یونیسف کا انتباہ: صرف عمر کی شرط لگانے سے بچے آن لائن محفوظ نہیں رہیں گے

یونیسف کا انتباہ: صرف عمر کی شرط لگانے سے بچے آن لائن محفوظ نہیں رہیں گے

دنیا بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کی کم از کم عمر کے تعین کے حوالے سے ہونے والی بحث تیز ہوتی جا رہی ہے، اور متعدد ممالک نئے قوانین متعارف بھی کروا رہے ہیں۔ تاہم اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے حکومتوں کو خبردار کیا ہے کہ صرف عمر کی پابندیاں لگانا بچوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ رکھنے کے لیے کافی نہیں۔ یونیسف کے مطابق ایسے قوانین اچھے ارادوں کے ساتھ بنائے جاتے ہیں، لیکن بعض صورتوں میں یہ غیر متوقع خطرات بھی پیدا کر سکتے ہیں اور بچوں کی آن لائن حفاظت کو کمزور بنا دیتے ہیں۔ یونیسف کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا بچوں کے لیے صرف ایک تفریحی سہولت نہیں بلکہ بہت سے بچوں، خصوصاً تنہائی یا سماجی مشکلات کا شکار بچوں کے لیے تعلیم، رابطے، کھیل اور خود اظہار کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اگر پلیٹ فارمز تک رسائی کو سختی سے محدود کیا جائے تو بچے غیر محفوظ یا کم ریگولیٹڈ ایپس اور ویب سائٹس کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں، جس سے ان کو مزید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ اکثر بچے پابندیوں کے باوجود بھی مشترکہ ڈیوائسز، متبادل اکاؤنٹس یا ورک اراؤنڈز کے ذریعے سوشل میڈیا استعمال کر لیتے ہیں، جس سے نگرانی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ یونیسف نے زور دیا کہ عمر کی پابندیاں ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ضرور ہو سکتی ہیں مگر یہ حکمت عملی صرف اسی پر منحصر نہیں ہونی چاہیے۔ بچوں کو آن لائن نقصان سے بچانے، ان کی پرائیویسی کا احترام کرنے اور انہیں خطرناک پلیٹ فارمز کی طرف دھکیلنے سے روکنے کے لیے جامع اقدامات ضروری ہیں۔ ادارے نے واضح کیا کہ قوانین صرف عمر کی شرط نافذ کر دینے سے مؤثر نہیں بنتے،ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن، حفاظت کے نظام، اور مواد کی نگرانی کو بہتر بنانا ہوگا۔ یونیسف نے حکومتوں، ریگولیٹرز اور ٹیک کمپنیوں سے اپیل کی کہ وہ بچوں اور والدین کے ساتھ مل کر ایسے ڈیجیٹل ماحول تشکیل دیں جو محفوظ، شمولیتی ہوں اور بچوں کے تمام حقوق کا مکمل احترام کرتے ہوں۔

یونیسف کا انتباہ: صرف عمر کی شرط لگانے سے بچے آن لائن محفوظ نہیں رہیں گے

رپورٹ : اقصی بلوچ

دنیا بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کی کم از کم عمر کے تعین کے حوالے سے ہونے والی بحث تیز ہوتی جا رہی ہے، اور متعدد ممالک نئے قوانین متعارف بھی کروا رہے ہیں۔ تاہم اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے حکومتوں کو خبردار کیا ہے کہ صرف عمر کی پابندیاں لگانا بچوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ رکھنے کے لیے کافی نہیں۔ یونیسف کے مطابق ایسے قوانین اچھے ارادوں کے ساتھ بنائے جاتے ہیں، لیکن بعض صورتوں میں یہ غیر متوقع خطرات بھی پیدا کر سکتے ہیں اور بچوں کی آن لائن حفاظت کو کمزور بنا دیتے ہیں۔

یونیسف کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا بچوں کے لیے صرف ایک تفریحی سہولت نہیں بلکہ بہت سے بچوں، خصوصاً تنہائی یا سماجی مشکلات کا شکار بچوں کے لیے تعلیم، رابطے، کھیل اور خود اظہار کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اگر پلیٹ فارمز تک رسائی کو سختی سے محدود کیا جائے تو بچے غیر محفوظ یا کم ریگولیٹڈ ایپس اور ویب سائٹس کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں، جس سے ان کو مزید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ اکثر بچے پابندیوں کے باوجود بھی مشترکہ ڈیوائسز، متبادل اکاؤنٹس یا ورک اراؤنڈز کے ذریعے سوشل میڈیا استعمال کر لیتے ہیں، جس سے نگرانی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔
یونیسف نے زور دیا کہ عمر کی پابندیاں ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ضرور ہو سکتی ہیں مگر یہ حکمت عملی صرف اسی پر منحصر نہیں ہونی چاہیے۔ بچوں کو آن لائن نقصان سے بچانے، ان کی پرائیویسی کا احترام کرنے اور انہیں خطرناک پلیٹ فارمز کی طرف دھکیلنے سے روکنے کے لیے جامع اقدامات ضروری ہیں۔ ادارے نے واضح کیا کہ قوانین صرف عمر کی شرط نافذ کر دینے سے مؤثر نہیں بنتے،ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن، حفاظت کے نظام، اور مواد کی نگرانی کو بہتر بنانا ہوگا۔
یونیسف نے حکومتوں، ریگولیٹرز اور ٹیک کمپنیوں سے اپیل کی کہ وہ بچوں اور والدین کے ساتھ مل کر ایسے ڈیجیٹل ماحول تشکیل دیں جو محفوظ، شمولیتی ہوں اور بچوں کے تمام حقوق کا مکمل احترام کرتے ہوں۔


Related News

آرٹیمس ٹو مشن کا دلچسپ پہلو: “رائز” نامی ننھا کھلونا بھی خلاء کی جانب روانہ
آرٹیمس ٹو مشن کا دلچسپ پہلو: “رائز” نامی ننھا کھلونا بھی خلاء کی جانب روانہ
ناسا کے آرٹیمس ٹو مشن میں “رائز” نامی ایک چھوٹا نرم کھلونا شامل کیا گیا ہے جو خلا میں پہنچ کر بے وزنی (زیرو گر...
خاموشی کو آواز دینے والی ٹیکنالوجی: فالج کے مریضوں کے لیے اے آئی کا نیا تحفہ
خاموشی کو آواز دینے والی ٹیکنالوجی: فالج کے مریضوں کے لیے اے آئی کا نیا تحفہ
جدید سائنس اور مصنوعی ذہانت نے ایک اور ایسا سنگِ میل عبور کر لیا ہے جو فالج اور بولنے میں دشواری کا شکار افراد...
ڈرون کا مؤثر توڑ، چین نے مائیکروویو شعاعوں والا جدید ہتھیار تیار کر لیا
ڈرون کا مؤثر توڑ، چین نے مائیکروویو شعاعوں والا جدید ہتھیار تیار کر لیا
چین نے ڈرون حملوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک جدید ہتھیار تیار کر لیا ہے، جو مائیکروویو شعاعوں کے ذریعے بیک وق...
کیا ٹھنڈے پانی سے نہانے سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے؟ ماہرین نے خبردار کر دیا
کیا ٹھنڈے پانی سے نہانے سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے؟ ماہرین نے خبردار کر دیا
ٹھنڈے پانی سے نہانا بعض افراد کے لیے تازگی اور چستی کا باعث بن سکتا ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ عمل...
گوگل نے جیمنائی میں سب سے بڑی اپ ڈیٹ متعارف کروا دی
گوگل نے جیمنائی میں سب سے بڑی اپ ڈیٹ متعارف کروا دی
گوگل نے اپنے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈل جیمنائی میں اب تک کی سب سے بڑی اپ ڈیٹ متعارف کرائی ہے جسے ’پرسنل انٹیلی...
پاکستان نے اپنا پہلا سرکاری اے آئی اوتار ‘لیلا’ لانچ کر دیا
پاکستان نے اپنا پہلا سرکاری اے آئی اوتار ‘لیلا’ لانچ کر دیا
وفاقی حکومت نے پاکستان کا پہلا سرکاری مصنوعی ذہانت (اے آئی) اوتار 'لیلا' لانچ کر دیا ہے۔ وزیرِ اطلاعات و ٹیکنا...