ماشکیل میں مزدوروں کے بہیمانہ قتل کی وزیراعلیٰ اور گورنر بلوچستان کی شدید مذمت

ماشکیل میں مزدوروں کے بہیمانہ قتل کی وزیراعلیٰ اور گورنر بلوچستان کی شدید مذمت

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور گورنر جعفر خان مندوخیل نے ماشکیل میں نہتے مزدوروں کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت، ریاست اور قومی یکجہتی پر حملہ قرار دیا۔ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے، متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی اور دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے ضلع واشک کی تحصیل ماشکیل میں نہتے اور بے گناہ مزدوروں کے بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت، ریاست اور پاکستان کی وحدت پر حملہ قرار دیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ شہید ہونے والے صرف پنجابی مزدور نہیں تھے بلکہ وہ پاکستان کے شہری، محنت کش اور ہمارے اپنے بھائی تھے۔ انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں پر حملہ کسی ایک صوبے یا قومیت پر نہیں بلکہ پاکستان کی وحدت، آئین اور ریاست پر حملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزادی کی نام نہاد تحریک کا لبادہ اوڑھنے والے دہشت گرد نہتے مزدوروں کو نشانہ بنا کر اپنے مکروہ عزائم دنیا کے سامنے بے نقاب کر چکے ہیں۔ ان کا مقصد کسی حق کی جدوجہد نہیں بلکہ دہشت، نفرت، خونریزی اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ ریاست دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور پاکستانی شہریوں کے خون کے ہر قطرے کا حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں ملوث ہر مجرم کو انجام تک پہنچایا جائے گا، ریاست کی رٹ پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی مزید فیصلہ کن ہوگی، جبکہ پاکستان کی ریاست دہشت گردی کے سامنے نہ کبھی جھکی ہے اور نہ جھکے گی، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔

دریں اثنا، گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے بھی ماشکیل میں مزدوروں کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مزدور محض مزدور نہیں بلکہ اپنے پورے خاندان کا واحد کفیل اور سہارا ہوتا ہے، اور ایک مزدور کا نقصان اس کے اہل خانہ کے لیے شدید معاشی اور سماجی مشکلات کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے مزدوروں پر حملے کو ظالمانہ اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ غم کی اس گھڑی میں حکومت بلوچستان اور پوری قوم سوگوار خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔

 

Keywords : Mashkel Attack, Balochistan Government, Labourers Killings, Counterterrorism


Related News

زیارت حملے کے شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک
زیارت حملے کے شہداء کی نمازِ جنازہ ادا، سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک
زیارت دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ میں ادا کی گئی، جس کے...
بلوچستان کے آبی حصے کی فراہمی کے لیے اعلیٰ سطحی وفد کا سکھر بیراج کا ہنگامی دورہ
بلوچستان کے آبی حصے کی فراہمی کے لیے اعلیٰ سطحی وفد کا سکھر بیراج کا ہنگامی دورہ
وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر صوبائی وفد نے سکھر بیراج کا دورہ کیا، جہاں سندھ ایریگیشن حکام نے 24 سے 48 گھنٹو...
زیارت : دو سرکاری صحت مراکز شہدائے پولیس کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ
زیارت : دو سرکاری صحت مراکز شہدائے پولیس کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ
وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر زیارت میں رورل ہیلتھ سینٹر احمدون اور بی ایچ یو کاوس غربی کے نام شہدائے پولیس ک...
کوئلہ پھاٹک چوک کا نام تبدیل، "شہدائے زیارت چوک" رکھ دیا گیا
کوئلہ پھاٹک چوک کا نام تبدیل، "شہدائے زیارت چوک" رکھ دیا گیا
زیارت پولیس کے شہداء کی قربانیوں کے اعتراف میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ نے کوئلہ پھاٹک چوک کا نام تبدیل کرک...
بلوچستان میں 23 جولائی تک بارشوں اور فلیش فلڈ کا خدشہ، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا
بلوچستان میں 23 جولائی تک بارشوں اور فلیش فلڈ کا خدشہ، پی ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا
پی ڈی ایم اے نے 17 سے 23 جولائی تک بلوچستان کے متعدد اضلاع میں بارشوں، آندھی، گرج چمک اور فلیش فلڈ کے خدشے کے...
حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ، شہدائے زیارت کے مطالبات پر عملدرآمد اور جوڈیشل کمیشن پر اتفاق
حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی میں معاہدہ، شہدائے زیارت کے مطالبات پر عملدرآمد اور جوڈیشل کمیشن پر اتفاق
حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد تحریری معاہدہ طے پا گیا، جس میں شہدائے زیارت کے...