گوادر میں نایاب سمندری بگولا، بارش کا امکان

گوادر میں نایاب سمندری بگولا، بارش کا امکان

گوادر اور اس کے قریبی علاقوں میں ایک نایاب موسمی منظر دیکھا گیا، جہاں سمندر کے اوپر سمندری بگولا (واٹر اسپاؤٹ) بن گیا۔ یہ منظر مغربی کم دباؤ کے سسٹم، جسے ویسٹرن ڈسٹربنس کہا جاتا ہے، کے اثرات کے دوران سامنے آیا جس نے شہریوں اور ماہرینِ موسمیات کی توجہ حاصل کی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی سسٹم کے باعث آئندہ 24 گھنٹوں میں گوادر اور گرد و نواح میں بارش ہونے کا امکان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے موسم میں فضا میں نمی بڑھ جاتی ہے جس سے اس طرح کے بگولے بن سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق لینڈ اسپاؤٹ اور واٹر اسپاؤٹ ایک جیسے گھومتے ہوئے ہوائی ستون ہوتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ واٹر اسپاؤٹ سمندر یا پانی پر بنتا ہے جبکہ لینڈ اسپاؤٹ زمین پر بنتا ہے۔ یہ عام بگولوں کے مقابلے میں کمزور ہوتے ہیں اور عموماً خود ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ سابق ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات سردار سرفراز کے مطابق گوادر میں نظر آنے والا یہ بگولا مغربی بلوچستان میں کم دباؤ کے سسٹم کی وجہ سے بنا۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی پاکستان کے ساحلی علاقوں میں ایسے مناظر دیکھے جا چکے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ یہ بگولے عموماً خطرناک نہیں ہوتے، تاہم سمندر میں موجود چھوٹی کشتیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ماہی گیروں اور کشتی چلانے والوں کو احتیاط برتنے اور ایسے مناظر سے فاصلہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

گوادر میں نایاب سمندری بگولا، بارش کا امکان

رپورٹ: اقصی بلوچ

گوادر اور اس کے قریبی علاقوں میں ایک نایاب موسمی منظر دیکھا گیا، جہاں سمندر کے اوپر سمندری بگولا (واٹر اسپاؤٹ) بن گیا۔ یہ منظر مغربی کم دباؤ کے سسٹم، جسے ویسٹرن ڈسٹربنس کہا جاتا ہے، کے اثرات کے دوران سامنے آیا جس نے شہریوں اور ماہرینِ موسمیات کی توجہ حاصل کی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی سسٹم کے باعث آئندہ 24 گھنٹوں میں گوادر اور گرد و نواح میں بارش ہونے کا امکان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے موسم میں فضا میں نمی بڑھ جاتی ہے جس سے اس طرح کے بگولے بن سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق لینڈ اسپاؤٹ اور واٹر اسپاؤٹ ایک جیسے گھومتے ہوئے ہوائی ستون ہوتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ واٹر اسپاؤٹ سمندر یا پانی پر بنتا ہے جبکہ لینڈ اسپاؤٹ زمین پر بنتا ہے۔ یہ عام بگولوں کے مقابلے میں کمزور ہوتے ہیں اور عموماً خود ہی ختم ہو جاتے ہیں۔

سابق ڈائریکٹر جنرل محکمہ موسمیات سردار سرفراز کے مطابق گوادر میں نظر آنے والا یہ بگولا مغربی بلوچستان میں کم دباؤ کے سسٹم کی وجہ سے بنا۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی پاکستان کے ساحلی علاقوں میں ایسے مناظر دیکھے جا چکے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ یہ بگولے عموماً خطرناک نہیں ہوتے، تاہم سمندر میں موجود چھوٹی کشتیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ماہی گیروں اور کشتی چلانے والوں کو احتیاط برتنے اور ایسے مناظر سے فاصلہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 


Related News

آرٹیمس ٹو مشن کا دلچسپ پہلو: “رائز” نامی ننھا کھلونا بھی خلاء کی جانب روانہ
آرٹیمس ٹو مشن کا دلچسپ پہلو: “رائز” نامی ننھا کھلونا بھی خلاء کی جانب روانہ
ناسا کے آرٹیمس ٹو مشن میں “رائز” نامی ایک چھوٹا نرم کھلونا شامل کیا گیا ہے جو خلا میں پہنچ کر بے وزنی (زیرو گر...
خاموشی کو آواز دینے والی ٹیکنالوجی: فالج کے مریضوں کے لیے اے آئی کا نیا تحفہ
خاموشی کو آواز دینے والی ٹیکنالوجی: فالج کے مریضوں کے لیے اے آئی کا نیا تحفہ
جدید سائنس اور مصنوعی ذہانت نے ایک اور ایسا سنگِ میل عبور کر لیا ہے جو فالج اور بولنے میں دشواری کا شکار افراد...
ڈرون کا مؤثر توڑ، چین نے مائیکروویو شعاعوں والا جدید ہتھیار تیار کر لیا
ڈرون کا مؤثر توڑ، چین نے مائیکروویو شعاعوں والا جدید ہتھیار تیار کر لیا
چین نے ڈرون حملوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک جدید ہتھیار تیار کر لیا ہے، جو مائیکروویو شعاعوں کے ذریعے بیک وق...
کیا ٹھنڈے پانی سے نہانے سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے؟ ماہرین نے خبردار کر دیا
کیا ٹھنڈے پانی سے نہانے سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے؟ ماہرین نے خبردار کر دیا
ٹھنڈے پانی سے نہانا بعض افراد کے لیے تازگی اور چستی کا باعث بن سکتا ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ عمل...
گوگل نے جیمنائی میں سب سے بڑی اپ ڈیٹ متعارف کروا دی
گوگل نے جیمنائی میں سب سے بڑی اپ ڈیٹ متعارف کروا دی
گوگل نے اپنے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ماڈل جیمنائی میں اب تک کی سب سے بڑی اپ ڈیٹ متعارف کرائی ہے جسے ’پرسنل انٹیلی...
پاکستان نے اپنا پہلا سرکاری اے آئی اوتار ‘لیلا’ لانچ کر دیا
پاکستان نے اپنا پہلا سرکاری اے آئی اوتار ‘لیلا’ لانچ کر دیا
وفاقی حکومت نے پاکستان کا پہلا سرکاری مصنوعی ذہانت (اے آئی) اوتار 'لیلا' لانچ کر دیا ہے۔ وزیرِ اطلاعات و ٹیکنا...