محکمہ صحت بلوچستان اور عالمی بینک کا بنیادی صحت کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق
محکمہ صحت بلوچستان اور عالمی بینک کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں بنیادی صحت کی سہولیات، جاری اصلاحات اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے صحت کی خدمات، عوامی رسائی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
کوئٹہ: محکمہ صحت حکومتِ بلوچستان اور عالمی بینک کے درمیان بنیادی صحت کی سہولیات کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں جاری صحت اصلاحات، درپیش چیلنجز اور مستقبل کے شراکتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کی صدارت سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمٰن نے کی، جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری صحت ثاقب کاکڑ، چیف ایگزیکٹو آفیسر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر ایم بی دھاریجو، عالمی بینک کی سینئر ہیلتھ اسپیشلسٹس ڈاکٹر عالیہ کاشف اور ڈاکٹر شاہ کوہ مینگل، ڈاکٹر سارہ شہزاد، صوبائی کوآرڈینیٹر بی ایچ ایم آئی ایس ڈاکٹر ابابگر بلوچ، پی ایم یو ہیلتھ کے شیراز خان، پی پی ایچ آئی کے ڈائریکٹر ہارون کاسی اور محکمہ صحت کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں بلوچستان کے منفرد صحت کے نظام اور درپیش چیلنجز، جن میں صوبے کا وسیع رقبہ، منتشر آبادی، دور دراز علاقوں تک رسائی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور مالی وسائل کی محدود دستیابی شامل ہیں، پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید مضبوط بنانے، عوام کی معیاری طبی خدمات تک رسائی بہتر بنانے، کمیونٹی آؤٹ ریچ کو وسعت دینے، انسانی وسائل کی استعداد کار بڑھانے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔
اجلاس میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ محکمہ صحت بلوچستان اور عالمی بینک باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرتے ہوئے ایسے پائیدار منصوبوں پر کام کریں گے جو صوبے میں صحت کے شعبے کی بہتری اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں مؤثر کردار ادا کریں۔

Keywords : Balochistan Health Department, World Bank, Primary Healthcare, Health Reforms