پی ٹی اے کی نئی ہدایات: سم کی ملکیت اور قانونی ذمہ داری لازم.
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے موبائل سمز کے استعمال سے متعلق قوانین مزید سخت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہر صارف صرف اپنے نام پر رجسٹرڈ سم ہی استعمال کر سکتا ہے۔ کسی دوسرے کے نام کی سم کا استعمال غیر قانونی ہوگا اور سم کے ذریعے ہونے والی تمام سرگرمیوں کی قانونی ذمہ داری سم مالک پر عائد ہوگی۔
رپورٹ: ماہ رنگ بلوچ
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں موبائل سمز کے استعمال سے متعلق نئی اور سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔ پی ٹی اے کے مطابق اب ہر موبائل صارف کے لیے لازم ہوگا کہ وہ صرف اپنے نام پر رجسٹرڈ سم کارڈ ہی استعمال کرے، جبکہ کسی دوسرے شخص کے نام پر جاری کردہ سم کا استعمال قانوناً ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ سم کے ذریعے ہونے والی ہر قسم کی سرگرمی، چاہے وہ کالز ہوں، پیغامات ہوں یا انٹرنیٹ کا استعمال، اس کی مکمل قانونی ذمہ داری اسی فرد پر عائد ہوگی جس کے شناختی کارڈ پر وہ سم رجسٹرڈ ہے۔ اگر سم کا غلط یا غیر قانونی استعمال سامنے آتا ہے تو متعلقہ سم مالک کو قانون کے مطابق جوابدہ ہونا پڑے گا۔
پی ٹی اے نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے موبائل کنکشنز پر کڑی نظر رکھیں اور کسی بھی غیر مجاز شخص کو اپنی سم استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔ اتھارٹی کے مطابق یہ اقدام قومی سلامتی کو یقینی بنانے اور موبائل فون کے ذریعے ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
آخر میں پی ٹی اے نے خبردار کیا ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ صارفین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے ٹیلی کمیونیکیشن نظام کے استحکام میں اپنا کردار ادا کریں۔