سال 2025: بلوچستان کے صحت کے شعبے میں نمایاں اور تاریخی پیش رفت

سال 2025: بلوچستان کے صحت کے شعبے میں نمایاں اور تاریخی پیش رفت

سال 2025 کے دوران بلوچستان کے صحت کے شعبے میں صوبائی حکومت کی مؤثر پالیسیوں، اصلاحاتی اقدامات اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ بچوں کی حفاظتی ٹیکہ کاری میں واضح اضافہ، صوبے کا پولیو فری رہنا، ڈیجیٹل صحت کے نظام کا نفاذ، ہسپتالوں میں جدید سہولیات کی فراہمی اور ہیلتھ کارڈ پروگرام کے ذریعے مفت علاج جیسے اقدامات نے عوامی صحت کے نظام کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔

رپورٹ: سیدہ نتاشا

سال 2025 بلوچستان کے صحت کے شعبے کے لیے ایک اہم اور مثبت سال ثابت ہوا، جس دوران صوبائی حکومت کی مؤثر حکمتِ عملی اور اصلاحاتی اقدامات کے باعث صحت کے مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت ریکارڈ کی گئی۔ بچوں کی مکمل حفاظتی ٹیکہ کاری کی شرح میں تاریخی اضافہ دیکھنے میں آیا، جو 2024 میں اڑتیس فیصد سے بڑھ کر 2025 میں سینتالیس فیصد تک پہنچ گئی، جسے گزشتہ پانچ برسوں کے جمود کے خاتمے سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد خان بگٹی کے مطابق یہ کامیابی بہتر منصوبہ بندی، فیلڈ عملے کی محنت اور مؤثر نگرانی کا نتیجہ ہے۔
پولیو کے خلاف مہم میں بھی بلوچستان نے نمایاں کامیابی حاصل کی اور صوبہ پورا سال پولیو فری رہا۔ سال بھر میں انسدادِ پولیو کی چھ قومی مہمات کامیابی سے مکمل کی گئیں، جن کے دوران لاکھوں بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے گئے، جبکہ آخری مہم میں پچیس لاکھ سے زائد بچوں کی کوریج کو یقینی بنایا گیا۔ ملک بھر میں پولیو کیسز میں کمی میں بلوچستان کی کارکردگی کو نمایاں قرار دیا جا رہا ہے۔


ڈیجیٹل صحت کے شعبے میں بھی سال 2025 کے دوران اہم پیش رفت ہوئی، جہاں صوبہ بھر میں ڈیجیٹل ہیلتھ انفارمیشن سسٹمز نافذ کیے گئے، جس سے صحت سے متعلق ڈیٹا کی دستیابی، شفافیت اور نگرانی کے نظام میں بہتری آئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت اور نفسیاتی معاونت کی سروسز کا باقاعدہ آغاز بھی کیا گیا، جو عوامی صحت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی بہتری کے لیے کوئٹہ کے بڑے سرکاری ہسپتال میں دل کے امراض کے علاج اور جھلسنے کے مریضوں کے لیے جدید سہولیات فراہم کی گئیں، جبکہ تپِ دق کے کنٹرول کے لیے قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنایا گیا۔ ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت لاکھوں خاندانوں کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی گئی، جس سے غریب اور متوسط طبقے کو براہِ راست فائدہ پہنچا۔
اسی طرح پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو کے تحت بنیادی صحت مراکز میں ادویات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا گیا، جبکہ یونیسف، عالمی ادارۂ صحت اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے غذائیت، ماں اور بچے کی صحت اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے پروگرامز بھی مؤثر انداز میں جاری رہے۔ مجموعی طور پر سال 2025 میں بلوچستان کے صحت کے شعبے نے کئی اہم سنگِ میل عبور کیے، جو آنے والے برسوں میں بہتر اور معیاری صحت سہولیات کی فراہمی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔


Related News

بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام: صوبائی صحت کے نظام میں بہتری کی جانب اہم پیش رفت
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے تحت صوبے بھر میں ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے، جس کا مقصد عوام کو معیاری...
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
ورلڈ کینسر ڈے 2026: "یونائیٹڈ بائی یونیک" — آگاہی اور بروقت تشخیص کا عالمی پیغام
4 فروری کو دنیا بھر میں ورلڈ کینسر ڈے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد کینسر سے متعلق آگاہی، ابتدائی تشخیص اور بروق...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس کی صدارت
صوبائی وزیرِ صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ کی زیرِ صدارت پی پی ایچ آئی سے متعلق اجلاس میں دیہی اور دور دراز علاقو...
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
جم کے بغیر صحت مند رہیں: روزمرہ زندگی میں آسان ورزشیں
مصروف زندگی میں ہر کسی کے لیے جم جانا ممکن نہیں، لیکن صحت مند رہنے کے لیے یہ ضروری بھی نہیں۔ روزمرہ روٹین میں...
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کا ٹراما سینٹر کا دورہ، زخمیوں کی عیادت
صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے ٹراما سینٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے زیرِ علاج زخمی افراد کی عیادت کی۔ اس م...
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس: ایک مہلک زونوٹک خطرہ اور جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال
نِپاہ وائرس ایک نہایت خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کی شرحِ اموات 40 سے 7...