڈرائینیس خشکی ہوتی ہے ایسے میں بالوں کی حقیقی حفاظت تبھی ممکن ہے جب ہم قدرتی یا آرگینک طریقوں کو اپناتیں ہیں قدرت کے دیے گئے تیل ٫جڑی بوٹیاں اور غذائیں ہمارے بالوں کو مضبوط اور صحت مند رکھتے ہیں ناریل زیتون بادام کلونجی کے تیل میں ے تیل ہم وزن مقدار میں مکس کر کے فارمولہ بنا کر استعمال کرتے ہیں تو یہ فارمولہ بالوں کے لیے بے حد مفید ہوتا ہے کیونکہ جلد ناخن اور بالوں سے جڑے امراض کا علاج کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ کلونجی کے دانے انسانی صحت کے لیے بے حد مفید ہے ان کی افادیت نہ صرف طب بلکہ سائنسی تحقیقات سے بھی ثابت شدہ ہے جہاں کلونجیدی کے کھانے کے نتیجے میں مجموعی صحت ان گنت فوائد حاصل ہوتے ہیں وہی اس سے حاصل ہونے والے تیل کا براہ راست بھی بے حد مفید ہوتا ہے ماہرین کے مطابق خوبصورت اور مضبوط بال حاصل کرنے کے لیے ان کی جڑوں میں تیل کی ملش کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ گھر کے بڑے بزرگ بھی سر میں تیل کی مالش کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ماہرین کے مطابق کلونجی کا تیل بالوں کی جڑوں کو مضبوط اور نمی فراہم کرتا ہے کلونجی کے تیل سے اگر بالوں کی جڑوں میں مساج کیا جائے تو مضبوط لمبے گنے اور ملائم ہوجاتے ہیں کلونجی کے تیل سے فارمولا تیل بنانے کے لیے ہم وزن میں سرسوں اور زیتون کا تیل لے کر دونوں کو اچھی طرح مکس کر لو اب اس میں سرسوں اور زیتون کے تیل کی ادھی مقدار میں بادام اور ناریل کا تیل ڈال کر شامل کر لیں اور نیم گرم کر کے دو سے تین چمچ کلونجی کی تیل شامل کر کے کانچ کی بوتل میں منقل کر لیں اس بوتل کو ایک ہفتے تک روزانہ کی بنیاد پر تیز دھوپ کی تپش میں رکھیں اور شام ہوتے ہی چھاؤں میں رکھ دیں ایک کے بعد اس کا استعمال شروع کرتے ہیں ہر بار اس تیل کے استعمال سے قبل ہے تیل میں وٹامن ای کے چند قطرے بھی ملا لیں بالوں کی گرنے کی تعداد اگر زیادہ ہو تو اس تیل میں باجرہ ڈال دو دن مزید دھوپ میں رکھ دیں اور بعد اذاں کا استعمال کریں گرتے بالوں کا علاج کے لیے اس تیل کا استعمال شرط ہے طریقہ استعمال شرط ہے بہترین نتائج کے لیے اس تیل کا استعمال کم از کم ہفتے میں دو بار ضرور کریں اور ایلوویرا اور مہندی جیسے اجزاء بالوں میں قدرتی نرمی اور چمک پیدا کرتے ہیں یہ وہ قدرتی تحفے ہیں جو بالوں کو ٹوٹنے گرنے اور بے رونق سے بچانے میں موثر کردار ادا کرتے ہیں تاہم بالوں کی صحت صرف بیرونی نگہداشت پر منحصر نہیں، بلکہ اندرونی غذائیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک متوازن اور غذائیت سے بھرپور غذا سردیوں میں بالوں کی مضبوطی کا دوسرا اہم راز ہے۔ پروٹین، آئرن، وٹامن ای، بایوٹن اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھرپور خوراک جیسے انڈے، مچھلی، دودھ، میوے، ہری سبزیاں اور پھل نہ صرف جسم کو توانائی دیتے ہیں بلکہ بالوں کی جڑوں کو بھی مضبوط بناتے ہیں یوں قدرتی نگہداشت اور صحت بخش غذا کا حسین امتزاج سردیوں میں بالوں کی خوبصورتی، چمک اور زندگی کو برقرار رکھنے کی بہترین ضمانت ہے۔ سردیوں میں بالوں کی حفاظت دراصل خود سے محبت اور اپنی فطری خوبصورتی کا احترام ہے۔ اگر ہم قدرتی طریقوں کو اپنائیں، مصنوعی کیمیکل سے بچیں اور اپنی غذا کو متوازن بنائیں تو بال نہ صرف موسم کی سختی برداشت کر سکتے ہیں بلکہ اپنی قدرتی چمک، نرمی اور جان بھی برقرار رکھتے ہیں۔ یہ موسم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خوبصورتی کا تعلق صرف ظاہری سنوار سے نہیں بلکہ روزمرہ کی دیکھ بھال، قدرتی عادات اور مثبت طرزِ زندگی سے بھی ہے۔ لہٰذا اس سرد موسم میں اپنے بالوں کو وہ توجہ دیں جس کے وہ مستحق ہیں — کیونکہ جب بال صحت مند ہوں تو شخصیت خود بخود نکھر جاتی ہے۔
سردیوں میں بال کیوں ڈرائے ہوتے ہیں؟ اسباب اور بہترین ڈائیٹ پلین
سردیوں کی آغاز کے ساتھ ہی ٹھنڈی ہوائیں ، خنکی کا احساس ، اونی ملبوسات اور سنہری دھوپ ہمارے موسم کا حصہ بن جاتی ہیں۔ وہی بالوں کی حالت بھی بدلنے لگتی ہے۔ انسان کی آدھی شخصیت اسکے سر کے بالوں میں ہوتی ہے ۔ سر کے بال انسان کی شناخت اور ثقافت کا گہرا جزو ہے۔ اوسطاً ایک انسان کے بال دو سے پانچ ملین کے درمیان ہوتے ہیں ۔
جن میں سے 100٫000 سر کی جلد پر ہوتے ہیں۔ اور روزانہ ہر انسان کے 60 سے 70 بال گرتے ہیں۔ سوتے ہوئے کنگھی کرتے ہوئے یہ ایک نارمل فینومنا ہے۔ جیسے روزانہ درخت سے پتے گرتے ہیں، ویسے ہی بال بھی روز گرتے ہیں۔ لیکن عام طور پر دیکھا گیا ہے ۔کہ سردیوں میں بال بے رونق، خشک خشناک، اور جھڑنے لگتے ہیں ۔جس کی شکایت ہر عمر کی خواتین اور مرد کرتے ہیں۔ کیونکہ سردیوں کے موسم میں بالوں کا خشک اور بے جان ہونا ایک عام مسئلہ ہے۔ سردیوں میں بال سورج کی شعاعوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ ہوا میں نمی کا تناسب کم یا زیادہ ہوتا ہے۔ جس سے بال اپنی قدرتی نمی برقرار نہیں رکھ پاتے ، یوں بال بےجان دو منہے کا شکار اور الجھے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ۔ عموماً ہم سردیوں میں پانی بھی کم پیتے ہیں۔ کیونکہ پیاس کم لگتی ہے۔ مگر جسم کو نمی اتنی ہی ضروری رہتی ہے۔ جتنی گرمیوں میں ہوتی ہے۔ جو پانی جسم کو مناسب مقدار میں نہیں ملتا ہے۔ تو اس کا سب سے بڑا اثر پہلے بالوں ٫ جلد اور کھوپڑی پر پڑتا ہے ۔سردی میں پانی کم پینے کی وجہ سے بال اپنی قدرتی نمی کھو دیتے ہیں۔ جس کے باعث بال خشک، کھردرے اور بے جان نظر اتے ہیں۔ اور جب کھوپڑی نمی سے محروم ہو جاتی ہے۔ تو اس میں خشکی اور سفید چھلکے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ جس سے ٹرینڈرف بڑھتا ہے۔ پانی خون کی روانگی بہتر بناتا ہے۔ اور پانی کم پینے سے کھوپڑی تک غذائیت کم پہنچتی ہے۔ بال لمبے ہونے کی رفتار کم ہو جاتی ہے ۔اور پھر ڈی ہائڈریشن کی وجہ سے بال کمزور ہو جاتے ہیں ۔اور اسانی سے ٹوٹنے لگتے ہیں اسی وجہ سے دومہیے زیادہ بنتے ہیں سردیوں میں ہمیں پیاس کم لگتی ہے۔ پھر بھی انسان کو 7 سے 8 گلاس روزانہ پانی پینا چاہیے۔ یہ نہ صرف صحت بلکہ بالوں کی چمک مضبوطی اور بڑھوتری کے لیے بھی ضروری ہے۔ کیونکہ پانی بالوں کے لیے قدرتی موسٹرائز کا کام کرتا ہے ۔دوسری طرف سردیوں میں زیادہ تر لوگ گرم پانی سے نہاتے ہیں۔ گرم پانی وقتی سکون تو دیتا ہے ۔لیکن یہ بالوں کا قدرتی تیل کو ختم کر دیتا ہے۔ جو بالوں کو نرمی اور چمک فرام کرتا ہے۔ جس طرح سردیوں میں لوگ بالوں کو روزانہ نہیں دھوتے ہیں۔ نہ ہی بالوں کی صفائی کا خیال بھی رکھتے ہیں۔ جب ایک دن بالوں میں تیل لگاتے ہیں۔ تین چار دن لگا رہنے دیتے ہیں اور یہی بال گرنے کی وجہ بن جاتی ہے۔ جیسے گرمیوں میں ہم اپنے بالوں کی حفاظت رکھتے ہیں۔ سردیوں میں بھی ہمیں ویسے ہی بالوں کی حفاظت رکھنی چاہیے ۔اسی طرح سردیوں میں گھروں اور کمروں میں ہیٹرز کا زیادہ استعمال، اور مسلسل گرمی ڈالنے والے الات ، سٹریٹنر یا ڈرائیر کا زیادہ استعمال بالوں کی جڑوں اور سطح دونوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ تو ان سب مسائل کو ہمیں کیسے مین ٹین رکھنا ہے، یا ہماری روٹین، ڈائٹ پلین کیسی ہونی چاہیے۔ جس میں ہم اپنے بالوں کو فزینس یا ڈیمج ہونے سے حفاظت کریں ہم شروعات لیتے ہیں۔ جب ہم بالوں کو شیمپو کرتے ہیں تو شیمپو ہمارے بالوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ کیونکہ مارکیٹ میں مختلف طرح کے شیمپو دستیاب ہوتے ہیں جو ڈرائے بالوں ،آئلی بالوں یا نارمل بالوں اور کلر بالوں کے لیے ہوتے ہیں۔ تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بالوں کے مطابق شیمپو کا استعمال کریں۔ جس طرح ہم فیس واش اپنی سکن کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ ویسے ہی شیمپو بھی ہمیں بالوں کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔ اور شیمپو میں بھی دو طرح کے شیمپو ہوتے ہیں۔ ایک ڈیلی استعمال شیمپو ہوتے ہیں اور دوسرا ڈیپ کلیننگ شیمپو ہوتے ہیں۔ جو کلیننگ شیمپو ہوتے ہیں وہ ہمارے بالوں کی گہرائی سے صفائی کرتے ہیں۔ اور وہی ہمارے بالوں کا قدرتی ائل بھی ختم کر لیتے ہیں۔ اسی لیے ان کا استعمال جو ہے ہمیں مناسب مقدرار میں کرنا چاہیے۔ لیکن جو ڈیلی شیمپو ہوتے ہیں وہ بھی ڈیلی کے لیے نہیں ہوتے عام طور پر لوگ روزانہ شیمپو کا استعمال کرتے ہیں۔ حتی کہ بہت سے لوگ دو سے تین بار بالوں کو شیمپو کر تے ہیں۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہفتے میں دو سے تین بار شیمپو کا استعمال کرنا چاہئیے، اور ساتھ میں پانی کا نارمل پانی کا استعمال کریں ۔ اس کے بعد ہمیں کنڈیشنر کا استعمال کرنا چائئے، اور کنڈیشنر بھی دو تین طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ کنڈیشنر جو ہر شیمپو کے بعد نارمل استعمال کرتے ہیں۔ جیسے ڈیلی استعمال کا کنڈیشنر کہا جاتا ہے۔ اس سے ہم جب بھی بال واش کرتے ہیں ۔تو دو سے تین منٹ تک بالوں پر لگا رہنے دیتے ہیں اور بالوں کی مڈل لینتھ سے لگانا شروع کرتے ہیں ۔اس کو بالو ں کی جڑوں میں نہیں لگاتے ہیں کیونکہ جڑوں میں لگانے سے بال فریزینس اور ائلی ہوتے ہیں۔ ایک کنڈیشنر جو ہوتے ہیں ۔وہ ڈیپ کنڈیشنر کہلاتے ہیں ۔یہ مزید ہمارے بالوں کو نمی فراہم کرتا ہے، اور موئسچرائز کا کام کرتا ہے۔ اور اس کو زیادہ دیر تک با لوں پر لگائے رکھتے ہیں ۔ کچھ کنڈیشنرز ہوتے ہیں وہ لیونگ کنڈیشنرز کہلاتے ہیں۔ یہ وہ کنڈیشنر ہوتے ہیں جو بال دھونے یا شیمپو کرنے کی عموما بعد لگائے جاتے ہیں۔ اسی طرح جیسے ہم دوسرے کنڈیشنرز لگاتے ہیں۔ لیکن اس کو ہم دوبارہ واش نہیں کرتے ہیں بلکہ یہ لگا رہتا ہے۔ اسی طرح ہم مختلف کنڈیشنرز کا استعمال مختلف اوقات میں اپنی روز مرہ کی زندگی کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ تو یہ بالوں کی نمی کو واپسی کرتا ہے ۔جو شیمپو کی وجہ سے بالوں میں کم ہو گیا ہوتا ہے۔ ہیئر مارکس بھی ملتے ہیں جن کا بنیادی مقصد بالوں کی غذائیت کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ اس کو بھی ہمیں مہینے میں ایک، دو مرتبہ استعمال کرنا چاہیے ۔بالوں کے لیے مارکیٹ میں خاص قسم کے میڈیکیٹڈ اور نون میڈیکیٹڈ کریمز اور ائلز دستیاب ہیں۔ جو کہ آپ اپنے بالوں کو دھونے کے بعد لگا سکتے ہیں۔ تاکہ بالوں کو پروٹیکٹ ، شائن اور نمی دیں سکے۔ اس کے علاوہ جب ہم بال دھوتے ہیں تو کوشش کریں کہ ہر دفعہ ہیر ڈائیر کا استعمال نہ کریں ، بلکہ بالوں کو قدرتی طور پر خشک ہونے دیں، جیسے نارملی ہوا میں خشک ہوتے ہے۔،ہیر سٹریٹنرز ، ڈرائر جیسے گرم آلات ان کا استعمال روز مرہ کی زندگی میں نہ کریں۔ اور اگر اپ استعمال کرتے ہیں۔ تو مارکیٹ میں ہیئر پروٹیکشن، سیرم،اور ہیر اسپرے بالوں کی حفاظت کے لیے ملتے ہیں ۔ جو کہ بالوں پر گرم آلات استعمال کرنے سے پہلے لگائے جاتے ہیں ،تاکہ بالوں کو ڈیمج ہونے سے پروٹیکٹ کرے ۔ہمیشہ کوشش کریں کہ گیلے بالوں میں کنگھی نہ کریں۔ اکثر کچھ لوگوں کے بال کنگرالے ہوتے ہیں۔ تو ان کو ضرورت ہوتی ہے کہ وہ گیلے بالوں میں کنگھی کریں۔ تو ان کو بھی چاہیے کہ موٹے دانوں والی کنگی کا استعمال کریں ۔کیونکہ باریک دانوں والی جو کنگی ہوتی ہے، اسکے اندر بال الجھتے اور ٹوٹتے ہیں۔ بالوں کو لے کر ہم مزید بات کریں۔ جب فریزی جھرجھری ہو رہے ہیں۔ تو اس کا جو بنیادی مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ خشکی ہوتی ہے۔ ایسے میں بالوں کی حقیقی حفاظت تبھی ممکن ہے جب ہم قدرتی یا آرگینک طریقوں کو اپناتیں ہیں۔ قدرت کے دیے گئے تیل ٫جڑی بوٹیاں اور غذائیں ہمارے بالوں کو مضبوط اور صحت مند رکھتے ہیں۔ ناریل، زیتون،بادام اور کلونجی کے تیل میں سے ہم وزن مقدار میں مکس کر کے فارمولہ بنا کر استعمال کرتے ہیں۔ تو یہ فارمولہ بالوں کے لیے بے حد مفید ہوتا ہے۔ کیونکہ جلد ناخن اور بالوں سے جڑے امراض کا علاج کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ کلونجی کے دانے انسانی صحت کے لیے بے حد مفید ہیں۔ ان کی افادیت نہ صرف طب بلکہ سائنسی تحقیقات سے بھی ثابت شدہ ہے ، جہاں کلونجی کے کھانے کے نتیجے میں مجموعی صحت ان گنت فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ وہی اس سے حاصل ہونے والے تیل کا براہ راست بھی فائدہ مند ہوتا ہے ماہرین کے مطابق خوبصورت اور مضبوط بال حاصل کرنے کے لیے ان کی جڑوں میں تیل کی ملش کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھر کے بڑے بزرگ بھی سر میں تیل کی مالش کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کلونجی کا تیل بالوں کی جڑوں کو مضبوط اور نمی فراہم کرتا ہے۔ کلونجی کے تیل سے اگر بالوں کی جڑوں میں مساج کیا جائے، تو مضبوط لمبے گنے اور ملائم ہوجاتے ہیں۔ کلونجی کے تیل سے فارمولا تیل بنانے کے لیے ہم وزن میں سرسوں اور زیتون کا تیل لے کر دونوں کو اچھی طرح مکس کر لو اب اس میں سرسوں اور زیتون کے تیل کی ادھی مقدار میں بادام اور ناریل کا تیل ڈال کر شامل کر لیں اور نیم گرم کر کے دو سے تین چمچ کلونجی کے تیل شامل کر کے کانچ کی بوتل میں منقل کر لیں، اس بوتل کو ایک ہفتے تک روزانہ کی بنیاد پر تیز دھوپ کی تپش میں رکھیں ،اور شام ہوتے ہی چھاؤں میں رکھ دیں۔سات دن کے بعد اس کا استعمال شروع کریں ، ہر بار تیل کے استعمال سے قبل، تیل میں وٹامن ای کے چند قطرے بھی ملا لیں۔ بالوں کی گرنے کی تعداد اگر زیادہ ہو۔ تو اس تیل میں باجرہ ڈال دیں۔ دو دن مزید دھوپ میں رکھ دیں اور بعد اذاں کا استعمال کریں ۔ بہترین نتائج کے لیے اس تیل کا استعمال کم از کم ہفتے میں دو بار ضرور کریں۔ اور ایلوویرا اور مہندی جیسے اجزاء بالوں میں قدرتی نرمی اور چمک پیدا کرتے ہیں۔ یہ وہ قدرتی تحفے ہیں جو بالوں کو ٹوٹنے ، گرنے اور بے رونق سے بچانے میں موثر کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم بالوں کی صحت صرف بیرونی نگہداشت پر منحصر نہیں، بلکہ اندرونی غذائیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک متوازن اور غذائیت سے بھرپور غذا سردیوں میں بالوں کی مضبوطی کا دوسرا اہم راز ہے۔ پروٹین، آئرن، وٹامن ای، بایوٹن اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سے بھرپور خوراک جیسے انڈے، مچھلی، دودھ، میوے، ہری سبزیاں اور پھل نہ صرف جسم کو توانائی دیتے ہیں بلکہ بالوں کی جڑوں کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ یوں قدرتی نگہداشت اور صحت بخش غذا کا حسین امتزاج سردیوں میں بالوں کی خوبصورتی، چمک اور زندگی کو برقرار رکھنے کی بہترین ضمانت ہے۔ سردیوں میں بالوں کی حفاظت دراصل خود سے محبت اور اپنی فطری خوبصورتی کا احترام ہے۔ اگر ہم قدرتی طریقوں کو اپنائیں، مصنوعی کیمیکل سے بچیں اور اپنی غذا کو متوازن بنائیں تو بال نہ صرف موسم کی سختی برداشت کر سکتے ہیں، بلکہ اپنی قدرتی چمک، نرمی اور جان بھی برقرار رکھتے ہیں۔
یہ موسم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خوبصورتی کا تعلق صرف ظاہری سنوار سے نہیں، بلکہ روزمرہ کی دیکھ بھال، قدرتی عادات اور مثبت طرزِ زندگی سے بھی ہے۔
لہٰذا اس سرد موسم میں اپنے بالوں کو وہ توجہ دیں۔ جس کے وہ مستحق ہیں۔ کیونکہ جب بال صحت مند ہوں تو شخصیت خود بخود نکھر جاتی ہے۔