گورنر بلوچستان کا تربت یونیورسٹی کے تیسرے کانووکیشن میں گولڈ میڈلسٹ طلبہ کیلئے نقد انعامات کا اعلان
گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے یونیورسٹی آف تربت کے تیسرے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے گولڈ میڈلز حاصل کرنے والے گریجویٹس کیلئے فی کس ایک لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کیا۔ انہوں نے تربت یونیورسٹی کو جنوبی بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کی روشن مثال قرار دیتے ہوئے وائس چانسلر اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔
رپورٹ: سیدہ نتاشا
گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے یونیورسٹی آف تربت کے تیسرے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے گولڈ میڈلز حاصل کرنے والے گریجویٹس کیلئے فی کس ایک لاکھ روپے نقد انعام دینے کا اعلان کیا، جس پر یونیورسٹی کے طلبہ اور والدین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
گورنر بلوچستان نے کہا کہ تربت یونیورسٹی جنوبی بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے اور یہ حقیقت قابلِ فخر ہے کہ یہاں 59 فیصد طالبات اعلیٰ تعلیم سے مستفید ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ جغرافیائی دوری کبھی بھی صلاحیت اور ذہانت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
انہوں نے وائس چانسلر ڈاکٹر گل حسن اور ان کی پوری ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں نوجوانوں کو جدید اور معیاری تعلیم فراہم کرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔ گورنر مندوخیل کا کہنا تھا کہ صوبے کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں ایک جدید اور تکنیکی طور پر مضبوط معاشرے کی بنیاد ہیں۔
کانووکیشن میں 765 گریجویٹس اور 24 ایم فل اسکالرز میں اسناد تقسیم کی گئیں جبکہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو گولڈ میڈلز پہنائے گئے۔ گورنر بلوچستان نے فارغ التحصیل طلبہ پر زور دیا کہ وہ امن، رواداری اور ترقی کے سفیر بنیں اور معاشرتی و معاشی مسائل کے حل میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔
اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، وزیر منصوبہ بندی میر ظہور احمد بلیدی، ممبر قومی اسمبلی پھلین بلوچ، پارلیمانی سیکرٹری حاجی برکت رند، وائس چانسلرز، ماہرین تعلیم، فیکلٹی ممبران اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔
آخر میں گورنر بلوچستان نے یونیورسٹی میں بلیدہ کے طلبہ کیلئے بس کی چابیاں وائس چانسلر کے حوالے کیں، یونیورسٹی کے صحن میں درخت لگایا اور سینیٹ ہال کا افتتاح بھی کیا۔