کوئٹہ میں بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا ہوٹلوں اور فاسٹ فوڈ پوائنٹس کے خلاف کریک ڈاؤن تیز
کوئٹہ میں صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بی ایف اے حاجی نور محمد دمڑ کی خصوصی ہدایت پر بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے ہوٹلوں اور فاسٹ فوڈ پوائنٹس کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 74 مراکز کی جانچ پڑتال کی، 20 مراکز کے خلاف کارروائی، 20 سے زائد پوائنٹس کو جرمانے جبکہ غیر معیاری اور مضر اشیاء ضبط کر کے تلف کی گئیں۔
رپورٹ: سیدہ نتاشا
صوبائی وزیر خوراک و چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ کی خصوصی ہدایت پر بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جانب سے کوئٹہ میں ہوٹلوں اور فاسٹ فوڈ پوائنٹس کے خلاف خصوصی کریک ڈاؤن مہم جاری ہے۔ اس دوران شہر کے مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر 74 کھانے پینے کے مراکز کی جامع جانچ پڑتال کی گئی، جبکہ قوانین کی خلاف ورزی پر مزید 20 مراکز کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔
فوڈ اتھارٹی حکام کے مطابق خلاف ورزیوں پر 13 ہوٹلوں، 6 پیزا پوائنٹس اور 1 فاسٹ فوڈ کارنر کو جرمانے عائد کیے گئے۔ کارروائی کے دوران ناقص صفائی، خراب اور ناقابلِ استعمال کوکنگ آئل، مضر رنگوں، چائنیز نمک اور غیر معیاری اجزاء کے استعمال پر سخت ایکشن لیا گیا۔
مزید برآں غیر صحت بخش اسٹوریج اور حفظانِ صحت کے ناقص انتظامات پر بھی مراکز کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ متعدد فوڈ پوائنٹس بغیر فوڈ بزنس لائسنس کے کام کرتے پائے گئے۔ اس دوران بڑی مقدار میں مضر چائنیز نمک ضبط کر کے جبکہ ناقابلِ استعمال کوکنگ آئل موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔
فوڈ اتھارٹی نے معمولی خامیوں پر 18 مراکز کو اصلاحی نوٹسز بھی جاری کیے۔ کریک ڈاؤن کی یہ کارروائیاں نواں کلی، ہزار گنجی، سیٹلائٹ ٹاؤن، طوغی روڈ، میکانگی روڈ، گولی مار چوک، بروری روڈ اور ایئرپورٹ روڈ کے علاقوں میں کی گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوام کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے یہ مہم آئندہ بھی جاری رہے گی۔