پودوں کا حیرت انگیز راز: بھنورے پھولوں تک کیسے پہنچتے ہیں؟

پودوں کا حیرت انگیز راز: بھنورے پھولوں تک کیسے پہنچتے ہیں؟

امریکی سائنس دانوں نے پودوں کی دنیا سے جڑا ایک حیران کن راز دریافت کر لیا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق کچھ قدیم پودے زر افشانی (Pollination) کے لیے نہ تو رنگ استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی خوشبو، بلکہ وہ حرارت کو اشارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ پولینیشن کے قدیم ترین طریقوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے سائنس میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سائیکڈز (Cycads) نامی پودوں کی ایک قدیم قسم، جو جراسک دور سے تقریباً بغیر تبدیلی کے موجود ہے، اپنے مخروطی پھولوں میں خود حرارت پیدا کرتی ہے۔ حرارت سے بھنورے متوجہ ہوتے ہیں ماہرین کے مطابق ان پودوں میں حرارت ایک قدرتی روزانہ کے نظام کے تحت بڑھتی اور کم ہوتی ہے، جسے بھنورے محسوس کر لیتے ہیں۔ نر کونز دوپہر کے بعد گرم ہونا شروع ہوتے ہیں، جبکہ مادہ کونز چند گھنٹوں بعد حرارت خارج کرتے ہیں۔ اس ترتیب سے بھنورے پہلے نر پھولوں پر جاتے ہیں اور پھر مادہ پھولوں کی طرف منتقل ہو کر زر افشانی کا عمل مکمل کرتے ہیں۔ جینیاتی گھڑی کا کردار تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ پورا نظام باہر کے موسم یا روشنی پر نہیں بلکہ پودوں کے اندر موجود ایک جینیاتی گھڑی کے ذریعے کنٹرول ہوتا ہے۔ AOX1 نامی جین پودے کی توانائی کو براہِ راست حرارت میں تبدیل کرتا ہے۔ دوسری جانب، بھنوروں کے اینٹینا میں موجود حساس نظام TRPA1 آئن چینل کے ذریعےانفراریڈ حرارت کو محسوس کرتا ہے، جس سے وہ پودوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ پولینیشن کا قدیم نظام ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ثابت ہوا ہے کہ حرارت بھی پولینیشن کا ایک مؤثر ذریعہ ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر میں سائیکڈز کی صرف 300 اقسام باقی رہ گئی ہیں اور ان میں سے اکثر کو معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔ تحقیق کی سربراہ وینڈی ویلینسیا مونٹویا کے مطابق یہ دریافت پودوں اور حشرات کے درمیان رابطے کے ایک نئے پہلو کو سامنے لاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک رنگ اور خوشبو کو ہی زر افشانی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب معلوم ہوا ہے کہ انفراریڈ حرارت بھی ایک خاموش مگر طاقتور اشارہ ہو سکتی ہے۔

پودوں کا حیرت انگیز راز: بھنورے پھولوں تک کیسے پہنچتے ہیں؟

 

رپورٹ: اقصی بلوچ

امریکی سائنس دانوں نے پودوں کی دنیا سے جڑا ایک حیران کن راز دریافت کر لیا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق کچھ قدیم پودے زر افشانی (Pollination) کے لیے نہ تو رنگ استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی خوشبو، بلکہ وہ  حرارت کو اشارے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔


سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ پولینیشن کے قدیم ترین طریقوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے  سائنس میں شائع ہوئی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سائیکڈز (Cycads)  نامی پودوں کی ایک قدیم قسم، جو جراسک دور سے تقریباً بغیر تبدیلی کے موجود ہے، اپنے مخروطی پھولوں میں خود حرارت پیدا کرتی ہے۔

حرارت سے بھنورے متوجہ ہوتے ہیں
ماہرین کے مطابق ان پودوں میں حرارت ایک قدرتی روزانہ کے نظام کے تحت بڑھتی اور کم ہوتی ہے، جسے بھنورے محسوس کر لیتے ہیں۔
نر کونز دوپہر کے بعد گرم ہونا شروع ہوتے ہیں، جبکہ مادہ کونز چند گھنٹوں بعد حرارت خارج کرتے ہیں۔ اس ترتیب سے بھنورے پہلے نر پھولوں پر جاتے ہیں اور پھر مادہ پھولوں کی طرف منتقل ہو کر زر افشانی کا عمل مکمل کرتے ہیں۔

 جینیاتی گھڑی کا کردار
تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ پورا نظام باہر کے موسم یا روشنی پر نہیں بلکہ پودوں کے اندر موجود ایک جینیاتی گھڑی  کے ذریعے کنٹرول ہوتا ہے۔
AOX1  نامی جین پودے کی توانائی کو براہِ راست حرارت میں تبدیل کرتا ہے۔
دوسری جانب، بھنوروں کے اینٹینا میں موجود حساس نظام  TRPA1 آئن چینل کے ذریعےانفراریڈ حرارت کو محسوس کرتا ہے، جس سے وہ پودوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

 

 پولینیشن کا قدیم نظام
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ثابت ہوا ہے کہ حرارت بھی پولینیشن کا ایک مؤثر ذریعہ ہو سکتی ہے۔
دنیا بھر میں سائیکڈز کی صرف 300 اقسام  باقی رہ گئی ہیں اور ان میں سے اکثر کو معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔
تحقیق کی سربراہ  وینڈی ویلینسیا مونٹویا  کے مطابق یہ دریافت پودوں اور حشرات کے درمیان رابطے کے ایک نئے پہلو کو سامنے لاتی ہے۔

 


ان کا کہنا ہے کہ اب تک رنگ اور خوشبو کو ہی زر افشانی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب معلوم ہوا ہے کہ انفراریڈ حرارت بھی ایک خاموش مگر طاقتور اشارہ  ہو سکتی ہے۔


Related News

سفر اور انسانی صحت . ایک نئی سائنسی تحقیق
سفر اور انسانی صحت . ایک نئی سائنسی تحقیق
ایک نئی تحقیق کے مطابق سفر صرف تفریح نہیں بلکہ انسانی صحت پر بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ مثبت سفری تجربات ذہنی...
آئینے کی مدد سے شکار کا سراغ لگانے کی صلاحیت، آکٹوپس کی ذہانت کا نیا ثبوت
آئینے کی مدد سے شکار کا سراغ لگانے کی صلاحیت، آکٹوپس کی ذہانت کا نیا ثبوت
امریکہ کی ڈارٹماؤتھ یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آکٹوپس آئینے کی مدد سے پوشیدہ شکار کا سراغ ل...
یونیسیف اور ای پی آئی بلوچستان کے اشتراک سے صحافیوں کیلئے “مس انفارمیشن مینجمنٹ اور روٹین ایمونائزیشن” پر تربیتی ورکشاپ
یونیسیف اور ای پی آئی بلوچستان کے اشتراک سے صحافیوں کیلئے “مس انفارمیشن مینجمنٹ اور روٹین ایمونائزیشن” پر تربیتی ورکشاپ
ای پی آئی ہیڈکوارٹر کوئٹہ میں یونیسیف اور ای پی آئی بلوچستان کے تعاون سے بلوچستان کے 37 اضلاع سے تعلق رکھنے وا...
آرٹیمس ٹو مشن کا دلچسپ پہلو: “رائز” نامی ننھا کھلونا بھی خلاء کی جانب روانہ
آرٹیمس ٹو مشن کا دلچسپ پہلو: “رائز” نامی ننھا کھلونا بھی خلاء کی جانب روانہ
ناسا کے آرٹیمس ٹو مشن میں “رائز” نامی ایک چھوٹا نرم کھلونا شامل کیا گیا ہے جو خلا میں پہنچ کر بے وزنی (زیرو گر...
خاموشی کو آواز دینے والی ٹیکنالوجی: فالج کے مریضوں کے لیے اے آئی کا نیا تحفہ
خاموشی کو آواز دینے والی ٹیکنالوجی: فالج کے مریضوں کے لیے اے آئی کا نیا تحفہ
جدید سائنس اور مصنوعی ذہانت نے ایک اور ایسا سنگِ میل عبور کر لیا ہے جو فالج اور بولنے میں دشواری کا شکار افراد...
ڈرون کا مؤثر توڑ، چین نے مائیکروویو شعاعوں والا جدید ہتھیار تیار کر لیا
ڈرون کا مؤثر توڑ، چین نے مائیکروویو شعاعوں والا جدید ہتھیار تیار کر لیا
چین نے ڈرون حملوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک جدید ہتھیار تیار کر لیا ہے، جو مائیکروویو شعاعوں کے ذریعے بیک وق...