تصویر کے پیچھے چھپی لڑکی

تصویر کے پیچھے چھپی لڑکی

شربت گل، جسے دنیا نے “افغان گرل” کے نام سے جانا، صرف ایک تصویر نہیں بلکہ جنگ، جلاوطنی اور مسلسل محرومی کی جیتی جاگتی کہانی ہے۔ نیشنل جیوگرافک کے سرورق پر آنے والی اس تصویر نے عالمی توجہ تو حاصل کی، مگر اس کے پیچھے موجود انسان کی زندگی دہائیوں تک نظرانداز رہی۔ یہ تحریر اسی خاموش جدوجہد کو سامنے لاتی ہے اور یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا ہم دکھ کو صرف علامت بنا کر بھول جاتے ہیں؟

تحریر: سیدہ نتاشا

سترہ برس تک دنیا نے ایک چہرہ دیکھا،
مگر اُس چہرے کے پیچھے چھپی زندگی کو نہ جان سکی۔
1984 میں سوویت۔افغان جنگ کے دوران پاکستان کے ایک پناہ گزین کیمپ میں بیٹھی ایک کم عمر افغان لڑکی، جنگ کی تباہ کاریوں کا خاموش شکار تھی۔ اس کا گھر اجڑ چکا تھا، مستقبل دھندلا تھا اور زندگی صرف زندہ رہنے کی جدوجہد بن چکی تھی۔ اسی لمحے فوٹوگرافر اسٹیو میک کری نے اس کی تصویر کھینچی ،سبز آنکھیں، جن میں خوف بھی تھا، وقار بھی اور ایک خاموش مزاحمت بھی۔


1985 میں یہ تصویر نیشنل جیوگرافک کے سرورق پر شائع ہوئی تو دنیا چونک اٹھی۔ وہ لڑکی کسی نام، کسی شناخت کے بغیر صرف ایک علامت بن گئی۔۔ 
“افغان گرل”
جنگ، جلاوطنی اور انسانی المیے کی علامت۔
مگر اس کا اصل نام شربت گل تھا،
اور اس وقت اس کی عمر صرف بارہ برس تھی۔
دنیا نے سترہ سال تک اس کی آنکھوں کو دیکھا، مگر اس کی زندگی کو نہیں۔ بالآخر 2002 میں اسٹیو میک کری نے اسے دوبارہ تلاش کیا۔ اب وہ افغانستان کے پہاڑوں میں رہنے والی ایک ماں تھی۔ اس کا چہرہ وقت، غربت، محرومی اور مسلسل نقل مکانی کی کہانی سنا رہا تھا، مگر آنکھیں وہی تھیں۔ آئرس اسکین کے ذریعے اس کی شناخت کی تصدیق ہوئی اور “پہلے اور بعد” کی تصاویر دنیا بھر میں پھیل گئیں۔
لوگوں نے سمجھا شاید وقت اس پر مہربان رہا،
لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔
شربت گل نے کم عمری میں شادی کی،
عدم استحکام میں بچوں کی پرورش کی،
شوہر کو کھویا،
اور دہائیوں تک ایسی سرحدوں کے درمیان زندگی گزاری جنہوں نے کبھی اسے مکمل طور پر قبول نہیں کیا۔
2016 میں، پاکستان میں 35 برس گزارنے کے بعد، اسے جعلی دستاویزات کے الزام میں گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا گیا۔ 2017 میں افغان حکومت نے اسے ایک گھر دیا، مگر 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد، وہ ایک بار پھر ہجرت پر مجبور ہوئی لیکن اس بار اٹلی کی جانب۔
شربت گل کی کہانی ہمیں ایک کڑا سوال سوچنے پر مجبور کرتی ہے:
کیا کسی انسان کی تکلیف کو ایک علامت بنا دینا درست ہے؟
اور جب دنیا کسی تصویر کو اپنا لیتی ہے، تو کیا اس تصویر میں موجود انسان کی زندگی بھی اس کی ملکیت بن جاتی ہے؟
شربت گل کبھی صرف ایک تصویر نہیں تھی۔
وہ جنگ کی پیداوار ایک بچی تھی،
جو پوری عمر دنیا کی نگاہوں کا بوجھ اٹھائے جیتی رہی۔
یہ تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
تصاویر یادگار ہوتی ہیں،
مگر ان کے پیچھے موجود زندگیاں اکثر فراموش کر دی جاتی ہیں۔


Related News

قلات میں آڑو کی فصل عروج پر، مقامی معیشت کو فروغ ملنے لگا
قلات میں آڑو کی فصل عروج پر، مقامی معیشت کو فروغ ملنے لگا
قلات میں آڑو کی چنائی زور و شور سے جاری ہے اور روزانہ بڑی مقدار میں تازہ پھل ملک کی مختلف منڈیوں میں بھیجا جا...
مصنوعی ذہانت: تعلیم کے لیے نعمت یا چیلنج؟
مصنوعی ذہانت: تعلیم کے لیے نعمت یا چیلنج؟
مصنوعی ذہانت تعلیم کے شعبے میں سیکھنے کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے، مگر اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال طلبہ کی تخ...
نوشکی کے میٹھے انگوروں کی بہار، فصل کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع
نوشکی کے میٹھے انگوروں کی بہار، فصل کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع
بلوچستان کے ضلع نوشکی کے اعلیٰ معیار اور قدرتی مٹھاس سے بھرپور انگور ملک بھر کی منڈیوں میں پہنچنا شروع ہوگئے ہ...
بڑھتی ہوئی گرمی اور عالمی حدت: تبدیلی کا آغاز ہم سے
بڑھتی ہوئی گرمی اور عالمی حدت: تبدیلی کا آغاز ہم سے
شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی اب پوری دنیا کے لیے ایک سنگین حقیقت بن چکی ہے۔ اگر ہم توانائی اور پانی کے درست ا...
قانونِ مفروضہ : کیا ہماری سوچ واقعی ہماری حقیقت بن سکتی ہے؟
قانونِ مفروضہ : کیا ہماری سوچ واقعی ہماری حقیقت بن سکتی ہے؟
قانونِ مفروضہ (لا آف اسمپشن) کے مطابق انسان جن خیالات اور یقین کو اپنی حقیقت مان لیتا ہے، وہی اس کے رویوں اور...
بارکھان کے مشہور گاجا سیب چند دنوں میں ملک بھر کی منڈیوں کی زینت بن جائیں گے
بارکھان کے مشہور گاجا سیب چند دنوں میں ملک بھر کی منڈیوں کی زینت بن جائیں گے
ضلع بارکھان کے علاقے بغاؤ میں گاجا سیب کی فصل تیار ہو چکی ہے اور آئندہ چند روز میں توڑائی کے بعد یہ ملک بھر کی...