100 سال جینے کا راز کھل گیا؟ سائنس دانوں کی نئی حیران کن دریافت

100 سال جینے کا راز کھل گیا؟ سائنس دانوں کی نئی حیران کن دریافت

سائنس دانوں نے انسانی عمر میں غیر معمولی فرق کی ایک ممکنہ سائنسی وجہ دریافت کر لی ہے، جو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ آخر کیوں بعض افراد 100 سال یا اس سے بھی زیادہ عمر پاتے ہیں، جبکہ اکثریت ایسا نہیں کر پاتی۔ نئی تحقیق کے مطابق 90 برس سے زائد عمر تک جینے والے افراد کے خون کی حیاتیاتی ساخت عام لوگوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر مختلف ہوتی ہے۔ یہ فرق اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ طویل عمر صرف طرزِ زندگی کا نتیجہ نہیں بلکہ کسی حد تک وراثتی اور فطری عوامل سے بھی جڑی ہو سکتی ہے۔ برطانوی ویب سائٹ Indy100 کی رپورٹ کے مطابق محققین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے مستقبل میں یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ پیدائش کے وقت ہی کسی فرد کے طویل عمر کے امکانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔ سائنسی جریدے GeroScience  میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ان افراد کے حیاتیاتی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جو 90 برس سے زیادہ عمر تک پہنچے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ایسے افراد میں کولیسٹرول، گلوکوز، کریٹینن اور یورک ایسڈ کی سطحیں نسبتاً کم تھیں، جو بہتر میٹابولک صحت اور گردوں کے بہتر افعال کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ یہ تحقیق اپنی نوعیت کی بڑی مطالعات میں شمار ہوتی ہے، جس میں 44 ہزار سویڈش شہریوں کے طبی ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا۔ ان افراد کے طبی معائنے 64 سے 99 سال کی عمر کے درمیان کیے گئے اور انہیں 35 برس تک قومی رجسٹرز کے ذریعے فالو کیا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق مطالعے میں شامل افراد میں سے صرف 2.7 فیصد  لوگ 100 برس کی عمر تک پہنچ سکے، جن میں تقریباً  85 فیصد خواتین  شامل تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس تحقیق سے قطعی نتائج اخذ نہیں کیے جا سکتے، تاہم شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ میٹابولک صحت، غذائیت اور طویل عمر کے درمیان گہرا تعلق  موجود ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ خوراک، الکحل کے استعمال اور مجموعی طرزِ زندگی جیسے عوامل بھی لمبی زندگی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں معمر افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور 1970 کی دہائی کے بعد سے یہ آبادی تقریباً ہر دس سال میں دوگنی ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تحقیق طویل عمر کے راز کو سمجھنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

100 سال جینے کا راز کھل گیا؟ سائنس دانوں کی نئی حیران کن دریافت

رپورٹ : اقصی بلوچ

سائنس دانوں نے انسانی عمر میں غیر معمولی فرق کی ایک ممکنہ سائنسی وجہ دریافت کر لی ہے، جو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ آخر کیوں بعض افراد 100 سال یا اس سے بھی زیادہ عمر پاتے ہیں، جبکہ اکثریت ایسا نہیں کر پاتی۔
نئی تحقیق کے مطابق 90 برس سے زائد عمر تک جینے والے افراد کے خون کی حیاتیاتی ساخت عام لوگوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر مختلف ہوتی ہے۔ یہ فرق اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ طویل عمر صرف طرزِ زندگی کا نتیجہ نہیں بلکہ کسی حد تک وراثتی اور فطری عوامل سے بھی جڑی ہو سکتی ہے۔


برطانوی ویب سائٹ Indy100 کی رپورٹ کے مطابق محققین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے مستقبل میں یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ پیدائش کے وقت ہی کسی فرد کے طویل عمر کے امکانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔
سائنسی جریدے GeroScience  میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ان افراد کے حیاتیاتی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جو 90 برس سے زیادہ عمر تک پہنچے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ایسے افراد میں کولیسٹرول، گلوکوز، کریٹینن اور یورک ایسڈ کی سطحیں نسبتاً کم تھیں، جو بہتر میٹابولک صحت اور گردوں کے بہتر افعال کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔
یہ تحقیق اپنی نوعیت کی بڑی مطالعات میں شمار ہوتی ہے، جس میں 44 ہزار سویڈش شہریوں کے طبی ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا۔ ان افراد کے طبی معائنے 64 سے 99 سال کی عمر کے درمیان کیے گئے اور انہیں 35 برس تک قومی رجسٹرز کے ذریعے فالو کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق مطالعے میں شامل افراد میں سے صرف 2.7 فیصد  لوگ 100 برس کی عمر تک پہنچ سکے، جن میں تقریباً  85 فیصد خواتین  شامل تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس تحقیق سے قطعی نتائج اخذ نہیں کیے جا سکتے، تاہم شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ میٹابولک صحت، غذائیت اور طویل عمر کے درمیان گہرا تعلق  موجود ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ خوراک، الکحل کے استعمال اور مجموعی طرزِ زندگی جیسے عوامل بھی لمبی زندگی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دنیا بھر میں معمر افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور 1970 کی دہائی کے بعد سے یہ آبادی تقریباً ہر دس سال میں دوگنی ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تحقیق طویل عمر کے راز کو سمجھنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔


Related News

آرٹیمس ٹو مشن کا دلچسپ پہلو: “رائز” نامی ننھا کھلونا بھی خلاء کی جانب روانہ
آرٹیمس ٹو مشن کا دلچسپ پہلو: “رائز” نامی ننھا کھلونا بھی خلاء کی جانب روانہ
ناسا کے آرٹیمس ٹو مشن میں “رائز” نامی ایک چھوٹا نرم کھلونا شامل کیا گیا ہے جو خلا میں پہنچ کر بے وزنی (زیرو گر...
خاموشی کو آواز دینے والی ٹیکنالوجی: فالج کے مریضوں کے لیے اے آئی کا نیا تحفہ
خاموشی کو آواز دینے والی ٹیکنالوجی: فالج کے مریضوں کے لیے اے آئی کا نیا تحفہ
جدید سائنس اور مصنوعی ذہانت نے ایک اور ایسا سنگِ میل عبور کر لیا ہے جو فالج اور بولنے میں دشواری کا شکار افراد...
ڈرون کا مؤثر توڑ، چین نے مائیکروویو شعاعوں والا جدید ہتھیار تیار کر لیا
ڈرون کا مؤثر توڑ، چین نے مائیکروویو شعاعوں والا جدید ہتھیار تیار کر لیا
چین نے ڈرون حملوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک جدید ہتھیار تیار کر لیا ہے، جو مائیکروویو شعاعوں کے ذریعے بیک وق...
کیا ٹھنڈے پانی سے نہانے سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے؟ ماہرین نے خبردار کر دیا
کیا ٹھنڈے پانی سے نہانے سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے؟ ماہرین نے خبردار کر دیا
ٹھنڈے پانی سے نہانا بعض افراد کے لیے تازگی اور چستی کا باعث بن سکتا ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ عمل...
گوگل نے جیمنائی میں سب سے بڑی اپ ڈیٹ متعارف کروا دی
گوگل نے جیمنائی میں سب سے بڑی اپ ڈیٹ متعارف کروا دی
گوگل نے اپنے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈل جیمنائی میں اب تک کی سب سے بڑی اپ ڈیٹ متعارف کرائی ہے جسے ’پرسنل انٹیلی...
پاکستان نے اپنا پہلا سرکاری اے آئی اوتار ‘لیلا’ لانچ کر دیا
پاکستان نے اپنا پہلا سرکاری اے آئی اوتار ‘لیلا’ لانچ کر دیا
وفاقی حکومت نے پاکستان کا پہلا سرکاری مصنوعی ذہانت (اے آئی) اوتار 'لیلا' لانچ کر دیا ہے۔ وزیرِ اطلاعات و ٹیکنا...