چرنوبل کے خطرناک علاقے میں نیا جاندار دریافت ، تابکاری کو غذا بنانے کی حیران کن صلاحیت

چرنوبل کے خطرناک علاقے میں نیا جاندار دریافت ، تابکاری کو غذا بنانے کی حیران کن صلاحیت

تقریباً 40 سال قبل ہونے والے چرنوبل نیوکلیئر حادثے کے بعد یہ علاقہ آج بھی شدید تابکاری کی وجہ سے انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے، لیکن سائنس دانوں نے یہاں ایک ایسے جاندار کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے جو تابکاری میں نہ صرف زندہ ہے بلکہ تیزی سے بڑھ بھی رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک فنگس ہے جو دنیا کی سب سے زیادہ تابکاری والے مقام، یعنی چرنوبل ری ایکٹر کی عمارت کے اندر پائی گئی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جہاں تابکاری انسانوں اور جانوروں میں موت، کینسر اور خطرناک بیماریوں کا باعث بنتی ہے، وہیں یہ فنگس تابکاری کو اپنی غذا کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فنگس میں موجود کالا پگمنٹ میلانِن تابکاری کو جذب کرکے اسے توانائی میں بدل دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے پودے سورج کی روشنی سے غذا بناتے ہیں، یہ فنگس تابکاری کی شعاعوں سے اپنی توانائی حاصل کرتی ہے، اور اس عمل کو ریڈیو سنتھیسز کہا جاتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ دریافت نہ صرف حیران کن ہے بلکہ مستقبل میں ریڈی ایشن برداشت کرنے والی ٹیکنالوجی، ادویات اور اسپیس ریسرچ کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

چرنوبل کے خطرناک علاقے میں نیا جاندار دریافت ، تابکاری کو غذا بنانے کی حیران کن صلاحیت


رپورٹ : اقصی بلوچ 

تقریباً 40 سال قبل ہونے والے چرنوبل نیوکلیئر حادثے کے بعد یہ علاقہ آج بھی شدید تابکاری کی وجہ سے انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے، لیکن سائنس دانوں نے یہاں ایک ایسے جاندار کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے جو تابکاری میں نہ صرف زندہ ہے بلکہ تیزی سے بڑھ بھی رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک فنگس ہے جو دنیا کے سب سے زیادہ تابکاری والے مقام، یعنی چرنوبل ری ایکٹر کی عمارت کے اندر پائی گئی ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جہاں تابکاری انسانوں اور جانوروں میں موت، کینسر اور خطرناک بیماریوں کا باعث بنتی ہے، وہیں یہ فنگس تابکاری کو  اپنی غذا کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فنگس میں موجود کالا پگمنٹ  میلانِن  تابکاری کو جذب کرکے اسے توانائی میں بدل دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے پودے سورج کی روشنی سے غذا بناتے ہیں، یہ فنگس تابکاری کی شعاعوں سے اپنی توانائی حاصل کرتی ہے، اور اس عمل کو  ریڈیو سنتھیسز  کہا جاتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ دریافت نہ صرف حیران کن ہے بلکہ مستقبل میں ریڈی ایشن برداشت کرنے والی ٹیکنالوجی، ادویات اور اسپیس ریسرچ کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

 

 

 


Related News

آرٹیمس ٹو مشن کا دلچسپ پہلو: “رائز” نامی ننھا کھلونا بھی خلاء کی جانب روانہ
آرٹیمس ٹو مشن کا دلچسپ پہلو: “رائز” نامی ننھا کھلونا بھی خلاء کی جانب روانہ
ناسا کے آرٹیمس ٹو مشن میں “رائز” نامی ایک چھوٹا نرم کھلونا شامل کیا گیا ہے جو خلا میں پہنچ کر بے وزنی (زیرو گر...
خاموشی کو آواز دینے والی ٹیکنالوجی: فالج کے مریضوں کے لیے اے آئی کا نیا تحفہ
خاموشی کو آواز دینے والی ٹیکنالوجی: فالج کے مریضوں کے لیے اے آئی کا نیا تحفہ
جدید سائنس اور مصنوعی ذہانت نے ایک اور ایسا سنگِ میل عبور کر لیا ہے جو فالج اور بولنے میں دشواری کا شکار افراد...
ڈرون کا مؤثر توڑ، چین نے مائیکروویو شعاعوں والا جدید ہتھیار تیار کر لیا
ڈرون کا مؤثر توڑ، چین نے مائیکروویو شعاعوں والا جدید ہتھیار تیار کر لیا
چین نے ڈرون حملوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک جدید ہتھیار تیار کر لیا ہے، جو مائیکروویو شعاعوں کے ذریعے بیک وق...
کیا ٹھنڈے پانی سے نہانے سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے؟ ماہرین نے خبردار کر دیا
کیا ٹھنڈے پانی سے نہانے سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے؟ ماہرین نے خبردار کر دیا
ٹھنڈے پانی سے نہانا بعض افراد کے لیے تازگی اور چستی کا باعث بن سکتا ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ عمل...
گوگل نے جیمنائی میں سب سے بڑی اپ ڈیٹ متعارف کروا دی
گوگل نے جیمنائی میں سب سے بڑی اپ ڈیٹ متعارف کروا دی
گوگل نے اپنے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈل جیمنائی میں اب تک کی سب سے بڑی اپ ڈیٹ متعارف کرائی ہے جسے ’پرسنل انٹیلی...
پاکستان نے اپنا پہلا سرکاری اے آئی اوتار ‘لیلا’ لانچ کر دیا
پاکستان نے اپنا پہلا سرکاری اے آئی اوتار ‘لیلا’ لانچ کر دیا
وفاقی حکومت نے پاکستان کا پہلا سرکاری مصنوعی ذہانت (اے آئی) اوتار 'لیلا' لانچ کر دیا ہے۔ وزیرِ اطلاعات و ٹیکنا...