شہاب ثاقب کا چاند سے ٹکرانے کا اندیشہ؟
شہابِ ثاقب 2024 YR4 کے بارے میں ناسا نے نئی معلومات جاری کی ہیں جن کے مطابق اس آسمانی پتھر کے چاند سے ٹکرانے کا امکان اس وقت 4 فیصد ہے، جو آنے والے مہینوں میں بڑھ سکتا ہے۔ یہ آسترائیڈ 2024 کے آخر میں پہلی بار نظر آیا تھا اور ابتدا میں خیال تھا کہ یہ زمین سے ٹکرا سکتا ہے، لیکن بعد کی تصاویر سے معلوم ہوا کہ زمین محفوظ ہے۔ اب سائنس دانوں کے مطابق اصل خطرہ چاند کو لاحق ہے، اور یہ ممکن ہے کہ 2032 میں یہ چاند سے ٹکرا جائے۔ اس کا سائز تقریباً 50 سے 100 میٹر ہے، جو ایک فٹبال میدان کے برابر بنتا ہے۔ اگر یہ تیز رفتار سے چاند سے ٹکرا گیا تو وہاں ایک بہت بڑا گڑھا بن جائے گا اور اس کے نتیجے میں اڑنے والے کروڑوں چھوٹے پتھر خلا میں پھیل کر زمین کے گرد گھومنے والے سیٹلائٹس سے ٹکرا سکتے ہیں، جس سے انٹرنیٹ، جی پی ایس اور فون سروسز متاثر ہو سکتی ہیں۔ فروری 2026 میں جیمس ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اس آسترائیڈ کو دوبارہ دیکھے گی اور اسی سے معلوم ہوگا کہ ٹکرانے کا امکان بڑھ کر 30 فیصد تو نہیں ہو گیا۔ ناسا کا کہنا ہے کہ اگر خطرہ زیادہ ہوا تو وہ 2028 یا 2029 میں ایک چھوٹا خلائی مشن بھیج کر اس کا راستہ بدلنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جیسا کہ وہ پہلے DART مشن کے ذریعے ایک آسترائیڈ کا راستہ تبدیل کر چکے ہیں۔
شہاب ثاقب کا چاند سے ٹکرانے کا اندیشہ؟
اقصی بلوچ
YR4 کے بارے میں ناسا نے نئی معلومات جاری کی ہیں جن کے مطابق اس آسمانی پتھر کے چاند سے ٹکرانے کا امکان اس وقت 4 فیصد ہے، جو آنے والے مہینوں میں بڑھ سکتا ہے۔ یہ آسترائیڈ 2024 کے آخر میں پہلی بار نظر آیا تھا اور ابتدا میں خیال تھا کہ یہ زمین سے ٹکرا سکتا ہے، لیکن بعد کی تصاویر سے معلوم ہوا کہ زمین محفوظ ہے۔ اب سائنس دانوں کے مطابق اصل خطرہ چاند کو لاحق ہے، اور یہ ممکن ہے کہ 2032 میں یہ چاند سے ٹکرا جائے۔ اس کا سائز تقریباً 50 سے 100 میٹر ہے، جو ایک فٹبال میدان کے برابر بنتا ہے۔ اگر یہ تیز رفتار سے چاند سے ٹکرا گیا تو وہاں ایک بہت بڑا گڑھا بن جائے گا اور اس کے نتیجے میں اڑنے والے کروڑوں چھوٹے پتھر خلا میں پھیل کر زمین کے گرد گھومنے والے سیٹلائٹس سے ٹکرا سکتے ہیں، جس سے انٹرنیٹ، جی پی ایس اور فون سروسز متاثر ہو سکتی ہیں۔ فروری 2026 میں جیمس ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اس شہابِ ثاقب کو دوبارہ دیکھے گی اور اسی سے معلوم ہوگا کہ ٹکرانے کا امکان بڑھ کر 30 فیصد تو نہیں ہو گیا۔ ناسا کا کہنا ہے کہ اگر خطرہ زیادہ ہوا تو وہ 2028 یا 2029 میں ایک چھوٹا خلائی مشن بھیج کر اس کا راستہ بدلنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جیسا کہ وہ پہلے DART مشن کے ذریعے ایک آسٹرائیڈ کا راستہ تبدیل کر چکے ہیں۔
