کوئٹہ میں آبی بحران سے نمٹنے کے لیے واٹر سیکیورٹی ایکشن پلان پر اہم پیش رفت
کوئٹہ میں پانی کی قلت اور زیرِ زمین پانی کی گرتی سطح سے نمٹنے کے لیے واٹر سیکیورٹی ایکشن پلان پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، جدید آبپاشی نظام اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے قیام پر اتفاق کیا گیا۔
کوئٹہ میں آبی بحران سے نمٹنے کے لیے واٹر سیکیورٹی ایکشن پلان پر پیش رفت
رپورٹ: عروبہ شہزاد
کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی صدارت میں کوئٹہ میں پانی کی صورتحال بہتر بنانے اور مستقبل کے آبی خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں زیرِ زمین پانی کی تیزی سے گرتی سطح، پانی کے غیر قانونی استعمال اور ضیاع کی روک تھام پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران واٹر سیکیورٹی اور ریزیلینس سے متعلق ایک ہنگامی حکمتِ عملی پر بات چیت کی گئی۔ حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، ریچارج پوائنٹس قائم کرنے اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس لگانے جیسے اقدامات کو ترجیح دی جائے گی۔ اس کے ساتھ زرعی شعبے میں پانی کی بچت کے لیے جدید طریقۂ آبپاشی، خصوصاً ڈرپ اور اسپرنکلر سسٹم کو فروغ دینے پر بھی زور دیا گیا۔کمشنر کوئٹہ نے ہدایت کی کہ منصوبے کے لیے مختص فنڈز کو شفاف اور مؤثر انداز میں خرچ کیا جائے تاکہ نتائج واضح طور پر سامنے آ سکیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے عالمی ادارے جیسے ورلڈ بینک، اقوام متحدہ، یورپی یونین اور مختلف غیر سرکاری تنظیمیں بھی تعاون کریں گی۔
مزید برآں، متعلقہ محکموں واسا، ایریگیشن، زراعت، جنگلات اور پی ڈی ایم اے کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ واٹر کمیٹی بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا جو منصوبے پر عملدرآمد اور نگرانی کی ذمہ داری سنبھالے گی۔حکام کے مطابق اس ایکشن پلان کا مقصد نہ صرف پانی کے موجودہ ذخائر کا تحفظ ہے بلکہ برساتی اور سیلابی پانی کو کارآمد بنا کر پانی کی قلت پر قابو پانا اور ممکنہ سیلابی نقصانات سے شہری آبادی اور املاک کو محفوظ رکھنا بھی ہے۔