سر رابرٹ سینڈمن اور جدید کوئٹہ کی تشکیل

سر رابرٹ سینڈمن اور جدید کوئٹہ کی تشکیل

سر رابرٹ گرووز سینڈمن ایک برطانوی افسر تھے جنہوں نے طاقت کے بجائے مکالمے، جرگہ نظام اور باہمی اعتماد کے ذریعے بلوچستان میں نظم و استحکام کی بنیاد رکھی۔ ان کے دور میں کوئٹہ ایک قبائلی بستی سے ایک منظم سیاسی، فوجی اور تجارتی مرکز میں تبدیل ہوا۔ سینڈمن اسپتال اور سینڈمن اسکول جیسے ادارے آج بھی ان کے وژن کی عملی مثال ہیں۔

 

سر رابرٹ سینڈمن اور جدید کوئٹہ

رپورٹ: سیدہ نتاشا
 
کوئٹہ کی جدید تاریخ کا آغاز ایک ایسے فرد سے جڑا ہے جس نے اس خطے کو بندوق کی زبان کے بجائے گفتگو، مفاہمت اور انتظامی بصیرت کے ذریعے بدلا۔ یہ شخصیت سر رابرٹ گرووز سینڈمن کی تھی، جو 1835 میں اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئے اور 1857 کی جنگِ آزادی کے بعد برصغیر آئے۔
سینڈمن دیگر نوآبادیاتی افسران سے اس لحاظ سے مختلف تھے کہ وہ طاقت کے استعمال کے قائل نہیں تھے۔ انہوں نے بلوچستان کے قبائلی معاشرے کو سمجھا، سرداروں سے روابط استوار کیے اور جرگہ نظام کو اہمیت دی۔ ان کا یقین تھا کہ باہمی اعتماد اور احترام کے ذریعے ہی پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے مقامی روایات کے ساتھ ہم آہنگ پالیسی اختیار کی، جس سے خطے میں استحکام پیدا ہوا۔
1876 میں خانِ قلات کے ساتھ ایک تاریخی معاہدہ ہوا جس کے نتیجے میں کوئٹہ برطانوی انتظام میں آیا۔ اس معاہدے نے نہ صرف کوئٹہ کی سیاسی حیثیت کو بدلا بلکہ اسے ایک نئے دور میں داخل کیا۔ سینڈمن کی قیادت میں یہاں قلعے، رہائشی علاقے اور بنیادی ڈھانچہ قائم کیا گیا۔ آہستہ آہستہ کوئٹہ بلوچستان کا سیاسی، فوجی اور تجارتی مرکز بن گیا۔
سماجی شعبے میں بھی سینڈمن کی خدمات نمایاں رہیں۔ ان کے دور میں قائم ہونے والا سینڈمن اسپتال اُس وقت کے جدید ترین طبی اداروں میں شمار ہوتا تھا۔ مقامی آبادی کے علاج کے لیے برصغیر کے مختلف حصوں سے ماہر ڈاکٹر تعینات کیے گئے۔ یہ اسپتال صرف ایک علاج گاہ نہیں بلکہ خدمتِ خلق اور انسان دوستی کی علامت بن گیا، جو آج بھی ہزاروں مریضوں کو شفا فراہم کر رہا ہے۔


تعلیم کے میدان میں سینڈمن اسکول کا قیام ایک سنگِ میل ثابت ہوا۔ یہ کوئٹہ کے اولین تعلیمی اداروں میں شامل تھا جہاں مقامی بچوں کو جدید تعلیم، نظم و ضبط اور تربیت فراہم کی گئی۔ بعد ازاں یہی ادارے بلوچستان میں تعلیمی ترقی کی بنیاد بنے اور نئی نسل کے لیے مواقع پیدا کیے۔
1892 میں بیلہ میں سر رابرٹ سینڈمن کا انتقال ہوا اور وہیں انہیں سپردِ خاک کیا گیا۔ اگرچہ وہ جسمانی طور پر اس دنیا میں موجود نہیں، مگر ان کا نام آج بھی کوئٹہ کی گلیوں، عمارتوں اور تاریخ کے اوراق میں زندہ ہے۔
سر رابرٹ سینڈمن وہ شخص تھے جنہوں نے بلوچستان میں نظم، ربط اور ترقی کا بیج بویا۔ ان کا ورثہ آج بھی کوئٹہ کی شناخت کا حصہ ہے—یہی ہے کوئٹہ کی کہانی، سینڈمن کی زبانی۔


Related News

قلات میں آڑو کی فصل عروج پر، مقامی معیشت کو فروغ ملنے لگا
قلات میں آڑو کی فصل عروج پر، مقامی معیشت کو فروغ ملنے لگا
قلات میں آڑو کی چنائی زور و شور سے جاری ہے اور روزانہ بڑی مقدار میں تازہ پھل ملک کی مختلف منڈیوں میں بھیجا جا...
مصنوعی ذہانت: تعلیم کے لیے نعمت یا چیلنج؟
مصنوعی ذہانت: تعلیم کے لیے نعمت یا چیلنج؟
مصنوعی ذہانت تعلیم کے شعبے میں سیکھنے کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے، مگر اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال طلبہ کی تخ...
نوشکی کے میٹھے انگوروں کی بہار، فصل کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع
نوشکی کے میٹھے انگوروں کی بہار، فصل کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع
بلوچستان کے ضلع نوشکی کے اعلیٰ معیار اور قدرتی مٹھاس سے بھرپور انگور ملک بھر کی منڈیوں میں پہنچنا شروع ہوگئے ہ...
بڑھتی ہوئی گرمی اور عالمی حدت: تبدیلی کا آغاز ہم سے
بڑھتی ہوئی گرمی اور عالمی حدت: تبدیلی کا آغاز ہم سے
شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی اب پوری دنیا کے لیے ایک سنگین حقیقت بن چکی ہے۔ اگر ہم توانائی اور پانی کے درست ا...
قانونِ مفروضہ : کیا ہماری سوچ واقعی ہماری حقیقت بن سکتی ہے؟
قانونِ مفروضہ : کیا ہماری سوچ واقعی ہماری حقیقت بن سکتی ہے؟
قانونِ مفروضہ (لا آف اسمپشن) کے مطابق انسان جن خیالات اور یقین کو اپنی حقیقت مان لیتا ہے، وہی اس کے رویوں اور...
بارکھان کے مشہور گاجا سیب چند دنوں میں ملک بھر کی منڈیوں کی زینت بن جائیں گے
بارکھان کے مشہور گاجا سیب چند دنوں میں ملک بھر کی منڈیوں کی زینت بن جائیں گے
ضلع بارکھان کے علاقے بغاؤ میں گاجا سیب کی فصل تیار ہو چکی ہے اور آئندہ چند روز میں توڑائی کے بعد یہ ملک بھر کی...