وزیراعلیٰ بلوچستان نے ہیلتھ کارڈز پر علاج کی بندش کا نوٹس لے لیا
سرفراز بگٹی نے اسپتالوں میں علاج معطل کرنے کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دے دیا وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے کے مختلف اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈز کے تحت مریضوں کے علاج معطل کرنے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت اور ہیلتھ کارڈ پروگرام کے حکام سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبائی وزیر صحت کو بھی ہدایت کی ہے کہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ ہیلتھ کارڈ پر کسی بھی مریض کا علاج رکاوٹ کا شکار نہ ہو۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان کے تمام اسپتالوں کے بقایاجات کو فوری طور پر ادا کیا جائے تاکہ مریضوں کو بروقت اور بہتر طبی سہولیات میسر آ سکیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ صحت بلوچستان کے ہیلتھ کارڈ کے تحت 5 ارب روپے سے زائد کی رقم اب تک نجی اسپتالوں کو جاری نہیں کی جا سکی، جس کے باعث کراچی سمیت دیگر شہروں کے نجی اسپتالوں میں بلوچستان کے مریضوں کا علاج بند ہونے لگا تھا۔ نجی اسپتالوں نے علاج معطل کرنے سے قبل حکومت کو 15 دن کی مہلت دی تھی، جبکہ بلوچستان ہیلتھ کارڈ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن پر تقریباً 6 ارب روپے کے واجبات کے مقروض ہے۔ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ بلوچستان نے اب تک صرف ایک ارب روپے فراہم کیے ہیں، جبکہ باقی 5 ارب روپے کی رقم 6 ماہ گزرنے کے باوجود ادا نہیں کی گئی۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ فنڈز جلد ہی اسٹیٹ لائف انشورنس کو جاری کر دیے جائیں گے اور بلوچستان کے نجی اسپتالوں نے علاج بند نہیں کیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے اس مسئلے پر فوری توجہ مریضوں کی سہولت اور صحت کے شعبے میں بہتری کی کوششوں کو ظاہر کرتی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے ہیلتھ کارڈز پر علاج کی بندش کا نوٹس لے لیا
سرفراز بگٹی نے اسپتالوں میں علاج معطل کرنے کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دے دیا
رپورٹ: اقصی بلوچ
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے کے مختلف اسپتالوں میں ہیلتھ کارڈز کے تحت مریضوں کے علاج معطل کرنے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے محکمہ صحت اور ہیلتھ کارڈ پروگرام کے حکام سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبائی وزیر صحت کو بھی ہدایت کی ہے کہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ ہیلتھ کارڈ پر کسی بھی مریض کا علاج رکاوٹ کا شکار نہ ہو۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان کے تمام اسپتالوں کے بقایاجات کو فوری طور پر ادا کیا جائے تاکہ مریضوں کو بروقت اور بہتر طبی سہولیات میسر آ سکیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ صحت بلوچستان کے ہیلتھ کارڈ کے تحت 5 ارب روپے سے زائد کی رقم اب تک نجی اسپتالوں کو جاری نہیں کی جا سکی، جس کے باعث کراچی سمیت دیگر شہروں کے نجی اسپتالوں میں بلوچستان کے مریضوں کا علاج بند ہونے لگا تھا۔
نجی اسپتالوں نے علاج معطل کرنے سے قبل حکومت کو 15 دن کی مہلت دی تھی، جبکہ بلوچستان ہیلتھ کارڈ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن پر تقریباً 6 ارب روپے کے واجبات کے مقروض ہے۔ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ بلوچستان نے اب تک صرف ایک ارب روپے فراہم کیے ہیں، جبکہ باقی 5 ارب روپے کی رقم 6 ماہ گزرنے کے باوجود ادا نہیں کی گئی۔
حکام نے یقین دلایا ہے کہ فنڈز جلد ہی اسٹیٹ لائف انشورنس کو جاری کر دیے جائیں گے اور بلوچستان کے نجی اسپتالوں نے علاج بند نہیں کیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے اس مسئلے پر فوری توجہ مریضوں کی سہولت اور صحت کے شعبے میں بہتری کی کوششوں کو ظاہر کرتی ہے۔