شایاک دوست: نوشکی سے قومی پرچم تک

شایاک دوست: نوشکی سے قومی پرچم تک

نوشکی سے تعلق رکھنے والے فٹبالر شایاک دوست نے محنت، لگن اور صلاحیت کے بل بوتے پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی پہچان بنائی۔ ان کی کامیابی بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے امید کا پیغام ہے اور پاکستانی فٹبال میں موجود صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔

تحریر : اِرم سہیل

پاکستان میں جب کھیلوں کا ذکر ہوتا ہے تو عموماً کرکٹ تمام توجہ سمیٹ لیتی ہے، لیکن ملک کے بعض خطے ایسے بھی ہیں جہاں نوجوانوں کے خواب فٹ بال کے گرد گھومتے ہیں۔ بلوچستان انہی علاقوں میں شامل ہے، جہاں محدود وسائل اور سہولیات کے باوجود فٹ بال کا جنون نسل در نسل منتقل ہوتا آرہا ہے۔ اسی سرزمین نے ایک ایسے نوجوان کو جنم دیا جس نے اپنے عزم، محنت اور صلاحیت کے بل بوتے پر قومی سطح پر پہچان بنائی۔ یہ نوجوان شایاک دوست ہے۔

یکم مئی 2002 کو ضلع نوشکی کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والے شایاک دوست کا تعلق جمالدینی بلوچ قبیلے سے ہے۔ انہوں نے اپنے فٹ بال سفر کا آغاز مقامی کلب بلوچ نوشکی سے کیا۔ بلوچستان کے دیگر نوجوانوں کی طرح ان کے پاس جدید اکیڈمیاں، معیاری گراؤنڈز یا بین الاقوامی معیار کی تربیت موجود نہیں تھی، لیکن کھیل سے محبت اور آگے بڑھنے کا جذبہ ضرور موجود تھا۔

شایاک دوست کی کامیابی محض ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ بلوچستان کی فٹ بال روایت کی نمائندگی کرتی ہے۔ نوشکی، چمن، کوئٹہ، پنجگور اور صوبے کے دیگر علاقوں نے ہمیشہ باصلاحیت فٹ بالر پیدا کیے ہیں۔ ان علاقوں میں فٹ بال صرف ایک کھیل نہیں بلکہ مقامی ثقافت کا حصہ ہے۔ گلیوں، محلوں اور کھلے میدانوں میں کھیلنے والے نوجوان بڑے خواب رکھتے ہیں، مگر اکثر مواقع کی کمی ان کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔

شایاک دوست نے مقامی سطح سے قومی سطح تک کا سفر طے کیا اور بعد ازاں بین الاقوامی کلب فٹ بال میں بھی قدم رکھا۔ افغانستان اور پھر بنگلہ دیش کی لیگ میں کھیلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی فٹ بالرز میں صلاحیت کی کمی نہیں، بلکہ انہیں مناسب مواقع اور پلیٹ فارم درکار ہیں۔ ان کی بیرونِ ملک موجودگی پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے امید کا پیغام ہے کہ محنت اور مستقل مزاجی سے عالمی سطح تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔

قومی ٹیم کے لیے کھیلتے ہوئے شایاک دوست نے اہم مواقع پر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ 2026 میں انہوں نے میانمار کے خلاف اپنا پہلا بین الاقوامی گول اسکور کیا، جبکہ بعد ازاں افغانستان کے خلاف بھی قومی ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک ایسے ملک کے لیے جہاں فٹ بال مسلسل انتظامی اور مالی مشکلات کا شکار رہا ہو، ایسے لمحات کھلاڑیوں اور شائقین دونوں کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوتے ہیں۔

پاکستانی فٹ بال کی مجموعی صورتحال بھی توجہ کی متقاضی ہے۔ فیفا کی جانب سے مختلف ادوار میں پاکستان فٹ بال فیڈریشن کی معطلی، انتظامی تنازعات اور غیر مستحکم ڈومیسٹک ڈھانچے نے کھیل کی ترقی کو شدید متاثر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان عالمی فٹ بال درجہ بندی میں نچلے درجوں میں موجود ہے۔ تاہم اس کے باوجود ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً بلوچستان، سے باصلاحیت کھلاڑی سامنے آرہے ہیں۔ یہ حقیقت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلہ صلاحیت کا نہیں بلکہ نظام اور مواقع کا ہے۔

شایاک دوست کی کہانی نوجوان نسل کے لیے ایک اہم سبق بھی رکھتی ہے۔ یہ ثابت کرتی ہے کہ پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان بھی قومی اور بین الاقوامی سطح پر کامیابی حاصل کرسکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں مواقع میسر آئیں۔ ان کی کامیابی اس تصور کو بھی چیلنج کرتی ہے کہ بڑے شہروں کے بغیر کھیلوں میں ترقی ممکن نہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان میں فٹ بال اکیڈمیوں، کوچنگ پروگراموں اور ضلعی سطح کے مقابلوں کو فروغ دیا جائے۔ اگر حکومت، نجی شعبہ اور کھیلوں کے ادارے مشترکہ طور پر سرمایہ کاری کریں تو بلوچستان سے درجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں شایاک دوست سامنے آسکتے ہیں۔

شایاک دوست صرف ایک فٹ بالر نہیں، بلکہ اس حقیقت کی زندہ مثال ہیں کہ صلاحیت کسی مخصوص شہر یا طبقے کی میراث نہیں ہوتی۔ پاکستان کے دور افتادہ علاقوں میں بے شمار نوجوان اپنے خوابوں کے ساتھ موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ضروری مواقع فراہم کرنے کو تیار ہیں؟

Keywords : Shayak Dost, Pakistan Football, Nushki Balochistan, Youth Inspiration


Related News

گوادر میں فیفا ورلڈ کپ اسکریننگ، شائقین کے لیے بڑی اسکرینوں کا خصوصی انتظام
گوادر میں فیفا ورلڈ کپ اسکریننگ، شائقین کے لیے بڑی اسکرینوں کا خصوصی انتظام
گوادر میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کے موقع پر مختلف مقامات پر بڑی اسکرینیں اور جدید ساؤنڈ سسٹم نصب کیے گئے ہیں۔ یہ ا...
نیشنل جونیئر کراٹے چیمپئن شپ: بلوچستان نے 7 گولڈ میڈلز جیت کر میدان مار لیا
نیشنل جونیئر کراٹے چیمپئن شپ: بلوچستان نے 7 گولڈ میڈلز جیت کر میدان مار لیا
پشاور میں منعقدہ نیشنل جونیئر کراٹے چیمپئن شپ میں بلوچستان کے کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے...
قومی فٹبالر علی آغا کا کوئٹہ میں شاندار استقبال، پاکستان کی تاریخی فتح پر جشن
قومی فٹبالر علی آغا کا کوئٹہ میں شاندار استقبال، پاکستان کی تاریخی فتح پر جشن
ڈائمنڈ جوبلی فٹبال ٹورنامنٹ میں تاریخی کامیابی کے بعد قومی فٹبالر علی آغا کوئٹہ پہنچے، جہاں ان کا پرتپاک استقب...
پاکستان نے ڈائمنڈ جوبلی فٹبال ٹورنامنٹ کا تاریخی ٹائٹل جیت لیا، فائنل میں افغانستان کو 0-2 سے شکست
پاکستان نے ڈائمنڈ جوبلی فٹبال ٹورنامنٹ کا تاریخی ٹائٹل جیت لیا، فائنل میں افغانستان کو 0-2 سے شکست
مالدیپ میں منعقدہ ڈائمنڈ جوبلی فٹبال ٹورنامنٹ کے فائنل میں پاکستان نے افغانستان کو 0-2 سے شکست دے کر اپنی تاری...
سیکرٹری کھیل دُرا بلوچ کا شہید فٹبالر سید متک آغا کے اہلِ خانہ کیلئے مالی امداد کا اعلان
سیکرٹری کھیل دُرا بلوچ کا شہید فٹبالر سید متک آغا کے اہلِ خانہ کیلئے مالی امداد کا اعلان
سیکرٹری کھیل و امور نوجوانان بلوچستان دُرا بلوچ نے شہید نوجوان فٹبالر سید متک آغا کے اہلِ خانہ کے لیے مالی معا...
ڈاکٹر محب الرحمان کاکڑ شعبہ اسپورٹس میں بلوچستان کے پہلے پی ایچ ڈی ڈاکٹر بن گئے
ڈاکٹر محب الرحمان کاکڑ شعبہ اسپورٹس میں بلوچستان کے پہلے پی ایچ ڈی ڈاکٹر بن گئے
ڈاکٹر محب الرحمان کاکڑ بلوچستان کے شعبہ اسپورٹس میں پی ایچ ڈی کرنے والے پہلے فرد بن گئے ہیں، جو صوبے کے لیے ای...