کائنات کی ابتدائی دور میں انتہائی گرم گیس کا حیران کن مشاہدہ
سائنس دانوں نے خلا میں گیس کے ایک انتہائی گرم مجموعے کا مشاہدہ کیا ہے، جو ابتدائی کائنات میں پایا گیا اور محققین کی توقعات سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ یہ گیس کا مجموعہ کائنات کے ابتدائی دور میں دریافت ہوا، یعنی بِگ بینگ کے تقریباً 1 ارب 40 کروڑ سال بعد، اور یہ اتنی گرم ہے کہ سائنس دان شروع میں اسے کسی غلطی کا نتیجہ سمجھ رہے تھے۔ یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے محقق ڈاژی ژو کے مطابق، سائنس دانوں کو توقع نہیں تھی کہ ابتدائی کائنات میں اتنی شدید گرم گیس دیکھی جا سکتی ہے۔ مہینوں کی تحقیق کے بعد یہ تصدیق ہوئی کہ یہ گیس توقع سے کم از کم پانچ گُنا زیادہ گرم ہے، اور یہ آج دریافت ہونے والے گلیکسی کلسٹرز سے بھی زیادہ توانائی رکھتی ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ابتدائی کائنات میں موجود کچھ بڑی چیزیں، ممکنہ طور پر تین عظیم الجثہ بلیک ہولز، اس گیس کو اتنا گرم رکھ رہی تھیں۔ یہ دریافت SPT2349-56 نامی ایک 'بیبی' گلیکسی کلسٹر کے مشاہدے سے ہوئی، جو تقریباً 12 ارب سال پہلے کی کہکشاؤں پر مشتمل ہے۔ اس جھرمٹ میں 30 فعال کہکشائیں موجود ہیں اور اس کا مرکز 5 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ یہ مشاہدہ سائنس دانوں کے لیے کائنات کی ابتدائی تاریخ کے حوالے سے ایک حیرت انگیز دریافت ہے اور یہ بتاتا ہے کہ کائنات کے شروع کے دور میں کچھ بہت ہی طاقتور اور غیر متوقع عوامل موجود تھے۔
کائنات کی ابتدائی دور میں انتہائی گرم گیس کا حیران کن مشاہدہ
رپورٹ: اقصی بلوچ
سائنس دانوں نے خلا میں گیس کے ایک انتہائی گرم مجموعے کا مشاہدہ کیا ہے، جو ابتدائی کائنات میں پایا گیا اور محققین کی توقعات سے کہیں زیادہ گرم ہے۔

یہ گیس کا مجموعہ کائنات کے ابتدائی دور میں دریافت ہوا، یعنی بِگ بینگ کے تقریباً 1 ارب 40 کروڑ سال بعد، اور یہ اتنی گرم ہے کہ سائنس دان شروع میں اسے کسی غلطی کا نتیجہ سمجھ رہے تھے۔
یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے محقق ڈاژی ژو کے مطابق، سائنس دانوں کو توقع نہیں تھی کہ ابتدائی کائنات میں اتنی شدید گرم گیس دیکھی جا سکتی ہے۔ مہینوں کی تحقیق کے بعد یہ تصدیق ہوئی کہ یہ گیس توقع سے کم از کم پانچ گُنا زیادہ گرم ہے، اور یہ آج دریافت ہونے والے گلیکسی کلسٹرز سے بھی زیادہ توانائی رکھتی ہے۔
سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ابتدائی کائنات میں موجود کچھ بڑی چیزیں، ممکنہ طور پر تین عظیم الجثہ بلیک ہولز، اس گیس کو اتنا گرم رکھ رہی تھیں۔ یہ دریافت SPT2349-56 نامی ایک بیبی گلیکسی کلسٹر کے مشاہدے سے ہوئی، جو تقریباً 12 ارب سال پہلے کی کہکشاؤں پر مشتمل ہے۔ اس جھرمٹ میں 30 فعال کہکشائیں موجود ہیں اور اس کا مرکز 5 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر ہے۔
یہ مشاہدہ سائنس دانوں کے لیے کائنات کی ابتدائی تاریخ کے حوالے سے ایک حیرت انگیز دریافت ہے اور یہ بتاتا ہے کہ کائنات کے شروع کے دور میں کچھ بہت ہی طاقتور اور غیر متوقع عوامل موجود تھے۔