سردی کے موسم میں کسی چیز کو چھوتے ہی کرنٹ کیوں لگتا ہے؟
کیا کبھی دروازے کا ہینڈل پکڑتے ہوئے یا کسی سے ہاتھ ملاتے ہوئے اچانک کرنٹ سا محسوس ہوا ہے؟ اگر ایسا ہوا ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ کوئی خطرناک برقی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عام سائنسی مظہر ہے جسے اسٹیٹک الیکٹرک چارج کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سردیوں یا شدید گرمی کے خشک موسم میں ہوا میں نمی کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں ہمارے کپڑوں، جوتوں، بالوں یا روزمرہ استعمال کی اشیاء پر الیکٹران جمع ہونے لگتے ہیں۔ جب ہم کسی دھاتی چیز، دروازے کے ہینڈل، موبائل فون یا کسی دوسرے انسان کو چھوتے ہیں تو یہ جمع شدہ الیکٹران اچانک خارج ہو جاتے ہیں، جس سے ہمیں ہلکا سا جھٹکا محسوس ہوتا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جو بچپن میں غبارے کو بالوں پر رگڑنے کے بعد دیوار سے چپکتے دیکھنے پر ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی فائبر کے کپڑے، خشک بال اور کم نمی والا ماحول اسٹیٹک چارج بننے کے امکانات کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ بارش یا مرطوب موسم میں یہ مسئلہ تقریباً ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ نمی فضا میں موجود اضافی چارج کو خود ہی زائل کر دیتی ہے۔ اسی لیے سردیوں میں یا خشک موسم میں یہ جھٹکے زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ اس قسم کے جھٹکے عام طور پر نقصان دہ نہیں ہوتے، البتہ یہ پریشانی کا باعث ضرور بن سکتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے ماہرین جلد کو خشک ہونے سے بچانے، موئسچرائزر استعمال کرنے، زیادہ پانی پینے، مصنوعی کپڑوں کے بجائے کاٹن یا ریشم پہننے اور گھروں میں ہیومیڈیفائر استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلی بار اگر کسی چیز کو چھوتے ہوئے ہلکا سا جھٹکا لگے تو اسے بجلی کا مسئلہ نہ سمجھیں۔ یہ محض اسٹیٹک چارج ہے، جو خشک موسم میں ہونے والا ایک قدرتی سائنسی عمل ہے۔
سردی کے موسم میں کسی چیز کو چھوتے ہی کرنٹ کیوں لگتا ہے؟
رپورٹ : اقصی بلوچ
کیا کبھی دروازے کا ہینڈل پکڑتے ہوئے یا کسی سے ہاتھ ملاتے ہوئے اچانک کرنٹ سا محسوس ہوا ہے؟ اگر ایسا ہوا ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ کوئی خطرناک برقی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عام سائنسی مظہر ہے جسے اسٹیٹک الیکٹرک چارج کہا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق سردیوں یا شدید گرمی کے خشک موسم میں ہوا میں نمی کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں ہمارے کپڑوں، جوتوں، بالوں یا روزمرہ استعمال کی اشیاء پر الیکٹران جمع ہونے لگتے ہیں۔ جب ہم کسی دھاتی چیز، دروازے کے ہینڈل، موبائل فون یا کسی دوسرے انسان کو چھوتے ہیں تو یہ جمع شدہ الیکٹران اچانک خارج ہو جاتے ہیں، جس سے ہمیں ہلکا سا جھٹکا محسوس ہوتا ہے۔
یہی وہ عمل ہے جو بچپن میں غبارے کو بالوں پر رگڑنے کے بعد دیوار سے چپکتے دیکھنے پر ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی فائبر کے کپڑے، خشک بال اور کم نمی والا ماحول اسٹیٹک چارج بننے کے امکانات کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔
بارش یا مرطوب موسم میں یہ مسئلہ تقریباً ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ نمی فضا میں موجود اضافی چارج کو خود ہی زائل کر دیتی ہے۔ اسی لیے سردیوں میں یا خشک موسم میں یہ جھٹکے زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔
اچھی خبر یہ ہے کہ اس قسم کے جھٹکے عام طور پر نقصان دہ نہیں ہوتے، البتہ یہ پریشانی کا باعث ضرور بن سکتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے ماہرین جلد کو خشک ہونے سے بچانے، موئسچرائزر استعمال کرنے، زیادہ پانی پینے، مصنوعی کپڑوں کے بجائے کاٹن یا ریشم پہننے اور گھروں میں ہیومیڈیفائر استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلی بار اگر کسی چیز کو چھوتے ہوئے ہلکا سا جھٹکا لگے تو اسے بجلی کا مسئلہ نہ سمجھیں۔ یہ محض اسٹیٹک چارج ہے، جو خشک موسم میں ہونے والا ایک قدرتی سائنسی عمل ہے۔