نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال

نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال

نِپاہ وائرس ایک نہایت خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کی شرحِ اموات 40 سے 75 فیصد تک ہو سکتی ہے اور تاحال اس کی کوئی ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں۔ وائرس زیادہ تر پھل کھانے والی چیڑیوں سے پھیلتا ہے اور قریبی انسانی رابطے سے بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ جنوری 2026 میں بھارت میں چند کیسز سامنے آئے جنہیں کنٹرول کر لیا گیا ہے، جبکہ پاکستان میں اب تک کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا اور خطرہ انتہائی کم ہے۔

رپورٹ: سیدہ نتاشا

نِپاہ وائرس، جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا ایک خطرناک وائرس ہے، ایک بار پھر جنوبی ایشیا میں تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ یہ وائرس Paramyxoviridae فیملی اور Henipavirus جینس سے تعلق رکھتا ہے، جس کی پہلی بڑی وبا 1998-99 میں ملائیشیا میں سامنے آئی تھی۔
ماہرین کے مطابق نِپاہ وائرس کا بنیادی ذریعہ پھل کھانے والی  چیڑیاں ہیں جو بغیر بیمار ہوئے وائرس کو اپنے تھوک، پیشاب اور فضلے کے ذریعے پھیلاتی ہیں۔ انسانوں میں انفیکشن آلودہ پھل کھانے، خام کھجور کا گڑ پینے، یا متاثرہ جانوروں اور انسانوں سے قریبی رابطے کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال کے دوران طبی عملہ سب سے زیادہ خطرے میں ہوتا ہے۔


نِپاہ وائرس کی علامات میں بخار، سر درد، متلی، سانس کی دشواری اور شدید کیسز میں دماغ کی سوزش شامل ہے، جو کوما یا موت کا سبب بن سکتی ہے۔ اس وائرس کی شرحِ اموات 40 سے 75 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ بچ جانے والے افراد میں طویل المدتی دماغی مسائل بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
جنوری 2026 میں بھارت کے مغربی بنگال میں نِپاہ وائرس کے دو کیسز کی تصدیق ہوئی، دونوں مریض نرسیں تھیں۔ حکام کے مطابق ایک مریض کی حالت بہتر ہو رہی ہے جبکہ دوسرے کی حالت تشویشناک ہے۔ تقریباً 200 قریبی رابطوں کے ٹیسٹ کیے گئے جو منفی آئے، جس کے بعد حکام نے صورتحال کو قابو میں قرار دیا ہے۔
ان واقعات کے بعد پاکستان سمیت کئی ایشیائی ممالک نے ایئرپورٹس پر اسکریننگ سخت کر دی ہے۔ پاکستان میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کے مطابق اب تک ملک میں نِپاہ وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا اور مجموعی طور پر خطرہ بہت کم ہے، خاص طور پر بلوچستان اور کوئٹہ میں۔
ماہرین صحت نے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے، جن میں خام کھجور کے گڑ سے پرہیز، چیڑیوں سے آلودہ پھل نہ کھانا، اور بیمار افراد سے قریبی رابطے سے گریز شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے اقدامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔


Related News

وفاقی حکومت کا بلوچستان کے 150 نرسنگ طلبہ کی ڈگریاں بحال کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت کا بلوچستان کے 150 نرسنگ طلبہ کی ڈگریاں بحال کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے بلوچستان کے 150 نرسنگ طلبہ کو درپیش تعلیمی بحران ختم کرتے ہوئے ان کی ڈگری کی حیثیت بحال کرنے او...
ڈاکٹروں کا احتجاج ختم، کوئٹہ کے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز اور طبی خدمات بحال
ڈاکٹروں کا احتجاج ختم، کوئٹہ کے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز اور طبی خدمات بحال
سول ہسپتال کوئٹہ سمیت دیگر سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں نے احتجاج ختم کرتے ہوئے او پی ڈیز، آپریشن تھیٹرز اور دی...
انسدادِ پولیو مہم: ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کا فرضی کوریج اور جعلی فنگر مارکنگ پر سخت ایکشن
انسدادِ پولیو مہم: ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کا فرضی کوریج اور جعلی فنگر مارکنگ پر سخت ایکشن
ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی کی زیرِ صدارت اجلاس میں انسدادِ پولیو مہم کے دوسرے روز کی کارکردگی، حفاظتی ٹیک...
بلوچستان میں پولیو کے خلاف اقدامات تیز، اعلیٰ سطحی اجلاس میں ویکسینیشن مہم کا جائزہ
بلوچستان میں پولیو کے خلاف اقدامات تیز، اعلیٰ سطحی اجلاس میں ویکسینیشن مہم کا جائزہ
وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق اور پولیو پروگرام کے اعلیٰ حکام نے چیف سیکریٹری بلوچ...
بلوچستان میں سات روزہ خصوصی پولیو بوسٹر مہم آج سے شروع، 7 لاکھ 30 ہزار سے زائد بچوں کو ویکسین دی جائے گی
بلوچستان میں سات روزہ خصوصی پولیو بوسٹر مہم آج سے شروع، 7 لاکھ 30 ہزار سے زائد بچوں کو ویکسین دی جائے گی
ایمرجنسی آپریشنز سینٹر بلوچستان کی جانب سے 13 جولائی سے 142 ہائی رسک یونین کونسلز میں سات روزہ خصوصی پولیو بوس...
گورنر بلوچستان نے ڈیجیٹل ہیلتھ انفارمیشن سسٹم اور الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ ماڈیول کا افتتاح کر دیا
گورنر بلوچستان نے ڈیجیٹل ہیلتھ انفارمیشن سسٹم اور الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ ماڈیول کا افتتاح کر دیا
گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے صحت کے شعبے میں شفافیت، جوابدہی اور مؤثر نگرانی کے لیے ڈیجیٹل ہیلتھ انفارمی...