قدرتی ماحول میں تحلیل ہونے والی پلاسٹک کی نئی قسم ایجاد
جاپان میں سائنس دانوں نے پلاسٹک آلودگی کے خلاف ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے پودوں سے تیار کی گئی ایسی نئی قسم کی پلاسٹک ایجاد کر لی ہے جو قدرتی ماحول، خصوصاً سمندر کے پانی میں، نقصان دہ مائیکرو پلاسٹکس پیدا کیے بغیر مکمل طور پر تحلیل ہو جاتی ہے۔ یہ جدید پلاسٹک پودوں کے سیلولوز سے تیار کی گئی ہے، جو زمین پر سب سے زیادہ پائے جانے والے قدرتی مرکبات میں سے ایک ہے۔ محققین کے مطابق یہ مٹی، پودوں اور جانوروں کے لیے بالکل محفوظ ہے اور قدرتی ماحول کو آلودہ نہیں کرتی۔ تحقیق سے وابستہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس پلاسٹک کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مضبوط اور لچکدار ہونے کے ساتھ ساتھ قدرتی ماحول میں خود بخود تحلیل ہو جاتی ہے، جو اسے روایتی بایو ڈیگریڈیبل پلاسٹک کے مقابلے میں کہیں بہتر بناتی ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین اسے ایک ممکنہ طور پر ’’پرفیکٹ پلاسٹک‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ تحقیق کے سربراہ ٹاکوزو آئیڈا کے مطابق قدرت ہر سال تقریباً 10 کھرب ٹن سیلولوز پیدا کرتی ہے۔ اسی وافر مقدار میں دستیاب قدرتی مادے کو استعمال کرتے ہوئے ٹیم نے ایک ایسا پلاسٹک مٹیریل تیار کیا ہے جو سمندر میں محفوظ طریقے سے تحلیل ہو جاتا ہے اور ماحولیاتی نظام کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں دنیا کو پلاسٹک آلودگی کے سنگین مسئلے سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، خاص طور پر سمندروں میں پلاسٹک کچرے کے بڑھتے ہوئے خطرے کے تناظر میں۔
قدرتی ماحول میں تحلیل ہونے والی پلاسٹک کی نئی قسم ایجاد
رپورٹ : اقصی بلوچ
جاپان میں سائنس دانوں نے پلاسٹک آلودگی کے خلاف ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے پودوں سے تیار کی گئی ایسی نئی قسم کی پلاسٹک ایجاد کر لی ہے جو قدرتی ماحول، خصوصاً سمندر کے پانی میں، نقصان دہ مائیکرو پلاسٹکس پیدا کیے بغیر مکمل طور پر تحلیل ہو جاتی ہے۔

یہ جدید پلاسٹک پودوں کے سیلولوز سے تیار کی گئی ہے، جو زمین پر سب سے زیادہ پائے جانے والے قدرتی مرکبات میں سے ایک ہے۔ محققین کے مطابق یہ مٹی، پودوں اور جانوروں کے لیے بالکل محفوظ ہے اور قدرتی ماحول کو آلودہ نہیں کرتی۔
تحقیق سے وابستہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس پلاسٹک کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مضبوط اور لچکدار ہونے کے ساتھ ساتھ قدرتی ماحول میں خود بخود تحلیل ہو جاتی ہے، جو اسے روایتی بایو ڈیگریڈیبل پلاسٹک کے مقابلے میں کہیں بہتر بناتی ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین اسے ایک ممکنہ طور پر ’’پرفیکٹ پلاسٹک‘‘ قرار دے رہے ہیں۔
تحقیق کے سربراہ ٹاکوزو آئیڈا کے مطابق قدرت ہر سال تقریباً 10 کھرب ٹن سیلولوز پیدا کرتی ہے۔ اسی وافر مقدار میں دستیاب قدرتی مادے کو استعمال کرتے ہوئے ٹیم نے ایک ایسا پلاسٹک مٹیریل تیار کیا ہے جو سمندر میں محفوظ طریقے سے تحلیل ہو جاتا ہے اور ماحولیاتی نظام کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتا۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں دنیا کو پلاسٹک آلودگی کے سنگین مسئلے سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، خاص طور پر سمندروں میں پلاسٹک کچرے کے بڑھتے ہوئے خطرے کے تناظر میں۔