وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے تحت پنک اور گرین بس سروس جاری، سیکرٹری ٹرانسپورٹ حیات کاکڑ
سیکرٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان حیات کاکڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنک اور گرین بس سروس منصوبے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق چل رہے ہیں۔ کوئٹہ کے لیے 21 نئی بسیں لائی گئی ہیں جن میں سے 5 پنک بسیں خواتین کے لیے مختص ہیں۔ پنک بس سروس خواتین کو محفوظ اور باوقار سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے، جبکہ مستقبل میں اس منصوبے کو دیگر شہروں تک بھی توسیع دی جائے گی۔
رپورٹ: سیدہ نتاشا
سیکرٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان حیات کاکڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو بہتر، محفوظ اور باوقار سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنک اور گرین بس سروس منصوبے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے عین مطابق کامیابی سے چل رہے ہیں۔
حیات کاکڑ کے مطابق کوئٹہ کے لیے مجموعی طور پر 21 نئی بسیں لائی گئی ہیں، جن میں سے 5 پنک بسیں خصوصی طور پر خواتین کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل گرین بس میں خواتین اور مرد ایک ساتھ سفر کرتے تھے، تاہم خواتین کی سہولت اور تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے پنک بس سروس کا آغاز کیا گیا ہے۔
سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ پنک بس سروس بلیلی سے جامعہ بلوچستان سریاب تک چلائی جائے گی۔ پنک بسوں میں کرایہ وصول کرنے کے لیے خواتین کنڈیکٹر تعینات ہوں گی، جبکہ حکومت کی کوشش ہے کہ مستقبل میں پنک بسوں کے لیے خواتین ڈرائیورز بھی مقرر کی جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گرین اور پنک بس سروسز کے روٹس جاری کر دیے گئے ہیں اور بسوں میں روزانہ 10 ہزار سے زائد مسافر سفر کریں گے۔ پنک بس سروس میں آئندہ دنوں میں مزید توسیع کی جائے گی اور اس کا روٹ مسافروں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا جائے گا۔
حیات کاکڑ نے بتایا کہ تربت، گوادر، خضدار، ڈیرہ بگٹی اور سوئی میں بھی گرین اور پنک بس سروس شروع کی جائے گی۔ بس اسٹاپس پر مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ بیٹھنے کے پوائنٹس قائم کیے جائیں گے تاکہ مسافروں کو مزید سہولت میسر آ سکے۔
سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے یہ بھی اعلان کیا کہ کوئٹہ میں پیپلز ٹرین سروس کا جلد افتتاح کیا جائے گا، جو سریاب سے کچلاک تک چلائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام منصوبے شہریوں کو جدید اور معیاری سفری سہولیات فراہم کرنے کی جانب اہم قدم ہیں۔